آئین اور قانون کی رہنمائی میں منتخب حکومت کی مد د جاری رکھیں گے آرمی چیف

download-2020-10-10T210108.928.jpg

فروری2019میں اپنے سے5گنا بڑے دْشمن کو شکست دی ،پاکستان آرمی ہماری قابلِ فخر قوم کی خوبصورت اور حقیقی عکاس ہے

پاکستا ن میں کوئی بھی کسی اور کیلئے جوابدہ نہیں،ہم قوم کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور جوابدہ ادارہ کے طور پر حاضر رہتے ہیں، پی ایم اے کاکول میں خطاب

کاکول (آئی این پی ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی ہماری قابلِ فخر قوم کی خوبصورت اور حقیقی عکاس ہے ،پاکستا ن میں کوئی بھی کسی اور کے کئے کیلئے جوابدہ نہیں، ہم قوم کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور جوابدہ ادارہ کے طور پر حاضر رہتے ہیں، ہم نے بہترین نتائج(باقی صفحہ7بقیہ نمبر34)

کے لئے اپنا آپ پیش کر دیا، پاکستانی قوم ہر مشکل اور ہر چیلنج میں آپ کو اپنے شانہ بشانہ ملے گی ،پاکستانی قوم کا افواج پر اعتماد اور مضبوط رشتہ دراصل ہمارے غازیوں اور شہیدوں کی بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے ،ہم نے امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی، امن سنگِ میل تو ہے منزل نہیں، ،پاکستان نے ان تمام سازشوں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھرپور کوششیں کی، ہماری تباہی کا منصوبہ بنا نے والے دشمن مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں، پاکستان کو24/7ہائبرڈ وار کا سا منا ہے،اس ہائبرڈ وار کا ہدف عوام ہیں اور میدانِ جنگ انسانی ذہن ہیں،ہر سطح پر قومی قیادت ہائبرڈ وار کا ہدف ہے،آئینِپاکستان اور قومی مفادات تمام معاملات میں ہمارے راہنما ہیں،ہم آئین اور قانون کی راہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے، ،دہشت گردی کی جنگ ہو یا کووڈ کے خلاف حکمت عملی، لوکٹس کے خلاف ہو یا سیلابی صورتحال، ہم نے بحیثیت قوم اپنی قابلیت اور اہلیت کو کارکردگی سے ثابت کیا ہے،پاکستا ن آرمی کو ان تمام قومی کوششوں میں شامل ہونے پر فخر ہے ۔ تفصیلات کے مطابق آرمی چیف نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو زندگی کے اس یاد گار دِن پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،میں پاس آؤٹ ہو نے والے دوست ممالک کے کیڈٹس کو بھی مْبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے محنت سے اپنی ٹریننگ کو مکمل کیا،آج کا دِن آپ ایک ایسی فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں جو پْوری دْنیا میں اپنی پیشہ وارانہ اور حربی صلاحیتوں کے لئے جانی اور پِہچانی جاتی ہے،آپ نے اپنے آپ کو ایک عظیم،مقدس اور انتہائی چیلنجنگ پروفیشن کے اہل ثابت کیا ہے،پاکستان آرمی نے نہ صرف دہشت گردی کو شِکست دی بلکہ فروری2019میں اپنے سے5گنا بڑے دْشمن کو ہزیمت سے دوچار کیا،پاکستان آرمی ہماری قابلِ فخر قوم کی خوبصورت اور حقیقی عکاس ہے،آپ چاہے آفیسر ہوں یاجوان، والنٹیر انڈکشن سے لے کر، تمام اکائیوں کی تناسب سے نمائندگی تک،آپ میں مدرسہ طالب علم سے کر پبلک سکول تک،ایک عام آدمی کے بیٹے سے لے کر متوسط وامیر کے بیٹے تک اور سب سے بڑھ کر شہیدوں کے وارث دراصل پاکستان کی خوبصورت نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا آج جب آپ پاس آؤٹ ہو رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ اِ س عظیم قوم اور پاکستان آرمی کی تمام سابقہ اور آنے والینشیب و فراز کی ذمہ داری آپ پر ہے،اِن میں بہت سے اْتار چڑھاؤ کے واقعات آپ کی پیدائش سے بھی پہل کیے ہوں گے،اپنی ذمہ داریاں مکمل کرچکنے کے بعد بھی، آپ کو پاکستان کی سلامتی، سیکورٹی اور خوشحالی کے لئے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا،یہ آپ کے کندہوں پر پاکستان کی عظیم قوم کا آپ سے محبت اور ذمہ داری کا ایک منفرد انداز ہے،پاکستا ن میں کوئی بھی کسی اور کے کئے کیلئے جوابدہ نہیں،میں اسے اعزاز سمجھتا ہو ں کہ ہم قوم کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور جوابدہ ادارہ کے طور پر حاضر رہتے ہیں،لہذا تمام کامیابیوں اور چیلنجز کے باوجود جب بھی وطن اور قوم کو ہماری ضرورت پڑی، ہم نے بہترین نتائج کے لئے اپنا آپ پیش کر دیا،پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے لیکن پاکستانیوں کے دِل بہت بڑے ہیں،پاکستانی قوم ہر مشکل اور ہر چیلنج میں آپ کو اپنے شانہ بشانہ ملے گی اور آپ پر فخر بھی کرے گی اور عزت بھی دے گی،آپ پر فرض ہے کہ مکمل وَفاداری اور بے مثال لگن سے اْن کے اعتماد پر ہمیشہ پْورا اْتریں،پاکستانی قوم کا افواج پر اعتماد اور مضبوط رشتہ دراصل اْن بے شمار قربانیوں کا ثمر ہے جو ہمارے غازیوں اور شہیدوں نے اپنے لہو سے رقم کی ہیں،آپ پر لازم ہے کہ اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بناتے جائیں،نظم و ضبط، فرائض کی بجاآوری اور غیر جانب داری آپ کا ہدف ہونا چاہیے،آپ کو اپنی جوانی کا ایک بڑا حصّہ سخت مشکلات اور بہتر ملکی مستقبل کی آبیاری میں مختص کرنا پڑے گا،اسے مشکل کی بجائے چیلنج کے طور پر قبول کریں،سپاہ گری مشکل راستہ ہے۔جس پر چلنا آسان نہیں،اِس راستے میں اپنے آپ کو وقف کرنا پڑتا ہے اور آپ کو ڈلیور کرنا پڑتا ہے،ہم نے امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے اور امن قائم رکھنے کیلئے لہو سے اسکی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ آ رمی چیف نے کہا امن سنگِ میل تو ہے منزل نہیں،معاشی طور پر خود مختار اور نظریاتی مستحکم پاکستان جو قائد کا ویڑن ہے اْس کی بْنیاد کو ہمیشہ مضبوط کرنا ہے،دْنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان کو جنگ، دہشت گردی اور معاشی شکنجے کا سامنا کرنا پڑا،دْنیا کے بہت سے ممالک اِن مشکلات کا سامنا نہ کر سکے اور بکھر گئے،پاکستان نے ان تمام سازشوں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،اب وقت ہے کہ متحد ہو کر اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر پاکستان کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں،اِسی ہدف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قائد کے ویڑن کے مطابق پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھرپور کوششیں کی،یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن اطمینا ن یہ ہے کہ آج ہمارے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور مِل کر پاکستان کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ دْشمن جو ہماری تباہی کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے، مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں،ہمارے دْشمن اپنے عزائم میں ناکام ہو نے کے بعد دل شکستہ ہیں اور مایوسی میں پاکستان کو24/7ہائبرڈ وار کا سا منا ہے،اس ہائبرڈ وار کا ہدف عوام ہیں اور میدانِ جنگ انسانی ذہن ہیں،ہر سطح پر قومی قیادت ہائبرڈ وار کا ہدف ہے،آپ کو بحیثیت ینگ لیڈرز پہلے دِن سے اِس چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا،آپ کو نہ صرف مایوسی کے اس ماحول سے اْمید کی کِرن بننا ہے بلکہ اپنے جوانوں کو بھی اِس پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنا ہو گا،اْصولوں اور روایات پر عمل پیرا ہو کر ہی آپ اِس ہائبرڈ وار کا مقابلہ کر سکتے ہیں،و ہ تنقید دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں حالات کا ادراک ہے اور ہم درست سِمت جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا عوام، دستور، دستوری روایات اور سب سے بڑھ کر وطن سے عہدِ وفا ہماری اصل مضبوطی اور طاقت ہے،آئینِپاکستان اور قومی مفادات تمام معاملات میں ہمارے راہنما ہیں،آج پاکستان دفاعی حوالے سے ایک مضبوط پاکستان ہے،ہمیں جس کام کیلئے بھی فرائض سونپے گئے،ہم آئین اور قانون کی راہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے،بحیثیت قوم ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم اپنے ذاتی اور آرگنائزیشن معاملات سے بالاتر ہو کر ناقابلِ یقین کام کر سکتے ہیں،دہشت گردی کی جنگ ہو یا کووڈ کے خلاف حکمت عملی، لوکٹس کے خلافResponseہو یا سیلابی صورتحال، ہم نے بحیثیت قوم اپنی قابلیت اور اہلیت کو کارکردگی سے ثابت کیا ہے،پاکستا ن آرمی کو ان تمام قومی کوششوں میں شامل ہونے پر فخر ہے کیونکہ اس قوم نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، بالخصوص جب ہم پاکستان کے دْشمنوں کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے،میری دْعا ہے کہ پاکستان ایک خوشحال، مستحکم اور متعین مقام پر پہنچے،ایک ایسا پاکستان جہاں نہ صرف مسلمان بلکہ اقلیتیں بھی اپنے حقیقی تصور ریاست کو دیکھ سکیں۔ انہوں نے کہا آپ کو انتہائی مشکل ترین حالت میں ذمہ داریاں ادا کرنے کا فرض سونپا گیا ہے،آپ کو یہ فرض ہر صورت نبھانا ہے اور اِن چیلنجز کے خلاف نبرد آزما ہو نا ہے،ہم منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں،تاہم ہمیں احتیاط کا دامن تھامے رکھنا ہے۔

آرمی چیف

شیئر کریں

Top