باقی آپ کی مرضی الیاس محمدحسین

کورونا وائرس کے حوالے سے بہت کچھ آپ نے پڑھا، سنا اور ٹی وی سکرین اور سوشل میںیا پر دیکھا ہوگا یہ کتنا خوفناک عذاب ہے اس کی حقیقت کیاہے ہم میں سے بیٹترنہیں جانتے۔بہرحال جو کچھ ہمیں معلوم ہورہاہے انتہائی بھیانک ہے یورپ کا مڈل کلاس لیکن ترقی یافتہ ملک اٹلی جہاں کورونا اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ اٹلی میں اموات کی تعداد چین سے کئی ہزار زیادہ ہوچکی تھی پورے ملک میں ایک انجانا سا خوف ہر شخص کے اعصاب پر سوارہے شہر کے شہرسنسان اتنا خوف و ہراس کہ لوگ بھوکے رہنے کے باوجود گھرو سے باہر جانے سے بھی خوفزدہ ہیں اب وہاں یہ حال ہے کہ میتیں اٹھانے کے لئے گاڑیاں نہیں ہیں اس لئے فوجی ٹرکوں میں لاشیں بھر بھر کر بغیر کسی غسل وکفن اور آخری رسومات کے دفن کی جارہی ہیں اور ان کے لواحقین کو انپے پیاروںکا آخری دیدار کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے دوسری طرف ہمارے ہمسایہ ملک ایران میں ہر دس منٹ میں کورونا وائرس سے ایک موت ہورہی ہے اس ملک پر عالمی طاقتوںنے اقتصادی پابندیاں لگارکھی ہیں اس لئے ایران دوائیں خریدنے کے لئے ساری دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ بس پابندیاں ہٹالو۔ اب آتے ہیں اپنے پاکستان میں جہاں پوری قوم کو یہ سب کھیل تماشا لگ رہا ہے، کچھ چیخ رہے ہیں کہ یہ سب بند کیوں کیا گیا ہے تو کچھ شہر بند ہونے کی خوشی میں دعوتیں کررہے ہیں۔ کچھ لوگوںکو یہ موج میلہ لگ رہاہے کسی کو حالات کی سنگینی کااحساس تک نہیں اب آپ یہ سوچیں کہ اصل خطرہ کیا ہے؟ اصل خطرہ یہ ہے مرض جب بگڑتا ہے تو سوائے وینٹی لیٹر کے کوئی چارہ باقی نہیں رہتا اور وینٹی لیٹر نہ ملنے کا مطلب ہے یقینی موت ۔اس وقت حکومتی اعداد وشمار کے مطابق پورے ملک میں کل ملا کر جو وینٹی لیٹر ہیں وہ ڈھائی ہزار سے زیادہ نہیں ہیں۔ آپ نے یقیناً یہ تعداد پہلی بار سنی ہوگی سو اب تھوڑا سا گھبرا لیں شاید کچھ سوچ کر آپ کو پسینہ بھی آجائے پنجاب میں سرکاری اور غیرسرکاری ملا کر کل 1700 سو وینٹی لیٹر ہیں، بلوچستان میں کل 49 ، کے پی میں 150.. سندھ کے صحیح اعداد معلوم نہیں لیکن اندازہ ہے کہ یہاں یہ تعداد کل چھ سو سے آٹھ سو کے لگ بھگ ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ہزاروں پرائیویٹ اسپتال ہیں، ان اسپتالوں کے پاس وینٹی لیٹرز کی کل تعداد 175 ہے باقی تمام اسپتال محض نزلے کھانسی اور بخار کے علاج کے لئے ہیںاب اگر یہ وبا ء جو کہ پھیل رہی ہے، رات گئے تک مریضوں کی تعداد پانچ سو کے قریب ہوچکی تھی۔۔ تو ان میں سے ایک خاطر خواہ تعداد کو وینٹی لیٹر درکار ہوں گے۔ یہ ڈھائی تین ہزار وینٹی لیٹر تو اس ملک کی اشرافیہ کی ضرورت کے لئے بھی ناکافی ہیں کجا یہ کہ عام آدمی کو مل جائیں۔اس لیے اسکول ،کالجز، یونیورسٹیاں بند اور مارکیٹیں بھی بند کردیں۔ اب بھی اگر عوام نے سنجیدگی اختیار نہیں کی تو حکومت کرفیو لگانے کا سوچ رہی ہے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو دباؤ دے کر کاروبارِ زندگی بحال کر لیں گے وہ ذرا ہوش کریں۔ دنیا میںایک لاکھ پچھتر ہزار وینٹی لیٹر ہیں امریکا کے پاس موجود ہیں اس کے باوجود وہ خوف سے لرز رہا ہے۔۔ بھارت جو ہم سے بہت آگے ہے اس نے بھی کرفیو نافذ کرنے کااعلان کردیاہے۔ آسٹریلیا نے اپنے ملک میں ہرکسی کے لئے داخلہ آج سے بند کردیا ہے۔ چین جیسے ٹیکنالوجی کے سپر پاور نے اس جنگ میں فتح محض لاک ڈاؤن پر عمل کرکے ہی حاصل کی ہے۔ جنوبی کوریا وغیرہ نے لاک ڈاؤن کرکے ہی خود کو بچایا ہے۔ یہ تو ہر کوئی جانتاہے اس صورتِ حال میں پاکستان جیسے غریب ملک کاشدید معاشی نقصان ہوگا یہاں آجر سفاک ہے، دوکاندار اپنے ملازم کو بغیر کام کے تنخواہ نہیں دے گا، روز دہاڑی والے مزدور کا چولہا دو دن سے بند پڑا ہے۔ لیکن اگر یہ نہیں کریں گے، تو تصویر کا دوسرا رخ بھیانک ہے، یاد کریں ذرا ہیٹ اسٹروک کو، وہ صرف ایک شہر کراچی کی روداد تھی، چار دن میں حشر یہ تھا کہ نہ کفن تھا نہ دفن کرنے والے تھے، مردہ خانے بھر چکے تھے، نمائش چورنگی پر جے ڈی سی ٹینٹ لگا کر میتیں رکھے بیٹھا تھا۔ مزدور اور دہاڑی دار طبقے کے لیے مڈل کلاس اٹھے، اور اپنے ساتھ کم از کم ایک خاندان کو ایک وقت کا راشن دلوادے ۔ لیکن یہ جو ہدایات ہیں کہ ہاتھ نہ ملائیں، اجتماعات نہ کریں، گھروں میں رہیں۔ بلا سبب گھر سے باہر نہ آئیں، ان پر خدارا عمل کریں۔۔ یہ سب مذاق نہیں ہے، یہ ساری دنیا پاگل نہیں ہے جو اپنے کاروبار سمیٹ کر بیٹھ گئی ہے، آپ اللہ توکل کریں لیکن اپنے انتظامات کرنے کے بعد۔۔ یہ وقت فیس بک پرنمبر بنانے اور ٹویٹر پر عثمان بزدار کو رگڑنے کا نہیں ایک قوم بن کر اس بحران سے نبٹنے کا ہے۔۔ یہ وباء ہے، یہ تیسری عالمی جنگ کے درجے کی ایمرجنسی ہے، اسے سمجھیں اور اپنا کھلنڈرا پن ایک طرف رکھ کر پوری قوم سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اگر آپ خود گھر میں نہیں بیٹھیں گے تو فوج آپ کو ڈنڈے مار کر گھروں میں رکھے گی۔۔ اگر آپ وبا ئکے معاملے میں اللہ پرہی بھروسا کرنا چاہتے ہیں تو پھر رزق کے معاملے میں بھی کریں تنگی تو یقیناً ہوگی ۔

غذائی قلت اس وقت سب سے بڑا خطرہ بن کر سامنے کھڑی ہے۔۔ ایسے حالات میں ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمیں خوراک کے معاملے میں محتاط ہونا ہے، فضول ضیاع کو روکیں۔۔ فالتو کی دعوتیں بند کردیں، باہر نہیں جاسکتے تو یہ مطلب نہیں کہ ڈیلیوری بوائے سے کھانا منگوا کر کھایا جائے۔ فوڈ کا بحران اس وقت دوسرا بڑا چیلنج ہے وینٹی لیٹر کے بعد یاد رکھیں حکومت تنہا اس معاملے سے نہیں نبٹ پائے گی۔۔ آپ کو، مجھے ہم سب کو مل کر ساتھ کھڑا ہونا ہوگا باقی آپ سب کی مرضی۔(سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ایک پوسٹ سے استفادہ کیا گیاہے)

شیئر کریں

Top