گلگت بلتستان کیلئے گندم کوٹہ ایک لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن کرنے کا فیصلہ

l_233411_062946_updates.jpg

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گردشی قرضہ کو ختم کرنے کیلئے تجاویز کی تیاری، خصوصی کمیٹی قائم کردی،تیس روز میں رپورٹ پیش کر نے کی ہدایت
ٹی سی پی نے ایک لاکھ 10 میٹرک ٹن گندم کی درآمد کیلئے چھٹا ٹینڈر کھول دیا ، جنوری تک ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہوگی
اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) اقتصادی رابطہ کمیٹی( ای سی سی ) نے گردشی قرضہ کو ختم کرنے کے لئے تجاویز کی تیاری کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کردی، کمیٹی 30 روز میں گردشی قرضہ سے متعلق اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ ای سی سی میں پیش کرے گی، ای سی سی نے گلگت بلتستان کیلئے گندم کا کوٹہ ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھا کرایک لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹنکرنے کا بھی فیصلہ کیا۔بدھ کو وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس ہوا، اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی، کمیٹی میں خزانہ، پیٹرولیم، پاور اور پلاننگ ڈویڑن کے حکام سمیت ایس ای سی پی، اوگرا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں،کمیٹی 30 روز میں گردشی قرضہ سے متعلق اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ ای سی سی میں پیش کرے گی، ای سی سی نے نیب، وزارت صحت، مذہبی امور اور انسداد منشیات کیلئے سپلیمنٹری گرانٹس منظور کردیں، وزارت قومی تحفظ خوراک نے اجلاس کو گندم کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ٹریڈ نگ کارپوریشن آ ف پاکستان ( ٹی سی پی) نے ایک لاکھ 10 میٹرک ٹن گندم کی درآمد کیلئے چھٹا ٹینڈر کھول دیا ہے، جنوری 2021ء تک ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہوگی، ای سی سی نے گلگت بلتستان کیلئے گندم کا کوٹہ ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھا کرایک لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن کردیا
گندم

شیئر کریں

Top