کیا امریکی ڈالر ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہونے جارہا ہے؟

232933_8434845_updates.jpg

امریکا کا مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو بینک) ممکنہ ڈیجیٹل ڈالر کی تیاری پرکام کررہا ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو بینک کے سربراہ جیروم پاول کا کہنا ہےکہ سائبر ڈالر کی تیاری کے لیے تحقیق کی جارہی ہے تاہم دھوکہ دہی اور جعل سازی سے محفوظ رہنے کے لیے اس میں کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جائے گی۔

جیروم پاول نے ان خیالات کا اظہار مرکزی بینک کے ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق پروگرام پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ مباحثے سے خطاب کے دوران کیا۔ان کاکہنا تھا کہ فیڈرل ریزرو بینک میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کے ساتھ مل کر فرضی ڈیجیٹل کرنسی بنانے کے لیے تحقیق کررہا ہے، اس وقت یہ امریکا کے لیے انتہائی اہم معاملات میں سرفہرست ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق صحیح فیصلہ کیا جائے اور اس معاملے میں دوسروں پر سبقت بھی برقرار رکھی جائے۔سربراہ فیڈرل ریزرو بینک کاکہنا تھا کہ ڈیجیٹل کرنسی میں جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں اس میں جعل سازی اور سائبر حملوں جیسے مکمنہ خطرات کا بھی خدشہ ہے اس لیے کسی بھی اقدام سے قبل مکمل احتیاط کی ضرورت ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی میں مرکزی بینک کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی ایک وجہ فیس بک کا ‘لِبرا پراجیکٹ’ بھی ہے جس کے تحت فیس بک کرپٹو کرنسی کی طرح اپنی ڈیجیٹل کرنسی لانا چاہ رہا ہے تاکہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہونے والی معاشی سرگرمیوں میں اس کی ڈیجیٹل کرنسی کو استعمال کیا جاسکے تاہم امریکی حکومت اس معاملے میں بازی مارنا چاہتی ہے۔

جیروم پاول کا کہنا ہے کہ ٖفیڈرل بینک کو اس معاملے پر زیادہ محتاط ہونا ہوگا کیونکہ دنیا بھر کے تجارتی ادارے اور مرکزی بینک ڈالر کو ریزرو کرنسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ، ایسے میں یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق جوبھی قدم اٹھائیں وہ محفوظ ہونا چاہیے۔

شیئر کریں

Top