ترکی ناکام بغاوت سے تعلق پر 110فوجیوں کے وارنٹ جاری

images-1.png

چیف پبلک پراسیکیوٹر کے حکم پر پولیس نے ملزمان کو پکڑنے کیلئے ملک بھر کے 25 صوبوں میں بیک وقت آپریشن شروع کیے
استنبول(شِنہوا)ترک استغاثہ نے منگل کے روز ایک نیٹ ورک سے مبینہ رابطوں پر 110 فوجیوں جن میں بیشتر حاضر سروس ہیں کی نظر بندی کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں ۔ اس نیٹ ورک پر 2016 میں بغاوت کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق مغربی صوبہ ازمیر میں دفتر برائے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے حکم پر پولیس نے ملزمان کو پکڑنے کے لئے ملک بھر کے 25 صوبوں میں بیک وقت آپریشن شروع کیے۔انادولو کے مطابق آپریشن کا ہدف بننے والوں میں ایئر فورس اور کوسٹ گارڈ کے پائلٹ اور فوجی شامل ہیں۔اب تک ان میں 89 کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ایجنسی نے کہا کہ تمام ملزمان کے امریکہ میں مقیم ترک عالم دین فتح اللہ گولن کی سربراہی میں قائم نیٹ ورک سے مبینہ رابطے ہیں۔مبینہ رابطوں پر 110 (باقی صفحہ 6بقیہ نمبر6)
فوجیوں جن میں بیشتر حاضر سروس ہیں کی نظر بندی کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں ۔ اس نیٹ ورک پر 2016 میں بغاوت کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق مغربی صوبہ ازمیر میں دفتر برائے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے حکم پر پولیس نے ملزمان کو پکڑنے کے لئے ملک بھر کے 25 صوبوں میں بیک وقت آپریشن شروع کیے۔انادولو کے مطابق آپریشن کا ہدف بننے والوں میں ایئر فورس اور کوسٹ گارڈ کے پائلٹ اور فوجی شامل ہیں۔اب تک ان میں 89 کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ایجنسی نے کہا کہ تمام ملزمان کے امریکہ میں مقیم ترک عالم دین فتح اللہ گولن کی سربراہی میں قائم نیٹ ورک سے مبینہ رابطے ہیں۔

شیئر کریں

Top