’’سردجنگ‘‘ عمرین نواز

سادہ الفاظ میں” مذہبی عقائد و نظریات کی بناء پر گروہ بندی” کو فرقہ واریت کہا جاتا ہے۔ لیکن آج کے حالات کے پیش نظر یہ تعارف بہت سادہ اور ادھورا ہے۔ آج کی دنیا میں فرقہ واریت صرف نظریات میں اختلاف تک محدود نہیں بلکہ ذاتی مسئلے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مخصوص مذہبی, ثقافتی اور سماجی نظریات کی ”شدید پسنددیدگی” کی بناء پر لوگوں کا مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجانا فرقہ واریت کی بدترین صورت ہے۔اپنے ان پختہ عقائد کی بناء پر دوسرے لوگوں کے جذبات، احساسات اور نظریات کا احترام نہ کرنا اس کو مزید شدید تر کرتاچلاجارہا ہے۔بین الاقوامی سطح پر اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ یہ ہر ملک، ہر شہر، گاؤں اور ہر گلی کوچے میں طوالت اختیار کرچکاہے۔ حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والی تحریک ” *بلیک لایوز* *میٹر* ”اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔فرقہ وارانہ تحریکیں ان نظریات کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔اگر بات کی جائے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی تو میرا دل بہت دکھتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ ہماری قوم بھی فرقہ وارانہ سازشوں کا مکمل طور پر شکار ہوچکی ہے۔لوگ مذہب کے نام ایک دوسرے کے دشمن ہوے بیٹھے ہیں۔ مسلمان ایک دوسرے کا قتل عام کررہاہے۔لوگ ایک دوسرے کو کافر کہنے سے بھی گریز نہیں کررہے۔ وہ لوگ جن کو مذہب کا نہیں پتہ ایک دوسرے پر فتوے لگا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو جہنمی کہا جارہاہے۔میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہوں گی کیا واقعی یہ ان کے ہاتھ میں ہے؟ کیا واقعی یہ اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں؟ کہ کون جہنم میں جاے گا اور کون نہیں؟ کیا واقعی اسلام ہمیں” *نعوذ بااللہ* ” لعن طعن اور قتل عام کا درس دیتاہے۔؟ تو ان سب کا جواب ”نہیں ” ہے یہ سب تو اس رب کریم نے طے کرنا ہے۔ یہ تعصب زدہ فعل لوگوں کی حقیقی زندگیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی بہت عام ہو گیا ہے۔آپ کسی سوشل ایپ پر نظر دوڑائیں تو لوگوں کی زہر آلودہ فساد سے بھر پور تحریریں،مذہبی عقائد کی بے حرمتی کے متعلق پوسٹیں آئے دن اپ لوڈ ہورہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔لوگ جاہلوں اور جانوروں کی طرح گالی گلوچ کرتے اور جھگڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔موجودہ حکومت ٹک ٹاک کا استمعال روک دیا ہے ، پب جی اور یوٹیوب کو بند کروانے کے مشورے دے رہی ہے کیا یہ امر ان کے لیے مشکل ہے کہ اس طرح کے مواد کو نشر کرنے والی تنظیموں کو نہ پکڑ سکے؟صرف باتوں سے کہنا کافی نہ ہوگا۔قانون سازی کافی نہیں بلکہ ان قوانین کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔یہ ایک ایسی ”سرد جنگ” ہے جو آہستہ آہستہ ہماری جڑوں تک پہنچ گئی ہے۔اگر بروقت اسکی روک تھام نہ کی گئی تووہ دن دور نہیں کہ جب ہماری قوم پوری طرح تباہی کے داہنے پر کھڑی بین کررہی ہوگی۔اور یہ نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی ساکھ کھودے گی۔اسی لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وقت رہتے ہوے مجموعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک پوری قوم کو یک جان ہوکر فرقہ واریت کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔خدارا کسی نام نہاد علماء، خطیب کے پیروکار بننے سے پہلے قرآن کھولو اور اسکی تفسیر پڑھو۔اپنے ”پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ”کی سیرت کا مطالعہ کریں۔ان کے حالات زندگی پر غور کریں اور عمل میں لانے کی کوشش کریں۔ ترمذی شریف کی حدیث نمبر”7”ہے جس میں اللّٰہ کے رسول نے فرمایا!” کہ اسلام میں ۳۷ فرقے ہوں گے جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا تو صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ کون لوگ جنت میں جائیں گے؟تو آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ لوگ جو قرآن و احادیث پر عمل پیرا ہوں گے۔”۔آئیے” قرآن کریم” کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔سورۃ العمران(آیت نمبر?۳۰)”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں تفرقہ نہ پھیلاو”۔۔تو اے مسلمانو! قرآن و احادیث کے بیان کردہ دلائل کافی نہیں؟ اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اور کونسے دلائل چاہتے ہو؟ کیا آپ لوگ غوروفکر نہیں کرتے؟ ان سے بڑی دلیل آپ کو کہیں نہ ملے گی۔ یہ صرف حکومت کی ذمّہ داری نہیں اور نہ ہی صرف علماء، خطیب کاروں اور ممبرز پر بیٹھنے والوں کی ذمہ داری ہے۔یہ ایک انفرادی ذمہ داری ہے۔جو ہر شخص کو پوری کرنا ہوگی۔اختلافات ہر جگہ ہوتے ہیں۔مگر خدارا دوسروں کے لیے بھی اپنے دل گنجائش رکھو۔اپنا دل اللّٰہ کی مخلوق کے لیے بڑا کرو۔شاید فرقہ واریت کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں لیکن اس کی شدت میں بہت حدتک کمی لائی جاسکتی ہے اور یہ صرف قرآن و احادیث کے تفصیلی مطالعہ سے ہی ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک و قوم پر اپنی رحمت بھرا سایہ قائم و دائم رکھے۔آمین

شیئر کریں

Top