اپنا گراں نیاز کشمیری

ملک جموں کشمیر روح زمین پر اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے ،سروں پر لہراتی بل کھاتی ندیاں، لہلاتے ہرے بھرے کھیتوں ، جھرنوں آبشاروں،رنگ برنگے پھولوں ،نغمے گنگناتی مست ہواوں ،آسمانوں سے باتیں کرتے برف پوش پہاڑوں اور ان پہاڑوں کے دامن میں سیب آخروٹ آلوبخارے آڑو اور خوبانیوں کے باغات اور میٹھے پانی کے چشمے یقینا جنت کامنظرتوہے اور وہاں کے معصوم بے ضرر ،محبتوں کے مہمار ومہمان نواز لوگ کسی دوسرے ستارے کی مخلوق لگتے ہیں ،مملکت جموں کشمیر کی ہزاروں سالہ تہذیب و تمدن و روایات کے آمین ان لوگوں کے گھرآج بھی کچے اور یہ لوگ من کے سچے ہیں ہردور میں خودانحصاری و خوداری کی دولت سے مالامال رہے دور حاضرکی خرافات سے مبراہ یہ گاوں واسی’’ساڑے گرائیں نیں لوک‘‘ ہی ہماری حقیقی پہچان ہیں ،اور ہمارے گاوں ہماری آبادی کا پچاسی فیصد ہیں جوکہ منقسم ملک کے کسی بھی حصے میں کسی بھی جماعت کو ایوان اقتدار تک پہچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور گزشتہ پون صدی میں جتنے سیاسی بونوں نے اپنا قدبڑھایا اپنے خاندانوں اور نسلوں کے لئے مال بنایا وہ سب ہمارے گاوں ہی کے مرہون منت ہے ۔بدقسمتی سے ہماری آبادی کا یہی بڑا حصہ ہر دور میں اپنی معصومیت وسادہ لوہی کے باعث استحصال کا شکار رہاہے ایک وقت میں انہیں بتایا گیا کہ ملک میں جمہوریت بحال ہوتے ہی آپ کو دور حاضر کی تمام آسائش گھر پر میسر ہونگی بعد ازاں مملکت کی جبری تقسیم گلگت مظفرآباد و سرینگر کے ایوان ہائے اقتدار کی راہداریوں میں ملک کی اسی بے ضرر آبادی کیساتھ کھیل کھیلے جانے لگے اوران کی روزمرہ زندگیوں کو اسقدرمشکل بنا دیا گیا کہ وہ خود کو اور کود کے حقوق سے بیگانہ ہو گئے ،مسائل کے انمبار نے انہیں سوچنے کی مہلت ہی نہ دی کے ان کامجرم کون ہے ،پانچ برسوں بعد کالی جیکٹ سفیدکلف زدہ کرتے پر کالی جیکٹس پہنے کچھ لوگ گاوں کی طرف تشریف لے جاتے ہیں تو گاوں کے یہ لوگ انہیں بے پناہ عزت دیتے، سرآنکھوں پر بٹھاتے جیسے آسمان سے فرشتے اتر آئے ہوں ،وہ (ریڈکارپٹ) سے تو ناآشنا ہیں لیکن ان پنجسالہ مہمانوں کی راہ میں خود کو بچھا دیاکرتے ہیں اور وہ سیاسی بونے انہیں کالے پائپ گھر تک سڑک بجلی کے پول وغیرہ کے سہانے خواب دکھا کر ان سے ووٹ لیتے نہیں ’’ لوٹتے‘‘ ہیں ساتھ ان کے خلوص و محبتوں پر ڈکیتی ڈال کر واپس ہولیتے ہیں اور پھر پانچ برس تک انہیں وہ محبتیں و عقیدتیں یاد نہیں رہتی ۔ایک کلومیٹر سڑک کے نام پر چار چار بار ووٹ لوٹتے ہیں اور بیسیوں برس اقتدار کے مزے، لکژری لائف اور اپنی نسلوں کے لئے سرمایہ سمیٹتے ہیں اور ہمارا گاوں واسی ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے جیسا صدی پہلے تھا ۔ایسا یونہی چلتے کچھ برسوں بعدملک میں ایک نئی سوچ و فکر سامنے آئی اور ان کا کہنا تھا کہ ملک متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ تقسیم بھی ہے اور منقسم حصوں میں مختلف ممالک کے کلونیل قوانین کے تحت انتظامی امور چلائے جاتے ہیں ایسے کنٹرولڈ نظام کے تمام کردار چاہے وہ وطن ہی کے باسی ہوں وہ ان کے کٹھ پتلی(بے اختیار) ہوتے ہیںاس لئے ایسے سیاسی منظر نامے میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل کا حل ہونا خارج از امکان ہے اس لئے آج ہی کے نہیں بلکہ آئندہ نسلوں تک کے مسائل کا پائیدار حل یہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال اس خوب صورت ملک کے منقسم ٹکڑوں کو دوبارہ یکجا کرکہ اس کی وحدت کو بحال کیا جائے اوراس ملک کے عوام کو اپنے وسائل پر مکمل اختیار دلایا جائے تب وطن کی سبھی اکائیوں میں بسنے والوں کے مسائل بتدریج برابری کی بنیاد پر حل ہو سکتے ہیں ۔اس انقلابی سوچ کے بانیوں کو پہلے پہل بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھا اور انہوں نے اپنے اعلی کردار سے اپنے نظریات کی سچائی کو ثابت کیا، ہر مشکل کا جوانمردی سے سامنا کیا ،ایک عرصہ بعد ان نظریات کو قبولیت حاصل ہوئی اور عام لوگ یہ سمجھنے لگے کہ ہمارے ملک و قوم کے تمام تر مسائل کا دیرپا و قابل عمل حل یہی ہے اس کے علاوہ آج تک جو کچھ کہا گیا جو خواب دکھائے گئے وہ مفادپرست عناصر کی جانب سے عوام کو گمراہ کر نے کی ایک چال تھی ۔
اس انقلابی تحریک نے بہت کم عرصے میں تاریخی کامیابیاں سمیٹی اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ ملا لیا ،یہاں تک کہ قابض ممالک کے طاقتور مراکز میں بھی اس کی بازگشت سنائی دینے لگی اور وہ اس تحریک کو کچلنے کے لئے میدان میں اترے اور انہیں اس میں بڑی کامیابیاں ملنے لگی ۔ یہ وہ وقت تھا جب تحریک آزادی دوسری نسل کو منتقل ہونے کے مرحلے میں داخل ہوچکی تھی ،ان حساس امور کا ایک ساتھ سامنا کافی کٹھن ثابت ہوا ،تنگی وقت نے تحریک کو موقع ہی نہ دیا کہ وہ کارکن سازی و تنظیم سازی کی بنیادوں کو منظم و مربوط کر تے ہوئے آمدہ بڑے امتحانوں کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ،یوں یہ تحریک و فکر ملک کی آبادی کا 80%فیصد جو دیہات میں آباد ہیں تک بہتر انداز میں نہ پہنچ پائی دانستہ یا نادانستہ گاوں ،یونین کونسل سمیت تحصیل تک کی نمائندگی کے فیصلے شہرکے بند کمروں میں ہوتے رہے اور یوں ملک کی بڑی آبادی کو تحریک میں اپنا کردار ادا کرنے سے روک دیا گیا ۔یہ تاریخی غلطی تحریک کے لئے ایک بڑی نا ہمواری و ناکامی کا موجب بنی جس کے باعث تحریک کے اہم مناصب پر ایسے لوگ براجمان ہوگئے جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وہ تحریکی رموزاوقاف سے نا بلد تھے جنہیں آزادی کی راہ میں دوست دشمن کا شعور نہ تھا ،اور تحریک یکسو ہونے کے بجائے ناہموار راستوں میںٹھوکریں کھانے لگی یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور تحریکی عوامل سمجھ ہی نہیں پارہے کہ وہ اس انقلابی و نظریاتی تحریک جسے عوام نے سراہا تھا سینے سے لگایا تھااور قربانیاں دی تھیں برسہا برس گزر جانے کے بعد توقعات کے برخلاف عام عوام سے اپنا حقیقی رشتہ استوار کیوں نہ کر سکی؟ پانی پلوں سے کافی بہہ چکا دشمن تیزی سے کھیل ختم شد کرنے میں محو،مذید وقت دینے کے موڈ میں بلکل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انقلاب کے داعی کردارگومگو کی کیفیت میں نظر آتے ہیں وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیا کریں انہیں چاہے کہ تاریخ کے اوراق پلٹ کررکھ دیں ،اور اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے میں تاخیر نہ کریںاور اپنی تنظیموں اور تحاریک کو پہلی فرست میںگاوں لے جائیں، جب آپ نے تحریک کو گاوں سے جوڑ لیا تو یاد رکھیو ! تمیں دنیا بھر کی تمام سپر پاورز مل کربھی ہرا نہیں سکیں گی ،یہ دو تین پڑوسی کیا چیز ہیں ۔

شیئر کریں

Top