نگور نور اباخ تنازع ، آرمینیا نے سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کر دی

231740_8105221_updates.jpg

نگورنو کاراباخ کے خلاف جارحیت جاری رہی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا، وزارت خارجہ آرمینیا
یریوان(آئی این پی) آرمینیا نے نگورنو کاراباخ کے متنازع علاقے پر آذربائیجان کے ساتھ جاری جھڑپوں میں سیز فائر پر رضا مندی ظاہر کردی۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں نگورنو کاراباخ میں سیز فائر کرنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمینیا آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کوپریشن اِن یورپ(او ایس سی ای)کے ساتھ کاراباخ پر دوبارہ سے سیز فائر کرنے پر تیار ہے۔وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نگورنو کاراباخ کے خلاف جارحیت جاری رہی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔عرب میڈیا کے مطابق امریکا، فرانس، روس، آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کاراباخ کے معاملے پر تنازع کے حل کیلئے 1992 میں بننے والی(باقی صفحہ 6بقیہ نمبر7)
او ایس سی ای کے شریک سربراہ ہیں، ان ممالک نے فوری طور پر آرمینیا اور آذربائیجان سے سیز فائر کا مطالبہ کیا تھا۔آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے معاملے پر اتوار سے جاری جھڑپوں میں آرمینیا کے مزید 54 فوجی ہلاک ہوگئے جس سے ہلاکتوں کی تعداد 158 تک جا پہنچی ہے۔آذربائیجان کی جانب سے اب تک کسی فوجی کی ہلاکت رپورٹ نہیں کی گئی ہے تاہم آرمینین شیلنگ میں 19 عام شہریوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔دوسری جانب اس حوالے سے ترکی کا کہنا ہیکہ اس معاملے میں ان تین ممالک کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔بین الاقوامی طور پرترکی آذربائیجان کا بڑا حمایتی ملک ہے جب کہ آرمینیا میں روس نے فوجی اڈہ قائم کررکھا ہے۔گزشتہ دنوں فرانس کے وزیراعظم میکرون نے ترکی پر الزام عائد کیا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہیکہ عسکریت پسند گروپوں کے 300 جنگجو ترکی سے آذربائیجان کے راستے شام میں داخل ہوئے ہیں۔

شیئر کریں

Top