توہین رسالت کیس،پرائیویٹ وکیل شامل کرنے پر عوام سراپااحتجاج

g1.jpg

ڈپٹی کمشنر سے مفتی شیرزمان ، مولانا سیف اللہ ودیگر کے مذاکرات ،یقین دہانی پر دھرنا ختم
غذر (بیورورپورٹ )گاہکوچ سیشن کورٹ میں توہین رسالت کیس کی پیشی میں پرائیویٹ وکیل شامل کرنے کیخلاف علما اور ہزروں افرداد کا سیشن کورٹ کے باہر احتجاجی دھرنا ڈپٹی کمشنر غذر کیپٹن (ر)ثنااللہ خان ایس پی غذر فیضان علی اسسٹنٹ کمشنر پونیال اشکومن عنایت اللہ اور علما مفتی شیرزمان ، مولانا سیف اللہ ، مولانا فرمان ولی ،مولانا شفیق کے علاوہ دیگر علما و عمائدین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرلیا گیا ایس پی غذر فیضان علی کے مطابق 17 اکتوبر کو توہین رسالت کیس کی پیشی تھی جس میں سرکاری وکیل کے ساتھ ایک پراؤیٹ وکیل کو بھی رکھاگیا تھا جس پر معزر عدالت کی طرف سے اعتراض اٹھایا گیا کہ سرکاری وکیل کی موجودگی میں پرائیویٹ وکیل اس کیس کی پیروی نہیں کر سکتا ہے اس پر تنظیم اہلسنت غذر کی کال پر لوگوں کی ایک کثیر تعداد سڑک پرآگئی اور گلگت چترال روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا اور عدالت کے باہر دھرنا دیا گیا واقع کا اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر غذر کیپٹن(ر)ثنااللہ خان و ایس پی غذر کیپٹن (ر)فیضان علی نے دھرنے کے ذمہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر اس مسلئے کے حل بارے طویل اور کامیاب مذاکرات کئے جس میں طے پایا گیا کہ آپ کے مطالبات کو جائز فورم تک پہنچایا جائے گا اور اس بابت سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں علما کے وفدد نے پٹی کمشنر غذر اور ایس پی غذر کی یقین دھانی کے بعد اپنے دن بھر کے دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیاہے اور ٹریفک سمیت دیگر معمولات زندگی اپنے معمول پر آئے۔
توہین رسالت کیس

شیئر کریں

Top