12ہزار روپے ادائیگی کرنے والا بھی اب گھر خرید سکے گا ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک

n00839732-b.jpg

ہوم فنانسنگ کیلئے بینکوں اور عام آدمی کی مشکلات کو دیکھا گیا ہے، 40 ہزار روپے آمدنی والا ذاتی گھر کا خواب نہیں دیکھ سکتا تھا
بینک کے نارمل ریٹ پر لوگ قرضے نہیں لے سکیں گے۔ متوسط طبقے کو بھی 25 ہزار روپے تک قسط پر گھر مل سکے گا،سیما کامل
کراچی(مانیٹرنگ)ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سیما کامل نے کہا ہے کہ ہوم فنانسنگ کیلئے بینکوں اور عام آدمی کی مشکلات کو دیکھا گیا ہے۔ 40 ہزار روپے آمدنی والا ذاتی گھر (باقی صفحہ6بقیہ نمبر55)
کا خواب نہیں دیکھ سکتا تھا لیکن اب 12 ہزار روپے کی ادائیگی کرنے والا بھی گھر لے سکے گا۔ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کیساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سیما کامل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہاسنگ فنانس کیلئے پہلی بار باقاعدہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بینک کے نارمل ریٹ پر لوگ قرضے نہیں لے سکیں گے۔ متوسط طبقے کو بھی 25 ہزار روپے تک قسط پر گھر مل سکے گا۔ قرض کیلئے صرف شرط یہ ہے کہ پہلی بار گھر خریدا جا رہا ہو۔ پہلے سے گھر کے مالک کو رعایتی ہاسنگ فنانس نہیں ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہر ہفتے وزیراعظم عمران خان ہوم فنانس میٹنگ کرتے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بینک کے ساتھ بھی ہر ہفتے دو میٹنگز ہوتی ہیں۔ ایل ڈی اے پروجیکٹ میں نیفڈا نے 2400 فلیٹس بک کرا لیے ہیں۔سیما کامل کا کہنا تھا کہ بینکوں کے ساتھ فارم، بروشر، مارکیٹنگ اور ٹریننگ شروع ہو چکی ہے۔ بینکوں نے ہوم فنانسنگ کیلئے سٹاف کو تربیت دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک ہفتے میں بینکوں کے پروڈکٹ، اشتہار اور بروشر نظر آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر لوگ شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ سیاپنے گھر بناتے ہیں۔ ہاسنگ فنانس میں زیادہ تر اسلامک بینکنگ کی پروڈکٹ ہوں گی۔ پہلے درجے میں نیا پاکستان سکیم جبکہ دوسرے میں باقی گھر ہونگے۔ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ بینکوں کے ایک فارم جبکہ پروڈکٹ فیچر بھی ایک ہی ہونگے۔ بینکوں کو ہدایت ہے کہ کسٹمرز کو 30 دن میں قرضے کا فیصلہ کریں۔ جن کی آمدنی کا ثبوت نہیں ہوگا، بینک ان کی آمدنی کا اندازہ لگائیں گے۔ بجلی، فون بل اور سکول فیس سے بھی بینک آمدنی کا اندازہ لگائیں گے۔
ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک

شیئر کریں

Top