پنجاب اسمبلی میں تاریخ ساز قانون سازی چوہدری جاوید

وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا ویژن ہے کہ عام آدمی کی بہتری کیلئے قانون سازی کی جائے اسی ویژن کومد نظر رکھتے ہوئے پنجاب اسمبلی نے دو سال میں 24 اجلاس منعقد کرکے اہم نوعیت کے 63 بل منظورکئے پنجاب اسمبلی نے تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن ہونے کے باوجود ملک میں سب سے زیادہ قانون سازی کی ہے 1950 کے شوگر کنٹرول ایکٹ میں ترمیم کر کے شوگر مافیا کے ہاتھوں سالہا سال سے جاری کسان کے استحصال کے آگے بند باندھ دیاگیا ہے اب شوگر ملیں وقت پر چلیں گی اورکسان کو گنے کی پوری قیمت وقت پر ملے گی جبکہ پنجاب راوی اربن ڈویلپنٹ ایکٹ معاشی اور سماجی لحاظ سے گیم چینجر ثابت ہو گا اور پنجاب کا نیا لوکل گورنمنٹ ایکٹ نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرے گا کوآپریٹوز اورجیل خانہ جات کے صدیوں پرانے قوانین کو اپ ڈیٹ کر کے صحیح معنوں میں عوام دوست بنا د ئیے گئے اب پنجاب کوآپریٹوز لیکوڈیشن بورڈ کی کھربوں روپے کی جائدادیں ناجائز قبضوں سے واگذار کرا کے بہتر استعمال میں لائی جا سکیں گی سرکاری محکموں کو پابند کیاگیا ہے کہ قانون منظور ہونے کے چھ ماہ کے اندر اپنے رولز بھی بنائیں بعض محکموں نے 15 سال کے بعد بھی رولز نہیں بنائے حکومت کا کلین اینڈ گرین پروگرام صاف،شفاف اور سر سبز پاکستان کی طرف ایک انقلابی قدم ہے ۔آلودگی سے پاک،خوبصورت اور صاف ستھرے ماحول کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گلی،محلوں ،دیہات اور شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ ساتھ شجر کاری کو فروغ دیں صرف شجر کاری کرناجتینا ضروری ہے اتنا ہی ان پودوں اور درختوں کی حفاظت کرنا بھی ہے ،عوام کو چاہیے کہ حکومت کی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر انکے توان درخت بننے تک حفاظت بھی کریں وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں صف میں کھڑا ہو گا، ملک کو دیوالیہ بنانے والے کرپٹ حکمران قوم کے مجرم ہیں جن کا احتساب ضروری ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے برسرِ پیکار ہیں، عمران خان کی جدوجہد معاشرے کے پسے طبقے کی بحالی کیلئے ہے، عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار کی بہترین سہولیات فراہم کرنا عمران خان کا عزم ہے اور حکومت پاکستان نے عوام کو مختصر وقت میں صحت ہیلتھ کارڈ کی صورت میں بہترین سہولت فراہم کی ہے اس اسکیم کے تحت آٹھ کروڑ کارڈ ہولڈرز کو تقریباً 150 سرکاری و نجی اسپتالوں میں سالانہ سات لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کی سہولت دستیاب ہوگی، جس میں انجو پلاسٹی، برین سرجری اور سرطان سمیت دیگر امراض شامل ہیں صحت کارڈ رکھنے والوں کو علاج کے لئے اسپتال جانے کا ایک ہزار روپے تک آمد و رفت کا خرچ بھی ادا کیا جا رہا ہے۔ کارڈ ہولڈر کی حادثاتی موت کے نتیجے میں ورثا کو تجہیز و تکفین کیلئے دس ہزار روپے ادا کئے جائیں گے پی ٹی آئی حکومت کا اگلے دو برس کے دوران یہ کارڈ ڈیڑھ کروڑ افراد میں تقسیم کئے جانے کا ہدف ہے۔ عمران خان کی حکومت کا یہ اقدام ملک کے غریب طبقے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے غریبوں کو صحت کی ہمہ وقت سہولیات حاصل رہیں گی اور عوام کی صحت کا معیار بھی بہتر ہوجائیگا ۔ حکومت کا وژن ہے کہ غریب لوگوں اور پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو اوپرلائیں ، علاقے پیچھے رہ جانے سے معاشرے پر بہت برے اثرات ہوتے ہیں، دنیا میں امیروں کیلئے منی لانڈنگ کے قانون بنتے ہیں، غریب مزید غریب ہو تے ہیں ، آج جنوبی کوریا اور ملائیشیا جیسے ملک بھی ہم سے ترقی کی راہ میں آگے نکل گئے ہیں علاقے پیچھے رہ جانے سے معاشرے پر بہت برے اثرات ہوتے ہیں جبکہ دنیا میں جہاں معاشی مساوات اور برابری نہیں ہوتی وہاں بر ے اثرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نظام رہا ہے کہ تعلیم جس میں غریب کے لیے سرکاری اور امیر کیلئے انگلش میڈیم تعلیم رہی جس سے ملک میں طبقاتی تقسیم ہوئی، 60کی دہائی میں ملائیشیا اور انڈونیشیا کیلئے پاکستان اعلیٰ ماڈل ہوتا تھا لیکن ہمارے ہاں ایلیٹ کلاس نے سارے کام اپنے لئے کرلئے اور غریبوں کو مزید غریب کر دیا یہی وجہ ہے کہ آج جنوبی کوریا اور ملائیشیا جیسے ملک بھی ہم سے ترقی کی راہ میں آگے نکل گئے ہیںاس وقت کرپشن کا خاتمہ اور بلاتفریق شفاف احتساب ملک وقوم کیلئے لازم ہے وزیراعظم نے انتہائی مشکل معاشی حالات میں ملک سنبھالا، حکومتی پالیسیوں کامحور غریب طبقے کی فلاح و بہبود ہے، ہم اداروں میں اصلاحات لارہے ہیں، میرٹ پر کام کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پروپیگنڈے کی سیاست اپوزیشن کا وطیرہ بن چکی ہے اورترقی میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر قوم کے خیرخواہ نہیں، اپوزیشن کو اے پی سی کی ناکامی پر منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہیے اور نئے پاکستان میں مفاد پرستوں کے مخصوص ایجنڈے کی رتی بھر گنجائش نہیں، اپوزیشن جماعتوں نے ہمیشہ غلط بیانی اور جھوٹ کا سہارا لیاہے اپوزیشن صرف اپنی کرپشن بچانے کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہے، اپوزیشن کے پاس نہ کوئی ایجنڈا ہے نہ کوئی پروگرام، پروپیگنڈے کی سیاست اپوزیشن کا وطیرہ ہے عمران خان کی قیادت میں یہ پاکستان کی شفاف ترین حکومت ہے، اپوزیشن جتنامرضی شور مچائے، حکومت مدت پوری کرے گی۔

شیئر کریں

Top