کرونا وائرس کی دوسری لہر اٹھنے سے ترقی کی شرح کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ٹڈی دل اور بارشوں سے غذائی قلت بھی جنم لے سکتی ہے غربت میں اضافہ قرض ادائیگی بھی مشکل پاکستان کی شرح نمو 0.5فیصد سے بھی کم رہنے کی توقع ہے عالمی بینک

images-70.jpeg

کورونا وائرس کے منفی اثرات کی وجہ سے سست اور غیر یقینی معاشی بحالی کیساتھ آئندہ دو سال میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان ہے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

وبائی مرض پر قابو پانے کیلئے اقدامات سے پاکستان کی معیشت متاثر ہوئی، اقتصادی سرگرمیاں سکڑ گئیں،جی ڈی پی کی حقیقی نمو کم ہو کر 2020میں 1.5 فیصد رہیگی،ایشیائی ممالک سے متعلق شرح نمو رپورٹ جاری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی بینک نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی ترقی کی شرح 0.5 فیصد سے بھی کم رہنے کی توقع ہے۔عالمی بینک کی جانب سے ایشیائی ممالک کی شرح نمو سے متعلق جاری کردہ رپورٹ کے مطابق آئندہ سال جنوبی ایشیا میں ترقی کی شرح منفی 7.7 فیصد سے بہتر ہو کر 4.5 فیصد ہونے کی توقع ہے۔ کورونا کے منفی اثرات کی وجہ سے سست اور غیر یقینی معاشی بحالی کے ساتھ آئندہ دو سال میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان ہے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں پاکستان کے حوالے(باقی صفحہ7بقیہ نمبر56)

سے کہا ہے کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے لئے ورلڈ بینک کے چیف اکنامسٹ ہینس ٹمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے لئے اچھی خبر نہیں اور مستقبل کی صورتحال انتہائی خوفناک ہے۔مالی سال 2021 میں پاکستان کی ترقی کی شرح 0.5 فیصد سے بھی کم رہنے کی توقع ہے جو کہ گزشتہ تین سالوں میں 4 فیصد تھی کورونا وائرس دوبارہ ابھرنے سے ترقی کی شرح کو مزید خطرات ہوسکتے ہیں جب کہ ٹڈی دل اوربارشوں سے غذائی قلت بھی جنم لے سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021 اور 2022 میں اوسطا 1.3 فیصد رہنے کا امکان ہے، اس میں کہا گیا کہ یہ اندازہ انتہائی غیریقینی ہے اور اس کی پیش گوئی وائرس کے مزید نہ پھیلنے کے حساب سے کی گئی ہے کیوں کہ دوسری صورت میں مزید وسیع پیمانے پر لاک ڈان کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے پاکستان کی معیشت شدید متاثر ہوئی، اقتصادی سرگرمیاں سکڑ گئیں اور غربت میں مالی سال 2020 میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ رواں برس کے آغاز میں مالیاتی اور مالی پالیسیوں میں سختی کی گئی اور اس کے بعد لاک ڈاون نافذ کردیا گیاہے۔پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 2019 کی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 2020 میں 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے۔

عالمی بینک

شیئر کریں

Top