کچھ حقوق ریاست کے بھی ہیں ! قادر خان یوسف زئی

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ’’جس شخص نے کسی ایک انسان کو قتل کیا،اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا،(سورۃ المائدہ آیت ۳۲)۔ اپوزیشن کے ساتھ دین اسلام کے بے نظیر رویے کا تصور موجودہ جمہوری نظام سے نہیں کیا جا سکتا کہ جتنی آزادی اسلام نے اپوزیشن کو دی ہے اتنی آزادی کسی بھی نظام میں ممکن نہیں ۔ جب تک بات صرف زبانی حد تک رہی، تو تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا گیا لیکن جب باقاعدہ جنگی کارروائیاں کیں تو جہاد بھی کیا گیا۔
حقوق انسانی کا یہ تصور اسلام نے سیکڑوں برسوں سے بنی نوع انسان کو دیا ہے، لیکن جب حقوق انسانی کے حوالے سے وائٹ ہاؤس اور برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ یا مغرب کا حوالہ دیے جائیں تو حیرت ہوتی ہے کہ حقوق انسانی کے حوالے سے انھیں اسلام کے جید خلفا راشدین ؓ و مسلم حکمرانوں کی مثالیں کیوں یاد نہیں آتیں، حالاں کہ یہ نعمت اسلام کے ذریعے پوری دنیا کو ملی ورنہ دنیا ان چیزوں سے نا آشنا اور نری جہالت میں مبتلا تھی۔حقوق انسانی کے حوالے سے تصور انگلستان کے میگنا کارٹا کے ذریعے متعارف ہوا ،اگرچہ پھر بھی وہ اسلام کے چھ سو برس کے بعد کی چیز ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ سترہویں صدی کے قانون دانوں سے پہلے کسی کے ذہن میں یہ تصور موجود نہ تھا کہ میگنا کارٹا میں ٹرائل بائی جیوری، ہیبسیس کارپس اور ٹیکس لگانے کے اختیارات پر پارلیمنٹ کے کنٹرول کے حقوق بھی شامل ہیں۔
اسلام میں انسانی حقوق کی بات کی جائے تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ یہ حقوق، اللہ عزوجل کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں یہ کسی بادشاہ یا کسی مجلس قانون ساز کے دیے ہوئے نہیں کہ جب چاہے ان کو واپس لے لیا جائے یا ان میں بزعم خواہش تبدیلی لائی جائے، دنیا کی کوئی مجلس قانون ساز اور دنیا کی کوئی حکومت ان کے اندر ردوبدل کرنے کی مجاز نہیں ہے ان کو واپس لینے یا منسوخ کردینے کا کوئی حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔پاکستان میں حقوق کے نام پر جس طرح کا انتشار پیدا کیا جارہا ہے اس سے پوری مملکت میں انارکی کی ایک کیفیت پیدا ہوسکتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ تصادم کی صورت میں نکلے گا۔ کسی بھی جماعت کے دھرنوں کے قائدین انسانی حقوق کے حوالے سے اس اَمر کا خیال رکھیں کہ ان کی تقاریر و دھرنے سے معاشرے میں فرسٹریشن پیدا نہ ہو کیونکہ اس کے نتائج کسی قدر ہولناک ہوسکتے ہیں۔
وطن عزیز میں جمہوری نظام، حقیقی نظام سے متصادم ہے اور اس کے اکثریتی امور و احکام اسلام سے مطابقت نہیں رکھتے، لیکن ایسے ایک عبوری دور کا نام دیا جا سکتا ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی سرزمین پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نظام اس لیے نافذ نہیں ہوسکا کیونکہ مملکت میں مختلف فرقوں و مسالک کی وجہ سے ممکن نہیں تھا کہ کس مسلک و فرقے کے عقائد پر مبنی نظام نافذ کیا جائے، لیکن یہ ضرور ہو سکتا تھا کہ جن باتوں پر تمام مکاتب فکر کا اجماع ہو انھیں اسلامی طرز معاشرت کے نام پر نافذ کیا جاسکتا تھا ،لیکن بد قسمتی سے اسلامی نظریاتی کونسل کی دی گئی سفارشات کو اہمیت نہیں دی جاتی اور مغربی طرز حاکمیت کی بنا ء پر ہماری تمام تر توجہ ہنود، یہود و نصاری کی خوشنودی تک ہی محدود ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے کہ ہم اسلام کے زریں اصولوں کو چھوڑ کر جب مغرب کو اپنا آئیڈیل بنا لیں تو اس قوم کے لیڈروں کے ساتھ ان کے پیروکار بھی سوائے تباہی کے کوئی اور تحفہ نہیں دے سکتے۔پاکستان میں جبکالعدم تنظیموںنے اسلام کے نام پر جبری طور پر ایک ایسے نظام کے نفاذ کے لیے مسلح تحریک کا سلسلہ شروع کیا تو اس سے معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہوا اور شدت پسندی کے رجحان کو فروغ حاصل ہوا، ان کا طرز عمل تمام حدود سے تجاوز کرگیا تو ان کے خلاف فساد فی الارض کے جرم میں بھرپور ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کو بنا کسی جرم کے نقل مکانی بھی کرنا پڑی، ان کے گھر بار گولا بارود کے نذر ہوئے، ان کے معاشی وسائل تباہ و برباد ہوگئے لیکن اٹھائے گئے اقدام پر اکثریت نے ریاست کا ساتھ دیا ۔آج بھی کسمپرسی کے عالم میں لاکھوں انسان ریاست کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
سوات، جنوبی وزیرستان پھر شمالی وزیرستان میں عسکری قوت کی جانب سے بھرپور طاقت کا مظاہرہ اس لیے کیا گیا تھاکیونکہ چند ناعاقبت اندیش افراد اور گروہ کی جانب سے حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا گیا اور ریاستی اداروں پر حملے کرکے ریاست کی قوت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی ،جس کے بعد یہ ناگزیر ہوگیا کہ ان عناصر کے خلاف ریاست بھرپور قوت کا مظاہرہ کرے اور انھیں ریاست کی رٹ تسلیم کرنی پڑے۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے عسکری قوت کے ساتھ ملکر قربانیوں کی مثال قائم کی۔یہ ان کی پاکستان سے محبت ہی تھی جس پر انھوں نے اپنے مفادات و آسائش پر ترجیح دی اور نقل مکانی اختیار کی جب کہ انھیں نہیں معلوم تھاکہ ان کے حقوق کب بحال ہونگے۔ در بدر اور بے سرو ساماں یہ لاکھوں افراد، صدیوں کی روایات اور ثقافت کے امین ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ جبری طور پر ہزاروں سال سے ان پر کوئی حکمرانی نہیں کرسکا، لیکن ان کے نزدیک حب الوطنی اولین ترجیح تھی اس لیے ہمیشہ ریاست کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اسلام آباد میں بھی ریاست کے اداروں کو یرغمال بنا کر رٹ کو چیلنج کیا اور چند ہزار کے ہجوم نے اپنے نظریے کے مطابق من پسند اقتدار لانے کی کوشش کی ۔ ان کے بیانات و تقاریر میں ریاست کے خلاف مزاحمت رہی۔جب تک ان کی تقاریر زبانی حد تک تھیں تو اس وقت تک حکومت کی جانب سے صبر و تحمل ایک مناسب حد تک ٹھیک تھا لیکن جب ریاست کے خلاف کھلی لشکر کشی اور اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش میں تصادم ہوگیا اور دنیانے یہ مظاہرہ براہ راست دیکھا۔ رینجرز اور پولیس بھی پاکستان کے ادارے ہیں اور ان میں ڈیوٹی دینے والے کسی دوسری ملک کے دشمن نہیں ہے کہ انھیں ہلاک و تشدد کرنے کے لیے جارحیت و تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے۔سیاسی یا مذہبی جماعتیں اپنے جمہوری نظام کے تحت حدود و قیود میں جب تک ہیں ، انہیں اظہار رائے کی مکمل آزادی کا حق حاصل ہے ، تاہم انہوں نے لکیر عبور کی تو ریاست کو بھی کاروائی کا حق آئین نے ہی دیا ہے۔ دھرنے احتجاج ، سیاست ، الزامات ، مفاہمت ، جمہوری نظام میں حرف آخر نہیں ہیں ، لیکن بات جب ریاست کے حقوق کی آئے تو کچھ حقوق ان کے بھی ہیں، جن کی پاسداری کرنا ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔

شیئر کریں

Top