بھارت اور امریکا میں سیٹلاٹ ڈیٹا شیئر معاہدہ

l_233183_103413_updates.jpg

دونوں ممالک کی سلامتی اور آزادی کو چین سے لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا،امریکی وزیر دفاع مائیک پومپیو کا تقریب سے خطاب
نئی دہلی(بادشمال نیوز)بھارت اور امریکا نے حساس نوعیت کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور نقشے سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کردیے۔مذکورہ معاہدہ ایسے وقت پر ہواہے جب امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو خطرہ قرار دیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کے ہمراہ مائیک پومپیو نئی دہلی پہنچے اور اپنے بھارتی ہم منصب سے بات چیت کے بعد کہا کہ دونوں ممالک کی سلامتی اور آزادی کو چین سے لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔مائیک پومپیو نے بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکراور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ بات چیت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ بڑی بڑی چیزیں رونما ہورہی ہیں اور ہماری جمہوری ریاستیں شہریوں اور آزاد دنیا کی بہتر حفاظت کے لیے ساتھ کھڑی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے رہنما اور ہمارے شہری دیکھ سکتے ہیں کہ چینی کی کمیونسٹ پارٹی جمہوریت، قانون کی حکمرانی، شفافیت، آزادی اور آزاد ماحول کی دوست نہیں ہے’۔مارک ایسپر نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ‘دی بیسک ایکسچینج اینڈ کارپوریشن ایگریمنٹ’ ایک سنگ میل ہے جو دونوں ممالک کے عسکریت پسندوں کے خلاف بھرور تعاون کا سبب بننے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے بھارت کو مزید لڑاکا طیارے اور ڈرون فروخت کرنے کا ارادہ کیا ہے اور مذکورہ معاہدے سے بھارت کو ٹوپوگرافیکل، سمندری اور ایروناٹیکل ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی جو میزائلوں اور مسلح ڈرون کو نشانہ بنانے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔وزارت دفاع کے ایک ذرائع نے بتایا کہ معاہدے کے ذریعے امریکا کو بھارت کو جدید بحری امدادی اور ہوا بازوں کی بھی فراہمی کی کرسکتا ہے۔

شیئر کریں

Top