’’ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں‘‘ محبوب حسین

15 نومبر 2020 کو گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے عام انتخابات ہونے جارہے ہے، یاد رہیں کہ یہ عام انتخابات گلگت بلتستان کے 10 ضلعوں میں ہونا ہے، گلگت بلتستان اسمبلی جس میں کل نشستوں کی تعداد 33 ہیں جس میں 24 براہ راست اور 9 مخصوص نشستیں ہیں۔ جس میں پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں سمیت گلگت بلتستان کے تمام سیاسی جماعتیں اپنی بھرپور قوت اور طاقت کا مظاہرہ کرینگے، ان سیاسی جماعتوں میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) ، جماعت اسلامی، پاک سر زمین پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ق ، متحدہ قومی مومنٹ کے ساتھ ساتھ وہ تمام سیاسی جماعتیں ، اس انتخابی مہم میں حصہ لیں رہے ہیں اور اپنی زور آزمائی کا مظاہرہ کرینگے۔ سابقہ انتخابات میں بر سر اقتدار میں آنے والی پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اپنی پانچ سالہ حکومت پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد جمہوری عمل سے اقتدار نگران حکومت کے حوالے کیا تھا۔ اس حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے ہیں اس پہ لکھنا یہاں پہ مناسب بھی نہیں۔اگر دیکھا جائے تو جو بھی سیاسی جماعت بر سر اقتدار میں آتی ہے انکا بنیادی فرض یہ بنتا ہے کہ وہ علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں نا کہ اپنے جیبوں کو گرم کرنے کے لیے۔ھو بھی عوامی مسائل ہو انکو بروقت حل کرنا اس منتخب حکومت کی اولین زمہ داریوں میں شامل ہوتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ شہریوں کے بھی کچھ زمہ داریاں ہیں جن کی و نبھانا انکی اولین زمہ داریوں میں شامل ہونا چائیے۔ ایک بہترین شہری ہونے کے ناطے ہم پہ بہت سارے زمہ داریاں اور فرائض عائد ہوتے ہیں،ان زمہ داریوں میں ، محب وطن شہری ہونے کا فرض نبھایا، اداروں کے ساتھ تعاون کرنا، ایک دوسرے کے مابین محبت، ہم آ ہنگی اور بھائی چارگی کی فضا قائم کرنا، اس کے ساتھ ساتھ ہم پہ یہ زمہ داری اور فرض ہیں کہ ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال بھی ملک اور معاشرے کی ترقی اور بہتری کو مدنظر رکھ کر کریں۔ووٹ دینا ہر شہری پر فرض ہے، اگر یہاں پہ تاکزہ کریں کہ ووٹ اگر دیا جائے تو کن اوصاف اور خصوصیات کے مالک نمائندے کو اپنا رہنما بنائیں۔ ووٹ اس بندے کو دیں جو اعلی تعلیم یافتہ اور اعلی اوصاف کے مالک یو۔ووٹ اس نمائندے کو دیں جو آپ کا آواز بن کر ہر میدان میں آپکے شانہ بشانہ کھڑا ہو، آپکے دکھ درد اور غم میں شریک ہو، ووٹ اس بندے کو دیں جو انفرادی سوچ کے بجائے اس کا سوچ اجتماعی سوچ ہو، جس کا سوچ معاشرے میں فلاحی کاموں کی طرف مرکوز ہو، علاقے میں وہ تمام سہولیات مہیا کریں جو عام انسان کے لیے ضرورت ہے، ووٹ اس بندے کو کاسٹ کریں جس کا کردار، اخلاق و تمیز نمایاں ہو، مثبت سوچ کے حامل انسان کا چنا ہی علاقے اور ملک کے لیے بہتر ہے۔ اس نمائندے کا چنا کریں جو زات پات سے بالاتر ہو کر معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے ہو نہ کہ معاشرے کی بگاڑ کے لیے معاشرے میں انسانوں کی تربیت اور کردار سازی کے لیے بہت سارے انسٹیوشنز کام کر رہے ہیں ، ان اداروں میں پہلا درسگاہ ہماری فیملی، مزہبی ادارے، تعلیمی ادارے، فلاحی ادارے اور انکے ساتھ ساتھ سیاسی ادارے بھی انسان کی تربیت انک کی کردار سازی میں بہت نمایاں کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستہ افراد کا تعلق انکی سیاسی کارناموں اور انکے تربیت سے ہی لیا جاتا ہے۔ لہذا ایک بہترین شہری ہونے کے ناطے ہم پہ یہ فرض بھی عائد ہے کہ ایسے جماعتوں کا انتخاب کریں جن کا سوچ علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔آج کل اگر دیکھا جائے تو ایسے کنڈیڈٹ بھی اس مہم میں حصہ لے رہیں ہیں جن کو الف ،ب کا پتا نہیں اور یہ مخصوص لوگ ہوتے ہیں جو وقت آنے پہ اپنا سودا کچھ پیسوں پہ عوض کر کے دوسرے بندے کے لیے دستبردار ہوتے ہیں لہذا ان برئے عناصر سے بھی بھجنا ہے۔آخر میں نوجوان طبقہ سے پور زور اپیل اور گزارش ہے کہ اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے معاشرے کی ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں، سوشل میڈیا کا استعمال معاشرے کی بہتری کے لیے کریں، نہ کہ فسادات پھیلانے کے لیے، جب ہم سوشل میڈیا پہ نظر دوڑاتے ہے تو ہمیں ایسے مواد ، تحریروں کی شکل میں ، پوسٹ کی شکل میں لطیفوں کی شکل میں اور کامینٹس کی شکل میں ملیں گے ، جو دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے اخلاقیات کے تمام حدود توڑ رہے ہوتے ہیں۔ سیاست کچھ وقت کے لیے ہے کچھ سال بعد اقتدار کسی اور کے سر سجھنا ہے۔ اس لیے اپیل ہے ایک دوسرے کے ساتھ مہر و محبت سے زندگی بسر کریں۔ہمارے آبا اجداد نے جو اخلاقیات ہمیں سکھائے ہیں ان پہ عمل کریں نہ کہ ان پہ جو ہمیں خرید کے دوسروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ ووٹ بیشک جس بندے کو بھی کاسٹ کریں لیکن اخلاق اور تمیز کو ہر حال میں بھگنے نہ دینا۔

شیئر کریں

Top