ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی

download-3-1.jpg

وزراء اراکین اسمبلی و سینٹرز ۳ دن میں گلگت بلتستان چھوڑ دیں چیف کورٹ نے احکامات جاری کر دئیے
تمام پبلک آفس ہولڈرز ، قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران کو سیاسی سرگرمیوں اور جلسوں سے روکا جائے ، چیف سیکرٹری اور آئی جی گلگت بلتستان کو حکم
گلگت(بادشمال رپورٹ)چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس ملک حق نواز کی سربراہی میں جسٹس علی بیگ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی پیٹشن پر گلگت بلتستان میں طے شدہ ضابطہ اخلاق کے خلاف انتخابی مہم چلانے والے تمام وفاقی وزراء، سینیٹرز ،صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ممبران کو 3روز میں گلگت بلتستان سے واپس جانے کاحکم دیدیا چیف سیکرٹری ،سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پی کو حکم دیدیا کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز،ایس پیز کو تمام پبلک آفس ہولڈز ،سینٹرز،قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران کو سیاسی سرگرمیوں اور عوامی جلسوں سے روکنے کا حکم دیں عدالت نے اپنے حکم میں مزیدکہاکہ جو سینیٹر ،قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران نہیں ان پر جلسے اور انتخابی مہم چلانے پر کوئی پابندی نہیں کیونکہ وہ پبلک آفس ہولڈر کی تعریف میں نہیں آتے 13صفحات پر مشتمل تفصلی فیصلہ چیف جسٹس چیف کورٹ ملک حق نواز نے تحریر کیا اور سپشل بینچ میں سنایاگیا۔وزیراعظم اوروزراء کی گلگت بلتستان آمداورانتخابی جلسوں سے خطاب اوراہم اعلانات کرنے پرپی پی اورن لیگ نے چیف کورٹ میں پٹیشن دائرکی تھی اورموقف اختیارکیاتھا کہ وزیراعظم اوروزراء الیکشن ایکٹ 2017کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
چیف کورٹ

شیئر کریں

Top