ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کی مناسبت سے آگاہی کا دن محمد عباس

گزشتہ 70 سالوں سے پاکستان میں نا صرف مرد ، خواتین اور بچوں کی اوسط عمر میں واضح کمی ہورہی ہے بلکہ سست معیارِزندگی اور قوت خرید میںکمی کے باعث بیماریوںاور اموات میں میں ہو شربا اضافہ ہو رہا ہے ۔دیگر سماجی مسائل کی طرح صحت کا سوال بھی امیر اور غریب دونوں کے لئے قہر بن کر نازل ہوچکا ہے،بیماریوں کا اگر تذکرہ کریںتو ان میں سے آج کل سنگین اور خطرناک ۔۔”ذہنی امراض” کی بیماری ہے ۔اگر ہم پاکستان میں ذہنی اور نفسیاتی امراض میںمبتلا لوگوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں مسلسل اضافہ ہوتا دکھائی دے رہاہے اس تسلسل کے باعث ہرسال 10اکتوبر کو ’ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے‘ یعنی دماغی صحت کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز1992ء میں کیا گیا جس کا مقصد تھا کہ دنیا بھر کے لوگوں میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، ذہنی مرض میں مبتلا افراد سے بہتر رویہ رکھنااوران کی ذہنی اور دماغی امراض کی روک تھام اور بچاؤ کے لئے اقدامات کرنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر کے تقریباً45کروڑ افرادکسی نہ کسی طور پردماغی عارضے میں مبتلاہے ۔ماہرین صحت کے مطابق پاکستان میں تقریباً6کروڑسے زائد افراد ذہنی امراض کا شکار ہیںجن میں بالغ افراد کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سے تین کروڑ کے قریب ہے۔ پاکستان سائکائٹرک سوسائٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں% 33 لوگ ذہنی پریشانی اور ڈپریشن،% 4 لوگ وہم، جبکہ 3% لوگ بے جا خوف کی بیماری میں مبتلا ہیں۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں ذہنی مرض میں مبتلا مسائل کے شکار فراد کے لیے صرف ساڑھے چار سو تربیت یافتہ ماہر ڈاکٹر موجود ہیں جو کہ قطعی طور پر ناکافی ہیں۔دماغی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل کی صورتِ حال انتہائی گمبھیر ہے۔حکمران اس ساری صورتحال کے حوالے سے کس قدرسنجیدہ ہیںاور ان میں غریب کا درد کس قدر ٹوٹ ٹوٹ بھرا ہوا ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت اپنے مجموعی بجٹ کا انتہائی قلیل حصہ صحت پرخرچ کرتی ہے اور صحت کے بجٹ کا بہت ہی کم حصہ ذہنی امراض کے علاج کے لیے خرچ کیا جاتا ہے جو کہ قابلِ افسوس بات ہے اگرچہ پاکستان میں صحت کا شعبہ اب صوبوں کے حوالے کیا جا چکا ہے مگر ابھی تک کسی بھی صوبے نے ذہنی امراض کے علاج کے لیے مینٹل ہیلتھ ایکٹ ہی پاس نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی صوبے میں مینٹل ہیلتھ اتھارٹی قائم کی جا سکی ہے۔پاکستان میں ذہنی امراض کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے حالیہ کورونا وائرس کی لہر آنے کے باعث لوگوں کی صورتحال بہتر دکھائی نہیںدیتی ہے ۔لوگوں میںبے یقینی اور عدم تحفط کا بڑھتے ہوئے احساس کی وجہ سے اضطراب، بے چینی، چڑچڑاپن، غصہ اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ جو کہ ان کی ذہنی صحت کے لیے مناسب نہیں ہے اوراسی وجہ سے ملک میں خود کشیوں کی شرح بھی بڑھ رہی ہے،واضح رہے کہ سینٹ میںخودکشی کی کوشش کو جرم سمجھے جانے کے قانون کے خلاف بل پاس ہونے کے باوجودپاکستان پینل کوڈکا سیکشن325تاحال موجود ہے جس کے مطابق خود کشی کی کوشش جرم ہے ،بیماری نہیں۔بدقسمتی سے دنیا کے اکثر کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میںلوگوں کی اکثریت ذہنی مسائل کو ایک بدنماداغ تصور کرتے ہیں اور ایسے افراد کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔ مزید برآںاکثر لوگوں میں یہ غلط تصور گھر کرچکا ہے کہ ذہنی مسائل کا کوئی موثر علاج موجود نہیں ہے۔ اس غلط سوچ کے باعث ذہنی مسائل کے شکار افراد کو معاشرہ رَد کرتے ہوئے خود سے الگ کردیتا ہے اور انھیں کسی قسم کے طبی علاج اور امداد سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ذہنی صحت کو متاثر کر دینے والی کچھ ایسی علامات ہیںجن میں سے مزاج کا چڑچڑاپن، غصہ، اداسی، نیند اور بھوک کا ڈسٹرب ہونا، وزن میں کمی بیشی، یکسوئی اور اعتماد میں کمی اور مایوسی کا در آنا ہے ایسی صورت میں کسی نیم حکیم کے علاج یا جادو ٹونے کی بجائے کسی مستند ڈاکٹرسے رابطہ کریں ،اسکے علاوہ محکمہ پرائمری سکینڈری کی جانب سے قائم کردہ ہیلپ لائن 1033 پر رابطہ کرکے ڈاکٹر سے طبی مشورے اور رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جسمانی ورزش انسان کو دماغی بیماریوں سے بچائے رکھتی ہے،ورزش کرنے سے انسان کے خون میں ایسے ہارمون داخل ہو جاتے ہیں جو انسان کے اعصابی نظام کے لئے انتہائی مفیدہے لہٰذورزش کو روزمرہ کا معمول بنا کر دماغی بیماریوں کے خطرے کو کم سے کم کیا جاسکتاہے۔اب اگر ایک نظر پاکستان میں ہسپتالوںکی صورتحال پر ڈالیں تو اس وقت مینٹل ہسپتالوں، سرکاری میڈیکل کالجوں اور نجی نفسیاتی امراض کے مراکز میں بستروں کی مجموعی تعداد 5 سے 6 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ ماہرین نفسیات کی تعداد 500 ہے، جن میں سے زیادہ تر بڑے شہروں میں پریکٹس کر رہے ہیںعلاوہ ازیںاہم علاقوں میں چند مینٹل ہسپتالوں کا جائزہ لینے پر معلوم ہوجائے گا کہ ذہنی امراض سے متاثر افرادحکومتی ترجیحات میں کس قدر پیچھے ہیں۔ اس سلسلے میں میری یہ تحریراس بات کی حمایت کرتی ہے کہ حکومتوں، امدادی اداروں اور ذہنی صحت کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے اداروں کے ذہنی مرض میں مبتلا افراد کے اضافہ کو کم کرنے کیلئے ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور موثر علاج تک رسائی بڑھانے کی کوششوں کو بڑھانے پر زور دینا ہو گا ہے اور ساتھ ساتھ تحقیق کے ذریعہ نت نئے علاج ،معالجے کی نشاندہی کرنے اور تمام ذہنی عوارض کے لئے موجودہ علاج کو بہتر بنانا کے لئے تمام محاذوں پر سرمایہ کاری اور مناسب وسائل خرچ کرنے کو بنیادی ترجیحات میں شامل کرنا ہو گا تاکہ ہر انسان بھر پوراور صحت مند زندگی گزار سکے۔

شیئر کریں

Top