ٹیکس نفاذ کا پہلا مرحلہ فلاحی تنظیموں،نجی کمپنیوں پر ٹیکس

download-9.jpg

گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ ہونے کے باوجود جی بی کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کی کوشش سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
گلگت بلتستان کو ملک کے دیگرصوبوں کی طرح اختیارات دے دئیے جاتے ہیں تو خطے میں ٹیکس کا نفاذ یقینی ہوگا،قانونی ماہرین کی باد شمال سے بات چیت
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)گلگت بلتستان میں ٹیکس کے نفاذ کے پہلے مرحلے میں نجی کمپنیوں ،فلاحی تنظیموں پرٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے چیف کمشنراسلام آبادکو اختیارمل گئے اس حوالے سے وفاقی حکومت کے زیر انتظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا گزشتہ چند ہفتوں کے دوران گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کی خبریں میڈیا پر گردش کرتی رہیں تاحال اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان سامنے نہیں آیا،اس کے باوجود گلگت بلتستان کو ٹیکس کے دائرہ میں لانے کی کوشش سے خطے کی عوام میں ایک بار پھرتشویش کی لہر دوڑگئی ہے یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں خطے کا اپنا ٹیکس ڈیپارٹمنٹ فعال ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض بھی تندہی سے سرانجام دے رہا ہے ۔بادشمال کے رابطہ کرنے پر قانونی ماہرکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاحال آئینی حقوق کا فیصلہ نہیں ہوسکا ایسے میں ٹیکس کا نفاذ قبل ازوقت ہوگااگر گلگت بلتستان کو ملک کے دیگرصوبوں کی طرح اختیارات دے دئیے جاتے ہیں تو خطے میں ٹیکس کا نفاذ یقینی ہوگا اور عوام کو آئینی صوبہ بننے کے بعد ٹیکس دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا تاہم ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق جس میں گلگت بلتستان کی نجی رجسٹرڈ کمپنیوں اور غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کے ٹیکس کا اختیار چیف کمشنراسلام آباد کو دینا خطے میں ٹیکس کے نفاذ کی گھنٹی بجاد ی گئی ہے ۔
ٹیکس

شیئر کریں

Top