گلگت بلتستان سیاحوں کی توجہ کامرکز مظہرجمال کبریا قسط(۱)

اگر آپ شہرکی مصروف زندگی سے اکتا گئے ہیں اور چند دن آرام اور پرسکون لمحات بتانے کا سوچ رہے ہیں تودنیاکی سب سے خوبصورت سر زمین گلگت بلتستان آپ کا درست انتخاب ثابت ہوگا۔اگر آپ کو آفس جانا ہے اور موبائل یا گھڑی کی روز روز کی ٹن ٹن سے کچھ دنوں کے لئے ہی سہی چھٹکارہ پانا ہے تو گلگت بلتستان تشریف لے آئیے جہاں صبح صادق کے بعد تسبیح و تہلیل میں مصروف پرندوں کی مسحور کن چہچہاہٹ آپ کو آنکھیں مل کر بستر سے اٹھنے پر مجبور کردیں گی۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا کی مصنوعی رنگینیوں سے کچھ دن نجات پائیں تو آپ سرزمین گلگت بلتستان تشریف لائیے جہاں بے شمار پھولوں اور پھلوں کے رنگ آپ کے منتظر ہیں جہاں صاف شفاف نیلے آسمان سے برستی بارش، پہاڑوں کے گرد طواف کرتے بادل اور قوس و قزاح کے رنگ آپکو دوسرے تمام رنگوںسے بے نیاز کردیں گے۔اگر آپ ائیر کنڈیشن کی ٹھنڈک سے بے زار ہوچکے ہیں اور فریج کے پانی سے گلا خراب کر بیٹھے ہیں تو گلگت بلتستان آئیے جہاں قدرتی ایئر کنڈیشنر اور چشمے کا ٹھنڈا پانی آپکی پیاس بجھا نے کوبیتاب ہے ۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ کچھ دن کاروبار زندگی کے غموں کو بھلا کر ستاروں کی ہم نشینی اختیار کرلیں اور چاند سے سرگوشی کریں تو دیر مت لگائیے آج ہی گلگت بلتستان جاکر قدرت کی ان فیاضیوں کو محسوس کیجئے۔اگرآپ کا دل شہروں میں بنے مصنوعی تفریح گاہوں، پارکس، فارم ہاؤسز سے اکتا گیا ہو تو گلگت بلتستان آئیے جہاں آپ قدرت کے عظیم شاہکار ،اللہ کے بنائے ہوئے تفریحی مقامات کا مشاہدہ کریںگے۔ جہاں کی ہر وادی کو اللہ نے اپنی خوبصورتی کا مظہر بنایا ہے ۔یہاں آکرآپ اللہ کے جمال، شان اور عظمت کوسبزہ زاروں، بہتے چشموں، گرتے آبشاروں، چہچہاتے پرندوں،بل کھاتی دریاوں، صاف شفاف نیلی جھیلوں،صحرا کی ٹھنڈک اور اونچے اونچے برف پوش دیو ہیکل پہاڑوں کی شکل میں دیکھیںگے۔یہ سر زمین سراپا امن ہے ،محبت ہے، ادب ہے ، تہذیب ہے،اور سب سے بڑھ کر مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کا پرخلوص جذبہ رکھتی ہے۔
اس مصروف دور میں دنیا بھر میں لوگوں کو ایک ایسے مقام کی تلاش رہتی ہے جہاں جاکر وہ اپنی تھکن اتار سکیں۔اوردنیا بھر کی فکر سے آزاد ہوکر زندگی کے کچھ لمحات پرسکون ماحول میں گزار سکیں۔جہاں انہیں دنیا بھر کی خوشیاں ملیں، خوبصورتی اور دلفریب مناظر انہیں تمام پریشانیوں سے نجات دے سکیں ۔اوردو پل مصروف زندگی کے بوجھ سے آزاد ہوسکیں۔لہذا لوگ سال بھر منصوبے بناتے ہیں پیسے جوڑتے ہیں اور دوستوں سے ایسے مقامات کے بارے میں تفصیلات حاصل کرتے ہیں تاکہ اپنے ان خوابوں کی تعبیر کو پا سکیں۔اور چھٹیاں ہوتے ہی ان علاقوںکا رخ کر سکیں۔گو کہ دنیا کے تفریحی مقامات جیسے سوئٹزرلینڈ ،اور امریکہ کے کچھ سیاحتی مقامات کو اس حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے اور بڑی تعداد میں لوگ وہاں کا رخ کرتے ہیں۔مگر حال ہی میں ایک برطانوی ٹریول ایجنسی نے گلگت بلتستان کو دنیا کے 20 سیاحتی مقامات میں سب سے بہترین قرار دیا ہے۔کیوں نہ ہو گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جہاں آپ تمام سیاحتی لوازمات کا بغورمشاہدہ کریں گے۔ اللہ نے یہ خوبی صرف گلگت بلتستان کے لئے مخصوص کی ہے کہ یہاں بہ یک وقت آپ پہاڑ، پانی اور صحرا کانظار ہ کرسکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ قدیم روایات، تہذیب، آثار قدیمہ، جھیلیں، فلک پوش پہاڑی سلسلے،جن میں ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش شامل ہیںکو قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ بلندی پر موجود دوسرے بڑے میدان دیوسائی کے خوبصورت ، حیرت انگیزاور طلسماتی نظاروں سے بھی محظوظ ہو سکیںگے۔
استاد محترم جناب حشمت کمال الہامی صاحب فرماتے ہیں:
پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیچ میں ہم ہیں
مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں
گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں کا کل رقبہ 72971 مربع کلومیٹر اور آبادی 22 لاکھ سے زیادہ ہے۔انتظامی طور پر گلگت بلتستان کو تین ڈویژنز(گلگت، دیامر استور اور بلتستان) اور دس اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔دارلحکومت گلگت اور سب سے بڑا شہر سکردو ہے ۔شینا، بلتی اور بروشسکی یہاں کی مقامی زبانیں ہیں جبکہ لوگوں کی اکثریت اردو زبان بھی بول سکتی ہیں ۔نوجوانوں کی کثیر تعداد انگریزی سمیت دوسرے بین الاقوامی زبانیں بھی سمجھتے ہیں۔ معاشرہ کافی حد تک جدید ہو چکاہے مگرمذہب، قدامت پسندی اور مشرقی اقدار کی چھاپ نمایاں ہے۔ زیادہ تر لوگ مذہبی اور محب وطن ہیں۔ مذہبی رواداری ، بھائی چارہ، اخلاقی اقدار یہاں کے لوگوں کا خاصہ ہے۔
یہاں کے لوگ ملنسار، سادہ، اور مہمان نواز ہیں۔یہاں کرائم ریٹ صفر ہے۔معاشرہ ابھی تک رہزنی، دنگا فساد، ڈاکہ ، اغوا برائے تاوان جیسی لعنتوں سے دور ہے۔لوگوں کاجذبۂ ایثار قابل دید ہے۔زیادہ تر لوگ سچے اور ایماندار ہیں ۔ ملکی یا غیر ملکی سیاح اور کوہ پیما اپنے آپ کو یہاں بلکل محفوظ تصور کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سیاحت ، کوہ پیمائی یا کسی بھی حوالے سے آنے والے مہمان متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے جس کا اظہار قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں ہوتا رہتا ہے۔
گلگت بلتستان کی تخلیق میں رب العزت نے اپنی فیاضی دکھائی ہے۔یہاں کی جداگانہ لینڈاسکیپ اس کا ثبوت ہے۔گلگت بلتستان میں تین عظیم پہاڑی سلسلے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش آپس میں ملتے ہیں۔ہمالیہ جس پہ برصغیر فخر کرتاہے اور شاعر مشرق نے اس کی شان میں ایک طویل نظم تحریر کی ہے۔۔۔۔
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستان
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسمان
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لئے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لئے۔۔۔۔۔
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی
آئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئی۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

شیئر کریں

Top