پارلیمنٹ ہاؤس حملہ کیس ، وزیراعظم کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری

634677-imran-khan-afp.jpg

عمران خان نے کارکنوں کو پتہ بھی توڑنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے منع کیا
اسلام آ باد (آئی این پی ) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاوس حملہ کیس میں وزیراعظم عمران خان کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ۔جج راجہ جواد عباس نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس کے مطابق30اگست کی رات 10 بجکر 15منٹ پر واقعہ کا مقدمہ دوسرے روز درج کروایا گیا۔ تھانہ دوکلو میٹر سے کم فاصلے پر ہونے کے باوجود 16 گھنٹے بعد مقدمہ درج کروایا گیا۔ ریڈزون میں واقعے کا مقدمہ فوری درج نہ کرانے کی معقول وجہ ریکارڈ پر نہیں لائی گئی۔ فیصلے میں درج ہے کہ عمران خان کے خلاف قتل، اقدام قتل، دہشت گردی یا دیگر جرائم کا الزام نہیں۔ عمران خان پر بطور سربراہ سیاسی جماعت کارکنان کو اکسانے کا الزام ہے۔ جج راجہ جواد عباس نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ عمران خان پرکارکنان کو پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاس پر حملہ کرنے کاالزام ہے۔ عمران خان کی تقریر کی ویڈیو ریکارڈنگ یا ٹرانسکرپٹ کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ عمران خان نے کارکنوں کو پتہ بھی توڑنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے منع کیا۔ عمران خان پر سرکاری املاک اور اداروں پر حملہ کیلئے مشتعل کرنے کے الزامات ناکافی ہیں۔ عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ پراسیکیوشن کے مطابق 21 ہزار کارکنوں کو وزیراعظم ہاوس کی جانب پیش قدمی کی ہدایات دی گئیں۔ چند وجوہات کی بنا پر وقوعہ کا مقدمہ صرف 131 لوگوں کے خلاف درج کیا گیا۔
تحریری فیصلہ

شیئر کریں

Top