جاگ پنجابی جاگ سرائیکی علی جان

مجھے یادپڑتاہے کہ میں نے ایک آرٹیکل لکھاتھاشہباز تیراپیرس ڈوب گیاتومیرے ایک دوست نے پڑھ کر مجھے کال کی کہ بھائی جان آپ نے شہباز شریف کوٹارگٹ کیاہے وہ آپکوٹارگٹ کرے گاتوبہترہے ایسے کالم نہ لکھاکرمجھے یقیناً اس وقت ڈرلگامگرآج جب میں نے ہزاروں آرٹیکلز لکھ چکاہوں تودل میں خیال آتاہے کہ یارایک انسان زیادہ سے زیادہ کیاکرسکتاہے کسی کی جان ہی لے سکتاہے ناں باقی مارنے والے سے بچانے والابڑاہے اوروہ سب دیکھ رہاہے جب شہباز شریف کی بات آتی ہے توپنجابی ہونے کی وجہ سے وہ ذکرسرفہرست آتاہے کیونکہ اب تواصل پنجابی بھی یہی لگتاہے میاں صاحبان ہیں اوراگرآج سرائیکی صوبہ نہیں بن سکاتوان کے ذمہ داربھی میاں صاحبان ہیں سرائیکی صوبہ کی بات ہوئی ہے تواپنے قارائین کوبتاتاچلوں کہ اگرسرائیکی قوم اپنے حقوق کیلئے جاگ سرائیکی جاگ کانعرہ لگائے توتعصب اورملک دشمنی اگرنیب پکڑہواورپیسہ وصولی کی بات ہوتوجاگ پنجابی جاگ یعنی یہ وہ نعرہ ہے جواسلام کے عین مطابق ہے ملک میں اصل تعصب تویہ لوگ پھیلارہے ہیں جو سرائیکی اورپنجابی بھائیوں کوآپس میں لڑوارہے ہیں کیونکہ سرائیکیوں نے ہمیشہ پنجابیوں کواپنابھائی مانااورسرائیکی الگ صوبہ کیوں چاہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز غیر متوازن ہو تو وہ چل نہیں سکتی جیسے اگر کسی گاڑی کا ایک ٹائر پنکچر ہو جائے تو وہ سفر نہیں کر سکتی کیونکہ گاڑی کا بیلنس برقرار نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اگر ہم کوئی پودا کسی بڑے درخت کے سائے میں لگا دیں تو وہ پھل پھول نہیں سکتا تو اسی طرح ہمارے پیارے ملک پاکستان کا بھی ہے۔ مختلف رپورٹوں اور اداروں کی مختلف رائے ہے کہ پنجاب پاکستان کا 58فیصد ہے کوئی اس کو 60 فیصد تو کوئی یہ 63 فیصد بتاتا ہے اگر 58 فیصد لگا لیں تو باقی پاکستان 42فیصد رہ جاتا ہے جس میں کے پی کے 13 فیصد، سندھ 22 فیصد، بلوچستان 6 فیصد اور گلگت بلتستان 1.5 بنتا ہے۔ اگر ہم پنجاب کو 63 فیصد پر رکھتے ہیں تو باقی ملک 37 فیصد بنتا ہے جو کہ ایک بہت بڑا فگر بنتا ہے مطلب آدھے ملک سے بھی زیادہ جس ملک میں ایک صوبہ اتنا زیادہ غیر متوازن اور طاقتور ہوگا وہ باقی حصے کے ساتھ زیادتی بھی کرے گا جس وجہ سے ملک میں مسائل بڑھیں گے اور انتشار رہے گا۔ جس کی مثالیں سب کے سامنے ہے ۔ اس ملک پر سب سے زیادہ حکمرانی پنجاب کے لوگوں کی رہی ہے اور آج تک کسی بھی صوبے میں امن و سکون نہیں ، کراچی میں قتل و غارت گری جاری رہتی ہے ، بلوچستان میں ملک کے غدار پیدا ہو جاتے ہیں تو پختونخواہ دہشت گرد بن جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اسکی وجوہات کیا ہیں ہم نے اس بارے کبھی نہیں سوچا ہم صرف یہ سوچتے ہیں کہ لسانیت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ شوشا صرف اس لیے چھوڑا جاتا ہے تاکہ پنجاب تقسیم نہ ہو۔ اس ملک کے اصل وارثوں کو ان کا حق نہ دیا جا سکے۔ یہ بات بہت سارے لوگ جانتے ہونگے کہ پنجابی اور مہاجر انڈیا سے ہجرت کر کے آئے اور پاکستان میں بس گئے۔ پٹھان افغانستان ، عراق کی طرف سے آئے اور پاکستان بننے سے قبل یہاں آباد ہوئے۔ اس خطہ پاک میں سندھیوں اور سرائیکیوں کی ہزاروں سال پرانی تواریخ ہیںبعض مورخین کے مطابق سرائیکیوں کی تاریخ مہذب قوم دراوڑ سے جا کر ملتی ہے جن کی اپنی تہذیب و تمدن ہے الگ ثقافت ، الگ پہچان ہے ۔ صوبہ سرائیکستان کی تحریک کی بنیاد 1970 ؁ء دی کی دہائی میں رکھی گئی جب اس وقت کے بزرگوں نے دیکھا کہ پنجاب کے کچھ مفاد پرست اور ملک دشمن لوگ ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو کچھ سرائیکیوں نے اس کے خلاف آواز اٹھانی شروع کر دی ۔آج صوبہ سرائیکستان کی تحریک اتنی مضبوط ہو گئی ہے کہ مفاد پرست لوگ آج اس کو لسانیت کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں مگر شاید ان کو معلوم نہیں جس قوم کی کوئی لسان نہیں ہوتی اس کی کوئی پہچان بھی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اگر کوئی زبان ہوگی تو لوگ بھی اس قوم کی بات کو سمجھ سکیں گے اور ویسے بھی تمام مہذب قومیں اپنے صوبوں کے نام لسانی بنیادوں پر ہی رکھتے ہیں، کینیڈا، چین، فرانس، لندن، امریکہ، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، ایران کوئی بھی ملک دیکھ لیں ہر ملک میں لسانی بنیادوں پر صوبے بنتے ہیں۔ پاکستان کو ہی دیکھ لیں اس ملک میں بھی جتنے صوبے ہیں سب کے سب لسانیت کی بنیاد پر ہی تو ہیں اور اس میں کوئی بری بات بھی نہیں کیونکہ صرف ایک نام سے اگر ہماری پوری ثقافت سمجھ میں آسکتی ہے تو اس سے بہتر اور کیا ہے کیونکہ کسی کو مزید کچھ سمجھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، جب کوئی بھی شخص پاکستان کے نقشہ پر سندھ دیکھتا ہوگا تو اس کو سندھیوں کی ثقافت کا پتہ چل جاتا ہو گا، اسی طرح پنجاب، بلوچستان اور پختونوں کی ثقافت بھی نقشے پر جھلکتی ہے ۔ اراقم کی ذاتی رائے کے مطابق پنجاب کے تین حصے کیے جائیں اور صوبہ سرائیکستان کا قیام ان اضلاع بھکر، لودھراں، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی،رحیمیار خان، جھنگ، بہاولنگر، ساہیوال، پاکپتن شریف، بہاولپور، ملتان، وہاڑی، اوکاڑہ، لیہ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازیخان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، راجن پور ، خوشاب، سرگودھا پر مشتمل ہونا چاہیے کیونکہ ان اضلاع میں سرائیکیوں کی اکثریت ہے ۔ اس طرح پاکستان کی تقسیم کچھ اس طرح کے پی کے 13 فیصد، سندھ 22 فیصد، بلوچستان 6 فیصد اور گلگت بلتستان 1.5، سرائیکستان 30 فیصد، جبکہ پنجاب اور ہزارہ کو 27.5فیصد پر قائم کیا جائے تو ملک کے لسانی و دیگر بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور ملک زیادہ تیزی سے ترقی کرنے لگے گا۔ کیونکہ اس تقسیم سے وفاق پر کسی ایک صوبے ، جماعت یا گروہ کا قبضہ نہیںہوگا اور تمام کام ایک دوسرے کی مشاورت سے ہونگے جس سے ملک ترقی کرے گا میرا ملکی ترقی سے مراد وفاق کی مضبوطی ہے تمام سٹیک ہولڈرز فیصلے ایک دوسرے کی مشاورت سے کرینگے جس سے وفاق مضبوط ہوگا، لسانیت، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، ایک صوبے کی دوسرے صوبے سے زیادتی، حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی باتیں دم توڑ دیں گی اور یہ تمام بحث و مباحثے ہی ملک سے ختم ہو جائیں گے۔ اس خطہ میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ شاید جنوبی پنجاب بننے سے وہ محفوظ ہو جائیں گے اور سرائیکستان بننے سے ان کو یہاں سے نکال دیا جائے گا تو میرے خیال میں یہ ان کی کند ذہنی کی علامت ہے کیونکہ اس خطہ میں رہنے والے محبت کرنے والے لوگ ہیں جب وہ لوگ یہاںآکر آباد ہوئے تھے تو اسی خطہ کے لوگوں نے انہیں پناہ دی تھی۔ انہیں ابتدائی امدادیں بھی دی تھیں۔ ان کے مسائل کو اپنا مسٗلہ جانا اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کی۔ آج انہی سے خوف کیوں؟ صوبہ سرائیکستان یہاں پر بسنے والے سبھی لوگوں کا ہوگا چاہیے وہ مہاجر ہوں، پنجابی ہوں، پٹھان ہوں، بلوچ ہوں یا کوئی اور ہوں۔ یہاں کے لوگ خوشیاں دیکھنے کیلئے ترستے ہیں تو وہ دوسروں کو دکھ کیوں دیں گے ۔ یہ لوگ اس ملک کے اصل وارث ہیں تو وہ اس ملک کے لوگوں کو کیسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔یہ بات سب کیلئے سوچنے کی ہے ۔ اورجولوگ جاگ پنجابی جاگ کانعرہ لگاکرانتشارپھیلانے کی بات کررہے ہیں انشاء اللہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی میں ان لوگوں کوباورکرادیناچاہتاہوں کہ احتساب سے ڈرنے اوربچنے کیلئے جاگ پنجابی جاگ کارڈ کھیلنابندکرواورملک میں امن قائم رہنے دوورنہ اس کارڈ کے ذریعے تمہاراکھیل ختم ہوجائے گا۔

شیئر کریں

Top