حکومت کوبھیجنے کی شرط پر اسٹیبلشمنٹ سے بات ہوسکتی ہے،مریم

34.jpg

میرے ساتھ براہ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا،فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کرینگے
عوامی ردِ عمل کا جواب دینا آئین کے مطابق اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے، انٹرویو
اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کیلئے رابطے کیے ہیں،میرے ساتھ براہ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا،فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے، لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے، شرط یہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے، عوامی ردِ عمل کا جواب دینا آئین کے مطابق اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے۔ اداروں کا کام اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانا ہے ناکہ جذبات دکھانا،موجودہ حکومت کے ساتھ بات کرنا گناہ ہے،ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے عمران خان اور حکومت کو گھر جانا ہو گا، نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں اور عوام کی نمائندہ حکومت آئے، عمران خان اور پی ٹی آئی کوئی بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ یہ سیاسی لوگ نہیں ہیں،تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی قسم کا اتحاد انھیں معافی دینے کے مترادف ہو گا،عمران خان کا نام بھی نہیں لینا چاہتی، لیکن وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس ملک میں نہیں ہونی چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز سے عوام کو جواب نہیں ملے، مزید سوالات کھڑے ہوئے ہیں،چند جونیئر افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا،برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود بہت سے لوگوں سے رابطے کیے ہیں مگر میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔اس سوال پر کہ کیا وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں مریم نواز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کے آغاز پر غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔مسلم لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے، لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔ اگر کوئی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرے گا، جو (دائرہ کار)آئین نے وضع کر دیا ہے اس میں رہ کر بات ہو گی، اور وہ بات اب عوام کے سامنے ہو گی، چھپ چھپا کر نہیں ہو گی، میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔مریم نواز شریف نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سٹیک ہولڈرزسے بات کر سکتی ہیں تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حکومت کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ تو اب پاکستان کے عوام کے ساتھ ہو گا، اور ہو رہا ہے، اور اتنا اچھا ہو رہا ہے کہ جعلی حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔ اور اتنا گھبرائے ہوئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے ردعمل دینا ہے اور گھبراہٹ میں وہ اس قسم کی غلطیاں کر رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر عوام ہیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاست بند گلی کی جانب نہیں جا رہی، بند گلی کی طرف وہ لوگ جا رہے ہیں جنھوں نے یہ مصنوعی چیز بنانے کی کوشش کی، ہم تو جہاں جا رہے ہیں، چاہے وہ گوجرانوالہ ہے، کراچی ہے، کوئٹہ ہے یا گلگت بلتستان ہر جگہ ایک ہی بیانیہ گونج رہا ہے اور وہ ہے ووٹ کو عزت دو اور ریاست کے اوپر ریاست مت بنا۔
مریم نواز

شیئر کریں

Top