بڑے بڑے آمر نہیں رہے تو کٹھ پتلی حکومت کیا چیز ہے:متحدہ اپوزیشن

images-67-1.jpeg

عمران خان بتائیں سلیکٹر کی اس نوکری کے سوا آپ نے کوئی نوکری کی؟ تو پھر یہ شاہ خرچیاں کہاں سے پوری ہورہی ہیں،مریم نواز،وزیراعظم نے دھوکہ کیا،سیلاب زرہ لوگوں کی کوئی مددنہیں کی،بلاول کاجلسہ سے خطاب
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)نا اہل وزیر اعظم نے ملک کی معیشت کا ستیاناس کر دیا ،مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ،مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام خودکشیوں پر مجبور ہو گئے ہیں ،دنیا میں انقلاب کبھی امراء نے نہیں غریبوں نے لایا ،عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کر نے کا اعلان نہیں کیا تھا ،کشمیر کا سودا کر کے مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں،گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں صوبہ بنا رہے ہیںباہتر سال سے پاکستا ن کا کشمیر پر موقف رہاہے ،گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ کر نے سے آپ کے ریاستی موقف کا کیا بنے گا ،موجودہ حکومت نے نوجوانوں کوایک کروڑ نوکریاں دینے کاوعدہ کیاتھا50لاکھ لوگوں کوبیروزگارکیا، حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم آج کراچی میں اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کررہا ہے، اپنے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میں عمران خان کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتی اور ایسے جعلی شخص کو وزیراعظم نہیں مانتی، بلاول نے کہا کہ بڑے بڑے آمر نہیں رہے تو یہ کٹھ پتلی حکومت کیا چیز ہے۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا دوسرا سیاسی و عوامی طاقت کا مظاہرہ آج کراچی باغ جناح میں ہورا جس میں ملک بھر سے کارکنان نے شرکت کی۔ ۔اپنے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ کل ایک شخص چیخ چیخ کر اپنی ناکامی کا ماتم کررہا تھا، ابھی تو ایک ہی جلسہ ہوا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں، ایک ہی جلسے میں وہ شخص دماغی توازن کھو بیٹھا، جعلی اور سلیکٹڈ ہی صحیح اگر آپ وزیراعظم کے عہدے پر بیٹھے ہیں اور مانا آپ پر بہت دبا ہے پھر بھی وزیراعظم کی کرسی کی لاج ہی رکھ لیتے، تقریر کے ایک ایک لفظ اور حرکات و سکنات سے آپ کا خوف جھلک رہا تھا اور یہی خوف پاکستانی کے عوام آپ کے چہرے پر دیکھنا چاہتے ہیں، یہ خوف عوام کی طاقت کا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عمران خان دبا ؤمیں رہنے کے باوجود کام کرنا نواز شریف سے سیکھیں جب آپ 126 دن دھرنے میں بیٹھے رہے تب بھی نواز شریف بوکھلائے نہیں اور الٹے سیدھے بیانات نہیں دیے، عمران خان کو نواز شریف کے منہ سے اپنا نام سننے کی خواہش ہی رہ جائے گی اس لیے کہ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں، آپ کس خوشی میں اچھل رہے ہیں، آپ پہلے تابعدار ملازم تھے اب وزیراعظم کی کرسی پر آنے کے بعد وزیراعظم کی تنخواہ لے رہے ہیں۔میں عمران خان کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتی، میں ایسے جعلی شخص کو وزیراعظم نہیں مانتی، اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کے الزامات کا جواب دینا پسند نہیں کرتی، مجھے کہا کہ یہ بچی ہے لیکن نانی ہے، میں ایک نہیں دو بچوں کی نانی ہوں، آپ میری نہیں نانی کے مقدس رشتے کی توہین کررہے ہیں وہ، میں اگر آپ کو نشانہ بنانا چاہوں تو میرے پاس باتیں ہیں لیکن مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ ایسی باتیں زبان پر لاں، یہ رشتے ان لوگوں کو ملتے ہیں جو ان رشتوں کی عزت اور قدر جانتے ہیں۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ میں اور بلاول اس طرح سے بہن بھائی ہیں جس طرح بے نظیر بھٹو اور نواز شریف بہن بھائی کی طرح قریب آگئے تھے، بلاول وعدہ کریں کہ ہم انتخابی میدان میں حریف بنیں گے تو ایک دوسرے سے ذاتی عناد نہیں رکھیں گے۔مریم نواز نے کہا کہ اگر آپ نواز شریف کی تقریر پر پابندی لگاتے ہیں اور اسے نشر ہونے سے روکتے ہیں تو آپ کو اس پر تبصرہ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں، کل تقریر میں عمران خان نے سچ کہہ دیا کہ نیب ہمارے ساتھ ہے، کون نہیں جانتا ہے کہ نیب عمران خان کے اشارے پر کام کرتا ہے، دنیا جانتی ہے کہ ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تمام ادارے حکومت کے اشارے پر کام کرتے ہیں۔پرورش میں جائز کمائی نہ ہونے کے الزام پر مریم نواز نے کہا کہ عمران خان بتائیں کہ سلیکٹر کی اس نوکری کے سوا آپ نے کوئی نوکری کی؟ تو پھر یہ شاہ خرچیاں کہاں سے پوری ہورہی ہیں؟ دوسرے پر الزام لگانے سے پہلے اس بات کا تو جواب دیں۔مریم نواز نے کہا کہ بی آر ٹی پروجیکٹ 120 ارب میں بنا جس رقم سے لاہور ملتان سمیت چار میٹرو سروسز بنیں، یہ عمران خان کی کرپشن کی داستان ہے، اسی طرح فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اس لیے نہیں ہورہا کہ اس میں پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی ہے، کب تک میڈیا کو دبایا جائے گا اور کتنی پابندیاں لگائی جائیں گی ایک نہ ایک دن یہ زنجیریں ٹوٹیں گی اور پی ٹی آئی کی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں گی، ہم کچھ کہیں تو کہا جائے کہ مودی کی زبان بولتے ہیں، کشمیر کو آپ پلیٹ میں رکھ کر بھارت کو پیش کریں اور ہمیں کہیں کہ ہم مودی کی زبان بول رہے ہیں؟ مریم نواز نے کہا کہ ضرب عضب اور ردالفسار آپریشن، کارگل جیسے معاملات کی سربراہی کرنے والے نواز شریف مودی کی زبان بول رہے ہیں؟ فوج کے خلاف بات کررہے ہیں؟ جب بھی ہم آپ کی نااہلی کی بات کرتے ہیں تو آپ فورا فوج کی وردی کا سہارا لے کر فوج کو آلودہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، فوج کو اپنی ناکامی چھپانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا فوج عمران خان کی ہے؟ کیا یہ پاکستان کی فوج ہے؟ یہ ہماری فوج ہے یہاں موجود ہرشخص کی فوج ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہاں نواز شریف نے یہ ضرور کہا کہ اس نے کرداروں اور اداروں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہے، جو شخص عدالتوں پر اثر انداز ہو، ووٹ کے خلاف سازش کرے اور سازشوں کے ذریعے منتخب وزیراعظم کو منصب سے محروم کرے وہ ہمارا ہیرو نہیں، اسے ہم نہیں مانتے، نواز شریف کا موقف ہے کہ سیاست میں دخل اندازی نہیں کی جائے اور عوام کے ووٹ پر ڈاکا مت ڈالا جائے، عوامی نمائندوں کی تذلیل نہیں کرو اور مینڈیٹ کی عزت کرو تو کیا غلط کہا؟مریم نواز نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) پر پابندی کی بات سوچنا بھی مت، یہ پاکستان تحریک انصاف نہیں کہ لیفٹیننٹ ظہیر الاسلام بنا کر چلا گیا، اگر (ن) لیگ پر پابندی لگائی تو پاکستان کے 22 کروڑ عوام پر بھی پابندی لگانی ہوگی، آپ جائیں الیکشن کمیشن ہم بھی پیچھے پیچھے آرہے ہیں ہمارے پاس بھی ویڈیوز موجود ہیں جس میں پی ٹی آئی والوں نے فوج کے خلاف بات کی ہے،عوام کو اندھیروں، نالائقی اور سلیکٹڈ حکومت سے نجات دلانے تک یہ تحریک جاری رہے گی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج 18 اکتوبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کردیا گیا، وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ عوام کا سچائی کا راستہ چھوڑدیں تو قتل ہونے سے بچ جائیں لیکن انہوں نے بہادری کے ساتھ جان دینا پسند کیا، ایک ایک کرکے وہ ادارے کھوکھلے کیے جارہے ہیں جو حق کی بات کرتے ہیں، ہمیں ظلم کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں لیکن ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہرطرف مہنگائی اور کرپشن ہے، آٹا، چینی، پٹرول میں کرپشن ہے، سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، لیکن ہم سندھ کے جزیروں پر قبضہ ہونے نہیں دیں گے، کے الیکٹرک عوام کا خون چوس رہی ہے، لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی، سلیکٹڈ وزیراعظم کو مہنگائی کی خبر بھی ٹی وی کے ذریعے ملتی ہے، سندھ میں اب تک سیلاب کے متاثرین موجود ہیں، وزیراعظم نے امداد دینا تو دور کی بات انہیں پوچھا تک نہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ عمران خان نے کراچی کے عوام کو دھوکا دیا، ایک ہزار ارب روپے کا پیکیج ایک دھوکا نکلا، اس میں سے 800 ارب روپیہ خود سندھ کے عوام کا ہے، ہمیں ملک میں آئین کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کے لیے جنگ لڑنی ہے، جب کٹھ پتلیوں کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے تو عوام پر ظلم ہوتا ہے اور خارجہ پالیسی بھی تباہ ہوجاتی ہے، کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا دعوے دار کلبھوشن یادیو کا وکیل بن چکا ہے، عمران خان نے کشمیر پر سودا کرلیا، نالائق وزیراعظم نے دوست ممالک سے تعلقات بھی خطرے میں ڈال دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں کسی کے کہنے پر آئے، یہ سلیکٹڈ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت ہے، نااہل وزیراعظم کو عوام کی بھوک اور مہنگائی نظر نہیں آتی، آپ سے پہلے جو یہاں تخت نشین تھا وہ بھی نہیں رہا یہ کٹھ پتلی حکومت بھی نہیں رہے گی، بڑے بڑے آمر و جابر نہیں ٹک سکے تو یہ کٹھ پتلی حکومت کیا چیز ہے، یہ لڑائی فیصلہ کن ہوگی۔بلاول نے کہا کہ یہ تحریک بھوک اور ناانصافی کے خلاف ہے ، اس حکومت کو جانا ہی پڑے گا، یہاں جمہوریت عوام کی مرضی سے بنتی ہے کسی اور کی مرضی سے نہیں، اس وقت پورے پاکستان کی جمہوری قوتیں ایک اسٹیج اور ایک پیج پر موجود ہیں، حکومت کس کس کو جیل میں ڈالے گی؟ کبھی سچ کو بھی قید رکھا گیا ہے؟ ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں۔
متحدہ اپوزیشن

شیئر کریں

Top