چیف الیکشن کمیشنر کو سمجھ نہیں بلاول یامریم کو روکا گیا تو مسائل پیدا ہوں گے ، حافظ حفیظ ارحمان

centre-didn-t-give-a-penny-to-us-over-virus-crisis-gb-cm-1586262777-1544.jpg

الیکشن ایکٹ 2017 الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد صرف وزیراعظم اوروزراء کوالیکشن مہم سے روکتاہے سیاسی قائدین پرکوئی پابندی نہیں
چیف الیکشن کمشنر کی اے پی سی میں سیاسی جماعتیں کچھ فیصلہ کرتی ہیں اور اعلامیہ کچھ اور جاری ہوتا ہے، انتخابات میں پری پول رگنگ شروع ہوچکی
غذر،گلگت( بیورورپورٹ،سپیشل رپورٹر) سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے بادشمال سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر بتائیں کس قانون کے تحت وفاقی پارٹیوں کے سربراہان کو روکنا چاہتے ہیں الیکشن ایکٹ 2017 وزیریا وزیراعظم الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد الیکشن مہم نہیں کرسکتا ہے ان کو قانون کی سمجھ نہیں اگر کسی بھی وفاقی جماعت کے سربراہ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو انارکی پھیل جائیگی بدقسمتی سے تحریک انصاف کی وفاق میں زندہ لاش حکومت نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو پہلے ہی سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور گلگت بلتستان کے انتخابات عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں اب ایسی صورت میں بلاول یا مریم نواز سمیت کسی بھی وفاقی جماعت کے سربراہ کو روکنے کی کوشش سے مذید مسائل پیدا ہوںگے اور وفاق کے ساتھ نہ صرف تعلق کمزور پڑے گا بلکہ علاقائی جماعتوں کو تقویت ملے گی انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی اے پی سی میں سیاسی جماعتیں کچھ فیصلہ کرتی ہیں اور اعلامیہ کچھ اور جاری ہوتا ہے اگر یہ حرکت آئندہ بھی ہوئی تو ہم چیف الیکشن کمشنر کے ہر فیصلے کا بائیکاٹ کریں گے اور ان کی صدارت میں کسی اجلاس میں شرکت نہیں کریںگے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پری پول رگنگ ہوچکی ہے ہمارے پاس شواہد بھی موجود ہیں ہم ہر فورم پر چیف الیکشن کمشنر کے فرمائشی فیصلوںاور وفاقی حکومت کے پری پول رگنگ کے شواہد پیش کرنے کو تیار ہیں گلگت بلتستان انتخابات میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے دھاندلی کی منظم منصوبہ بندی مکمل کرلی ہے منتخب حکومت کے قبل ازوقت اختیارات کو سیز کرنا، ن لیگ کی دشمنی میں50ہزار افراد کوبے روزگار کرنا اور ترقی کے عمل کو روکنا منظم دھاندلی کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے سابق وزیراعلیٰ نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ لیگی قیادت نے گلگت بلتستان کے دورے کا شیڈول مانگا ہے اور لیگی قائدین پی ڈی ایم کی قیادت میں اسلام آباد میں زندہ لاش کی طرح موجودوفاقی حکومت کو دفن کرکے گلگت بلتستان آئیں گے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیف سیکریٹری میرے لئے قابل احترام آفیسر ہیں جب تک منتخب حکومت کی سرپرستی میں تھے اچھا کام کررہے تھے آج وہ منتخب حکومت نہ ہونے وجہ سے ان کا باس کوئی اور ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوامی مسائل سے نگران حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے بلکہ نگران حکومت کی نگرانی کی جارہی ہے جو کہ افسوس ناک ہے انہوںنے کہا کہ میں عوامی نمائندہ ہوں اور میرے احتجاج کے بعد بیوروکریسی کو حوصلہ مل گیا ہے میں حق کے ساتھ کھڑا ہوں بغیر این او سی کے گلگت شہر کی سڑکیں اکھاڑنے والوں نے میرے احتجاج کے بعد پرانی تاریخ پر این او سی لیا ہے جبکہ حکومت اور ایس سی او کے مابین ہونے والے معاہدے کے تحت ایس سی او پابند ہے کہ سڑکیں اکھاڑنے سے قبل مرمت کا پیسہ متعلقہ محکمے کے پاس جمع کرائیگا آج انہوں نے بیک ڈیٹ کی این او سی لی ہے مگر محکمہ تعمیرات کے پاس پیسہ جمع نہیں کیا ہے ایس سی او ٹیلی موصلات کا سہولت کار ادارہ ہے ہم ایس سی او کے خلاف نہیں بلکہ ایس سی او کے خلاف قانون اقدامات کے خلاف ہیں جس طرح ایس سی او ہمارے لئے عزیز ہے اسی طرح حکومت کا ہرادارہ ہمارے لئے عزیز ہے ہم قانون کی بالادستی کی با ت کرتے ہیں ایس سی او کے موجودہ سیکٹر کمانڈر کوعلم نہیں کہ میں نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے ایس سی او کے لئے تین ارب روپے منظور کرایاتھا اور آپٹک فائبر لان بچھانے کے لئے ایک بیلین روپے مختص کئے تھے جس میں سے تیس کروڈ روپے اکھاڑی گئی سڑکوں کی دوبارہ مرمت کے لئے خرچ ہونے تھے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کے کچھ لوگ ایس سی او کے ترجمان بننے کی کوشش نہ کریں وہ اپنی فکر کریں۔سابق وزیراعلیٰ نے ایک اورسوال کے جواب میں کہا کہ ن لیگ کے پنڈنگ حلقوں میں ٹکوں کا جلد اعلان کیاجائیگا۔

شیئر کریں

Top