بلتستان یونیورسٹی میں ادبی محفل سج گئی ڈاکٹر ریاض رضیؔ

بلتستان یونیورسٹی نے اپنے روایتی کردار کو جاری رکھتے ہوئے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔ ’’سیاسی مباحثہ‘‘ کے کامیاب اِنعقاد کے بعدانچن کیمپس میں ’’ادبی محفل‘‘ سجادی۔ ’’شامِ سحر‘‘ کے عنوان منعقدہ ادبی محفل کے روحِ رواں عظیم صوفی شاعر، عارف بااللہ، شاعرِچہارزبان شیخ غلام حسین سحرؔ تھے۔یہ موصوف کی برجستہ شخصیت ہی تھی کہ محفل میں موجود ہر شخص ادب و شاعری کا پُرجوش سامع نظرآیا۔اس کامیاب ادبی محفل کے انعقاد سے یہ بات بھی مترشح ہوگئی کہ ادبِ بلتستان کے بے بدل ادیب شیخ غلام حسین سحرؔ اپنی روحانی وعرفانی شخصیت کے منفرد نشان ہیں۔ اور کیوں نہ ہو کہ اِس محفل کو جہاں مہمانِ خصوصی شیخ غلام حسین سحرؔ اپنی سحرزدہ شخصیت سے رونق بخش رہے تھے وہی دس(۱۰) مقالہ نگار اپنی ہمہ جہت علمیت اور چھ(۶) مدح خواں اپنی خوش الحانی سے اور تین ثناء خواں اپنے صوفیانہ کلام سے دادِ تحسین سمیٹ رہے تھے۔ اِس زبردست ادبی محفل کی میزبانی حسب سابق بلتستان یونیورسٹی لٹریری فورم نے ادا کی جبکہ صدارت کی ذمہ داری وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے نبھائی۔ جیسا کہ بلتستان یونیورسٹی کی روایت رہی ہے کہ کارکنان کی ایک پوری ٹیم بھرپور سعی کے ساتھ پروگرام ترتیب دیتی ہے اور فرداً فرداً تمام اساتذہ اور انتظامی آفیسران اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتے ہیں۔ ’’شامِ سحر‘‘ کی محفل کو کامیاب بنانے میں جہاں فوکل پرسن ڈاکٹر غلام رضا کا کردار نمایاں تھا وہی دیگر ممبران نے بھی انتھک محنت کی۔محفل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ ایک طرف محفل کی تمام مصروفیات براہِ راست بذریعہ سوشل میڈیا نشر ہورہی تھی اور پانچ ہزار سے زائد سامعین و ناظرین اس کے شائقین میں سے تھے وہی آڈیٹوریم میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ بلتستان یونیورسٹی کے ذمہ داران نے شیخ غلام حسین سحرؔ کی ادبی و عرفانی خدمات کو مدِنظررکھتے ہوئے اُنہیں ’’سفیرِ ادب۔ بلتستان یونیورسٹی‘‘ کے لقب سے نوازااور باقاعدہ طور پر سند(سر ٹیفکیٹ)عطاء کی۔ محفل کا آغاز ہوا تومقالہ نگاروں نے شیخ غلام حسین سحرؔ کی عارفانہ زندگی اور شاعرانہ طرزِ عمل کو مدِنگاہ رکھا۔ اُن کی زندگی کا ہر ہر گوشہ تفسیر ہوا۔ مقالہ نگاروں نے بتایا کہ شیخ سحرؔ اور موت ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، وہ زندگی سے بے پرواہ اور موت کے مشتاق فرد ہیں۔ وہ سخاوت کا اِظہار بھی اس طرح کرتے ہیں کہ داہنے ہاتھ سے عطاء کرتے ہیں اور باہنے ہاتھ کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔اِس محفل کے مہمان مقالہ نگاروں میں بیرونِ بلتستان کے دو افراد بھی شامل تھے جو خصوصی طور پر گلگت سے تشریف لائے تھے۔اُنہوں نے شیخ غلام حسین سحرؔ کی شان میں مقالہ پیش کیا۔ اُن میں سے ایک مفتی عنایت اللہ کے نائب عبیداللہ اور دوسرے اُستاد شکیل تھے۔ اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے معروف صحافی ذیشان مہدی نے کہا کہ کم عمری سے ہی شیخ غلام حسین سحرؔ شاعرانہ وصف سے متصف تھے۔ اُن کے شاعرانہ مزاج کو سمجھنا ہے تو اوائلِ عمری کی طرف نظر کرنا ہوگی۔ جب ہم شیخ سحرؔ کونو عمری میں دیکھتے ہیں تو وہ ایک ایسا بچہ نظر آتا ہے جو اپنے سے عمر میں بڑے اور تجربہ کار افراد سے بیت بازی کرتا ہے، اُن پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ ہی وہ جھجھک محسوس کرتا ہے۔ بس سیلِ رواں کی طرح شاعرانہ پرتیں کھول رہا ہوتاہے۔ ذیشان مہدی نے مزید کہا کہ وقت کو خول میں بند کرنے والے اور علم کی باریکیوں کی طرف بڑھنے والے غلام حسین سحرؔ کو ’’سحر‘‘ بننے میں بڑا وقت لگا۔ شاعری کی طرح اُن کی شخصیت بھی منفرد ہے۔ آپ امن و امان کے داعی ہیں۔ نطقِ کلام میں صوفیانہ کلام کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔مقالہ نگار محمد عباس کھرگرونگ نے کہا کچھ شخصیتیں چھاجانے کی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ شیخ غلام حسین سحرؔ اُن شخصیات میں سے ایک ہیں۔ شیخ سحرؔ مردِ قلندر اس لئے ہیں کہ آپ خواہشوں سے آزاد ہیں۔شیخ صاحب نے احساسات کو لفظوں میں مقید کرکے ہم جیسوں کو روشنی کی کرن دیکھائی ہے۔اُنہوں نے بلتی ادب کو سحرانگیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ شیخ سحرؔ کی شاعری اُن کی شخصیت کی بہترین توضیح ہے۔ اُنہوں نے بلتستان یونیورسٹی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ہذا نے ادبی محفل منعقد کرکے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔یہ یونیورسٹی ہماری قوم کیلئے اُمید کی نئی کرن ہے۔وزیرفدا حسین شگریؔ نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا شیخ سحرؔ اِس دُنیا کیلئے نہیں بلکہ عالمِ لاہوت کیلئے موزوں ہیں۔ علم و ادب پر اُن کا تسلط قائم ہے جبکہ لوگ شیخ سحرؔ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ شیخ صاحب ہمیشہ نئی راہوں پر چلے ہیں۔ اُنہوں نے شاعری میں کسی کی تقلید نہیں کی اور نہ ہی کسی کو مقلد بننے کی کوئی راہ چھوڑی ہے۔ وہ فصاحت و بلاغت کا عظیم استعارہ ہیں۔ اُن کا کلام ہر عام و خاص میں یکساں مقبول ہے۔ اُنہوں نے شیخ سحرؔ کے کلام میں استعال شُدہ مختلف صناعیوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ کلامِ شیخ سحرؔ میں معنی و بیان کا عظیم خزانہ چھپا ہوا ہے، اُن کے کلام میں تلمیحات کی کثرت ہے۔ معروف کالم نگار قاسم نسیم نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ غلام حسین سحرؔ دُنیاوی نمود و نمائش سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔ وہ ایک عرفانی شاعر ہیں، فکر و فن کے خالق اور صاحبِ تقویٰ شخصیت ہیں۔ آپ کی جدوجہد کا تعلق اُخروی نجات سے ہے ، آپ ہمیشہ دُنیا کی بے ثباتی پر نوحہ کناں رہتے ہیں۔ اُنہوں نے شیخ سحرؔ کے عرفانی کلام کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ آپ منفرد لب و لہجے کے مالک ہیں۔ آپ نے جو بھی کہا منفرد تخیل کے ذریعے کہا۔ قاسم نسیم نے مزید کہا کہ شیخ غلام حسین سحرؔ کا ایک پسندیدہ موضوع ’’موت‘‘ ہے۔ جدید آلات و ذرائع ابلاغ سے شغف اور تعلق نہ رکھنے کے باوجود عالمی حالات پر مکمل گرفت رکھتے ہیں۔ ان کے اکثر کلام میں احساسات کی نمائندگی واضح نظر آتی ہے۔ وہ سیاسیات پر بھی بات کرتے ہیں، معاشیات پر بھی گفتگو کرتے ہیں ،اُن کی ایک نصیحت قناعت پسندی کو بڑھاوا دیتی ہے۔ شیخ غلام حسین سحرؔ کا وجود اس معاشرے کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔اُنہوں نے کہا کہ بلتستان یونیورسٹی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اتنی بڑی ادبی محفل کے انعقاد کو ممکن بنایا۔ گلگت سے آئے ہوئے عبیداللہ نے کہاکہ میں یہ مقالہ ایک ایسے شخص (مفتی عنایت اللہ)کی طرف سے پیش کررہا ہوں جنہوں نے شیخ غلام حسین سحرؔ کو دیکھا ہی نہیں۔ مفتی عنایت صاحب نے شیخ صحرؔ کی کتاب ’’پیام سحر‘‘ کامطالعہ کیا اور تجزیاتی طور پر مذکورہ مقالہ لکھا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شیخ سحرؔ نابغہ روزگار شخصیت ہیں۔ خال خال ہستیوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ آپ متحر اور منفرد طرزِ کلام کے مالک ہیں۔ آپ کی ذات دُنیا سے بے رغبتی کی زندہ مثال ہے۔سابق وزیربلدیات و برقیات حاجی اکبر تابانؔ نے کہا کہ میں وجد میں آکر بھول گیا تھا کہ مجھے کسی اور پروگرام میں بھی جانا تھا۔چونکہ شیخ غلام حسین سحرؔ کی شخصیت اس پروگرام میں تشریف فرما تھیں اس لئے مجھے ہر حال میں اس ادبی محفل میں شرکت کرنا تھی۔ اُنہوں نے بتایا کہ اللہ کے ولی کو کسی راستے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنے راستے خود متعین کرتا ہے۔ میں شیخ غلام حسین سحرؔ کو ایک اور اسلوب سے دیکھتا ہوں ۔وہ یہ ہے کہ آپ ایک جمہور پسند اور سیاسی شخصیت ہیں۔ آج بھی جدید حالات کے بارے میں پوچھیں تو شیخ سحرؔ صاحب پوری خبروں سے آشنا کردیں گے۔ طبِ جدید کے ماہرڈاکٹر مظفر حسین انجمؔ نے مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ شیخ غلام حسین سَحر اور سِحر دونوں کا مجسم ہیں۔ میں نے کئی روپ میں شیخ سحرؔ کو سمجھنے کی کوشش کی لیکن ہر روپ میں آپ کی ذات معمہ نظر آئی۔ حصولِ علم اور جہاں گردی نے شیخ غلام حسین سحرؔ کو ایک جگہ ٹکنے نہیں دیا۔ نجف اشرف اور دیگر شہروں میں جید علماء اور مجتہدین کی صحبت اختیار کی اور علم و عرفان کی منزلیں طے کرلیں۔ آپ نے لبنانی کسی جامعہ میں تدریسی خدمات بھی انجام دی اور بھرپور طریقے سے اپنی شخصیت کا سحر پھونکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیخ غلام حسین سحرؔ سیاسی شعور ضرور رکھتے ہیں لیکن سیاسی پرندہ کبھی نہیں بنتے۔ شیخ صاحب موت کو نئی زندگی کا پیغامِ سحر سمجھتے ہیں اور موت کو حدِکمال گردانتے ہیں۔ وہ عاجز اور عشقِ رسولؐ واہلبیتؑ سے سرشار ہیں۔ ڈاکٹر مظفر حسین انجمؔ نے بلتستان یونیورسٹی اور وائس چانسلر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ہذا نے ایک زندہ شخصیت کے اعزاز میں یہ محفل منعقد کی وگرنہ ہم مرے ہوئے ہوں کو یاد کرتے ہیں۔گلگت سے تشریف لائے اُستاد شکیل نے فلسفیانہ اورکہانی کے انداز میں شیخ غلام حسین سحرؔ کی زندگی بیان کردی۔ اُنہوں نے بتایا کہ کتابوں کے بوجھ تلے دب کر کوئی بھی شخص عالم نہیں بن سکتا۔ فقیری اور انکساری میں ہی وجدان ہے۔ شیخ غلام حسین سحرؔ کی زندگی سادہ بیانی کی پرتُو ہے۔ کسی تصنع کے بغیر اُن کی باتیں یاد رکھنے کی قابل ہیں۔ گلگت بلتستان کے معروف مورّخ محمد حسن حسرتؔ نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ معرفت کے بغیر دین ایسا ہی جیسے روح کے بغیر جسم، شیخ غلام حسین سحرؔ کی زندگی عرفان سے مزین ہے اور وہ خود مردِ عرفان ہیں۔ اُنہوں نے اپنی شاعری کو علمِ عرفان کے چراغ سے روشن کیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کمال یہ ہے کہ شیخ غلام حسین سحرؔ جدید آلات سے تعلق بھی نہیں رکھتے اور حالاتِ حاضرہ پر مکمل گرفت بھی رکھتے ہیں، یہ علمِ عرفان نہیں ہے تو کیا ہے۔آپ نے اپنے عارفانہ کلام کے اظہار کیلئے چار زبانوں کو ذریعہ بنایا۔ آپ کو اللہ نے اپنے قرب کا راستہ دکھلایا ہے ، آپ اس سماج کے وہ باغی ہیں جس کی بغاوت عرفان سے مبرا نہیں ہے۔ حسن حسرتؔ نے کہا کہ جس طرح اقبال کے فلسفے میں خودی ہے اسی طرح شیخ غلام حسین سحرؔ کے فلسفے میں موت ہے۔ معروف دانشور یوسف حسین آبادی نے کہا کہ شیخ غلام حسین سحرؔ کے ساتھ میری سینتالیس سالہ رفاقت ہے۔ آپ آغاز میں بھی سحر تھے اور آج بھی آپ وہی سحر ہیں۔ اُنہوں نے لفظ صوفی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوفی نو(۹) معنوں کا نچوڑ ہے اور جب یہ نو معنی یکجا ہوتے ہیںتو سحرؔ بنتا ہے۔ دوسری جانب مدح خوانی کرنے والوں میں فرمان مرغوبؔ، کاچو عباس، صداقت شگریؔ، حسن خان شگریؔ، واصف علی واصفؔ، جان علی شاہ شامل تھے اور صوفیانہ کلام اعجاز جبرانؔ، راجہ محمد علی شاہ مقپون او رمنظور بلتستانیؔ نے پیش کیا۔ شعبہ انگریزی بلتستان یونیورسٹی کے لیکچرار عبدالرحمن میرؔ نے نظم پڑھی۔ معروف شاعر احسان دانش نے کمپیئرنگ کے فرائض انجام دیئے۔ ادبی محفل کے آخر میں تمام مقالہ نگاروں اور مدح خوانوں کو بلتستان یونیورسٹی کی طرف سے سوینئرز پیش کئے گئے۔ قبلِ ازیں وائس چانسلربلتستان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے ادبی محفل میں شریک معزز مہمان شیخ غلام حسین سحرؔ، مقالہ نگاروں اور مدح خوانوں کا شکریہ ادا کیا۔

شیئر کریں

Top