بری سرکار ؒسے مانسر شریف تک سفر سید مشرف کاظمی

جب اللہ تعالی نے اس کائنات کو تخلیق کیا تو آباد کاری بھی لازمی جزو ٹھہریٗ انسانوں میں جناب حضرت آدم ؑ کو اس روح زمین پر نبوت کے درجہ پر فائز کیا گیا ۔ جناب آدم ؑ نہ صرف پہلے نبی قرار پائے بلکہ انسانیت کا آغاز بھی آپ سے ہوا اور کائنات میں بسنے والی انسانی مخلوق آپ کی اولاد قرار پائی ۔ جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے اللہ تعالی اپنے انبیاء ؑ بھیجتا گیا جو اصلاح بنی نوح انسان کرتے رہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت انسان احسان فراموش ٹھہرا اور ان رشد و ہدایت کا درس دینے والی ہستیوں کا پیروکار بننے کی بجائے ان کے خون سے ہاتھ رنگین کرتا رہا اس کے باوجود انبیاء ؑ تو حیدٗ عدل و انصاف اور ایمان داری کا درس دیتے رہے ۔ اللہ تعالی نے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس دنیا میں مبعوث فرمائے ۔ انبیاء ؑ کے سلسلہ کی آخری کڑی سید المرسلینٗ امام المتقین خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔آپ ؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند کردیا گیا ۔ آپ سردار انبیاء ؑ اور آخری نبی ؐ ہیں۔ لیکن اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو بے راہ روی سے بچانے کیلئے ولایت کا دروازہ کھول دیا ۔ ہم اسلامی ممالک بالخصوص بر صغیر پاک و ہند میں دیکھتے ہیں کہ ایک مربوط خانقاہی نظام موجود ہے جو بلا تفریق رنگ و نسلٗ عقائد اور مسلکی پابندیوں سے بالاتر ہو کر مخلوق خدا کو فیض یاب کر رہا ہے ۔ وطن عزیزمیں پھلانے میں اہم کردار ادا کیا وہاں امن و بھائی چارے کا بھی درس دیا ۔ بر صغیر پاک و ہند اور اسلامی تعلیم کا فروغ اور پھیلاؤ ان ہی بزرگان دین کا مرہون منت ہے ۔ ان بزرگان دین میں داتا علی ہجویری ؒٗ سخی شہباز قلندر ؒٗپیر مہر علی شاہ ؒ ،حضرت سید سخی محمود بادشاہ ،حضرت میاں محمد بخش ،حضرت سید سائیں سہلی سرکار،حضرت سید عبداللہ شاہ غازی،حضرت خواجہ معین الدین چشتی آف اجمیر شریف ،حضرت خواجہ غریب نواز،بی بی پاک دامن،حضر ت سید شاہ شمس تبریز ،بابا سید بلے شاہ غازی ،حضرت سید نظر شاہ مشہدی،دیوان شاہ مشہدی،حضرت شاہ عبدالخیر ،حضرت سید سخی معظم قلندرمشہدی ،حضرت سید شاہ زین بادشاہ اور حضرت بری امام ؒ کے نام نمایاں ہیں ان کے مزار آج بھی امت مسلمہ کی روحانی تسکین کا باعث ہیں ۔ حضرت بری امام سرکار ؒ کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جن کے فیض نظر سے نہ صرف ہزاروں لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے بلکہ لاکھوں گمراہوں کو رشد و ہدایت کی دولت بھی نصیب ہوئی ۔ وفاقی دارالحکومت کے قلب اور مارگلہ کے دامن میں نور پور شاہاں کی بستی میں آپ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے اور روزانہ سینکڑوں لوگ روضہ پاک پر حاضری دیتے ہیں ۔ بیسیوں لوگ نذر چڑھاتے ہیں تو سینکڑوں لنگر سے بھوک مٹاتے ہیں یہ بھی حضرت بری سرکارؒ کی زندہ کرامت ہے کہ ان کا مزار ہر ماہ لاکھوں لوگوں کیلئے روزی کا وسیلہ ہے ۔ عام دنوں کی نسبت جمعرات کے دن زائرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے ۔ ملک بھر سے آنے والے عقیدت مند خواتین و حضرات اپنے من کی مرادیں پاتے ہیں ۔بری امام سرکار سے حضرت سائیں کلو بابا خاص عقیدت رکھتے تھے۔حضرت کلو باباسرکار مانسر شریف کا آستانہ عالیہ اورسلسلہ فیض مانسر شریف ضلع اٹک کے مضافات میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، اس کی شناخت اس وجہ سے نمایاں ہوئی کہ جب پاکستان قائم ہوا تو کشمیر سے آنے والے مہاجرین کے لیے یہاں ایک کیمپ قائم کیا گیا جو’’مانسر کیمپ‘‘ کے نام سے معروف ہوا، اب اس جگہ کی شہرت ایک مرکز فیض کے حوالے سے جہاں روحانیت کے تین درخشندہ مہتاب آرام فرمارہے ہیں۔ان حضرات کی داستان بھی بہت عجیب، دلکش اور حیرت انگیز ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا نظام روحانیت زمان و مکان کے بہت سے رازوں کو محیط ہے اور یہاں معاملات اس باطنی بصیرت سے آگے بڑھتے ہیں جو صدیوں کے فاصلے طے کرکے آگے کے منظر کو دیکھتی ہے۔ جس طرح کہ حضرت بایزید بسطامی جب خرقان سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اس زمین سے خوشبوئے محبت آتی ہے اور وہاں پر آپ کے وصال کے 75 سال بعد ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے، جن سے آپ کا روحانی فیضان آگے بڑھا اور سلسلہ نقشبندیہ کی صورت میں ایک دریا کی شکل اختیار کر گیا جس کی موجیں آج چہار دانگ عالم کو سیراب کر رہی ہیں۔ کلوبابا سرکار کے اکثر حالات زندگی پردہ خفاء میں ہیں اوران کے خاندانی پس منظر، تعلیم ارادت، سفر روحانیت کے متعلق بہت ہی کم معلومات میسر ہیں۔ کیونکہ جب ان کی ملاقات قبلہ پیر جی محمد انور شاہ صاحب سے ہوئی تو وہ حالت جذب میں تھے اوربہت ہی کم گفتگو فرماتے تھے۔ اتنی معلومات ہیں کہ ان کا تعلق گجر برادری سے ہے۔ محمد رستم المعروف کلوبابا سے ملاقات:محمد رستم بابا جو وہاں کلوبابا کے نام سے معروف تھے۔ اکثر حالت جذب میں رہتے تھے۔ ہمیشہ تنہا ہی رہتے ان کی مجذوبانہ کیفیات کی وجہ سے لوگ ان کے پاس نہیں رہتے تھے نہ ہی وہ کسی کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔کلوبابا اکثر جھلے بابا کے راز کے پاس سے گزرتے، اور پیر سید انور شاہ رحمتہ اللہ علیہ ان کوافسردہ اورملول نظر آتے اورباباجی کے فراق میں گریہ کناں دکھائی دیتے۔ایک دن انھوںنے شاہ صاحب کو مخاطب کیا اورفرمانے لگے ’’پیر جی آپ کی ڈیوٹی تو ہمارے ساتھ ہے‘‘شاہ صاحب نے ان کی بات کو بڑے ادب سے سنا لیکن خاموش رہے۔کلوبابانے پھر فرمایا:’’اگر یہ جھلے بابا جی کہہ دیں تو پھر ہمارے ساتھ آجاؤ گے۔‘‘شاہ صاحب اس پر بھی خاموش رہے، کلوبابا یہ کہہ کر وہاں سے تشریف لے گئے۔کچھ دنوں کے بعد دوبارہ وہاں تشریف لائے اورفرمایا،پیر جی اب تو انہوںنے ایک نہیں بلکہ آپ کو دوبارہ کہہ دیا ہے اب کیا خیال ہے؟شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ واقعی ایسا ہوا تھا، کہ جھلے بابا جی کی طرف آپ کو خواب میں دوباربشارت دی گئی کہ اب آپ کا آگے کا سفر اورفیض کلوبابا سرکار کی معیت ونگرانی میں ہے۔ میرے اورآپ کا ساتھ سفر بس اتنا ہی تھا۔ سو! شاہ صاحب کلوبابا جی کے ساتھ چل پڑے جو آپ کو ’’پیر جی‘‘کے نام کے ساتھ مخاطب فرماتے۔جب 1947میں پاکستان بنا تو کلوبابا نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا ایک درویشِ مجذوب کا یہ فیصلہ یقینا اس کی تکوینی ڈیوٹی کا حصہ ہے۔ اوربعد کے واقعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کا تعلق حضرت امام بری شاہ عبدالطیف قادری علیہ الرحمۃ کے باطنی معاملات سے بھی بہت گہرا ہے۔ حضرت امام بری صدیوں پہلے اس جگہ پر ایک اسلامی سلطنت کے دارالحکومت کی پیش گوئی فرما چکے تھے۔ پاکستان میں ان کی یہ آمد کہوٹہ کے راستے سے ہوئی۔ اوروہ دیگر مہاجرین کے ساتھ مانسر کیمپ میں آگئے۔ مانسر ضلع اٹک میں واقع ہے اورتقسیم کے بعد یہاں مہاجرین کے لیے کیمپ قائم کیا گیا۔
کلوبابا کے معمولات یہاں بھی حسب سابق رہے، ذکر وفکر میں مشغولیت کے ساتھ ساتھ وہ گرد ونواح کے علاقوں میں محو سفر بھی رہتے تھے۔ درویش نے تمام معاملات ان کی باطنی ڈیوٹی کا حصہ ہوتے ہیں۔کلوباباحضرت پیر جی سے صرف سفر کا مجاہدہ نہیں کرواتے بلکہ ان کے کھانے پینے اوردیگر معمولات پر بھی بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دن کسی بھوک کے آثار محسوس کیے تو ایک مالٹے کی قاشیں میرے منہ میں ڈال دیں۔ لیکن باباجی نے اپنے ہاتھ سے فوراً اسے باہر نکال کر پھینک دیا۔عجیب مشقت اورکڑے مجاہد ے اورریاضت کا دور تھا۔ اللہ ہی جانے کہ اس میں کئی راز پوشیدہ ہیں۔کیمپ میں موجود لوگ بھی اس راز کو جان گئے اوروہ بالعموم آپ کو کچھ پیش ہی نہیں کرتے تھے۔یکم اگست 1950 کو قبلہ کلوبابا جی کا وصال ہوگیااورمانسر شریف ہی میں ان کی تدفین کردی گئی اورپیر جی ان کے مزار شریف کے پاس ہی حجرہ نشین ہوگئے۔راوی جب بھی بری امام سرکار اور حضرت سائیں کلو بابا سرکار تذکرہ کرے گا تو راجہ محمد اکرم شہیدکو فراموش نہیں کر پائے گا جنہوں نے ساری ذندگی بری امام سرکار کے لیے وقف کر دی تھی راجہ محمد اکرم المعروف راجہ صاحب کو زیر بحث لائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ راجہ صاحب کا بری امام سرکار کے ساتھ دلی اور جذباتی لگاؤ تھا ۔ جب راجہ صاحب نے مزارات کے معاملات سنبھالے تو پھر وہ مزار کے ہی ہو کر رہ گئے جب اولیاء کرام کے حالات زندگی پڑھے جاتے ہیں تو ان میں مانسر شریف کا بھی ذکر خیر کیا جاتا ہے ۔ مانسر شریف میں درگاہ بابا کلو اور پیر سید انور علی شاہ کی خدمات قابل ذکر ہیں ۔ ضلع اٹک میں مانسر شریف روحانیت کے حوالے سے ایک خاص مقام اور پہچان رکھتا ہے ۔ یاد رہے راجہ محمد اکرم المعروف راجہ صاحب نے اپنی ساری زندگی بری سرکار کے مزار پر خدمات میں گزار دی ۔( راجہ صاحب کی ڈیوٹی کلو بابا سرکار ؒ نے لگائی تھی کہ آپ بری امام سرکارؒ کے مزار پر جائیں )۔ لیکن ان کا جسد خاکی مانسر شریف میں کلو بابا سرکار کے پہلو میں آرام فرما رہا ہے ۔ درگاہ بابا کلو سرکار ؒ مانسر شریف پر ہر سال عرس مبارک کی تقریبات 5ٗ6ٗ7اکتوبر کو انتہائی عزت و احترام اورمذہبی عقیدت کے ساتھ منائی جاتی ہیں ۔ راجہ محمد اکرم صاحب کی شہادت کے بعد بری سرکار کے دربار کے معاملات اور مانسر شریف درگاہ حضرت سائیں کلو باباسرکار کے معاملات صاحب زادہ راجہ سرفراز صاحب سنبھالے ہوئے ہیں ۔ عرس مبارک کی تقریب کا آغاز 5اکتوبر چادر پوشی سے بعد نماز مغرب کیا جاتا ہے ۔نعت خواں حضرات اپنے اپنے مخصوص انداز میں نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ عرس پاک میں محفل سماع کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ۔ ملک کے معروف قوال فرید حیات ابو محمد کراچی سے خصوصی طور پر تشریف لاتے ہیں ۔ ملک کی بڑی سیاسی و سماجی شخصیات بھی درگاہ کلو بابا پر حاضری دینا اپنے لئے باعث شرف سمجھتی ہیں یاد رہے کہ عرس کی تقریب میں محفل سماعٗ نعت خوانی کے علاوہ نیزہ بازی کا بھی خصوصی طور پر اہتمام کیا جاتا ہے ۔

شیئر کریں

Top