گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات، تیاریاں مکمل

آج ہونے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات اس حوالے سے الیکشن کمیشن جی بی ، نگراں حکومت نے انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے ملک کے دیگر صوبوں سے بھی پولیس سمیت دیگر اہلکاروں کو گلگت طلب کر لیا ہے جو مختلف پولنگ سٹیشنز میں خدمات سرانجام دیں گے حساس پولنگ سٹیشنز پر بھاری نفری تعینات ہو گی پولنگ سٹیشنز پر امن و امان کے قیام کیلئے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں انتخابی مہم کے دوران امیدواروں نے انتخابی جلسوں اور کارنر میٹنگز کا سلسلہ جاری رکھا اس دوران وفاقی وزراء اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے بھی بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا انتخابی مہم کے دوران امیدواروں نے ریلیوں کا آغاز کر کے اپنی بھر پور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بھی کوشش کی جمعہ کے روز گلگت بلتستان میں جہاں صرف گاڑیوں کے بڑے جلوس کی صورت میں ریلیاں منعقد کی جاتی تھی جمعہ کی رات سابق وزیراعلیٰ مہدی شاہ نے انتخابی روایات سے ہٹ کر اپنے سپورٹرز اور جیالوں کے ہمراہ پیدل ایک بڑی ریلی کا آغاز کیا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اس کے علاوہ انتخابی جوڑ توڑ کے دوران کئی آزاد امیدواروں کی اپنے مد مقابل کے حق میں دستبردار ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں آج پیپلز پارٹی، تحریک انصاف میں کانٹے دار مقابلے کا بتایا جا رہا ہے ن لیگ اور دیگر جماعتیں بھی انتخابی مہم کے دوران خوب سرگرم نظر آئیں خاص طور پر مسلم لیگ نواز کی سینئر نائب صدر مریم نواز کی گلگت بلتستان آمد کے بعد انتخابی جلسوں میں عوام کا جم غفیر دیکھا گیا البتہ آج عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے جا رہے ہیں جس کے بعد انتظار کی گھڑیاں ختم اور انتخابی نتائج آج رات سے آنا شروع ہو جائینگے گزشتہ روز مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی ون ٹو ون ملاقات کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے د رمیان آئندہ کی حکمت عملی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سابق وزیر قانون اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ کے نام شامل کیے گئے اس خبر کو اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا اور امید کی جا رہی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ خاطر خواہ اسمبلی نشستیں حاصل کرنے میں ہو جاتی ہیں تو ان دونوں جماعتوں کا حکومت بنانے کیلئے اتحاد یقینی ہو گا مگر اگلے روز ہی پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق ڈپٹی سپیکر نے بادشمال سے گفتگو کرتے ہوئے دو ٹوک ا لفاظ میں کہا کہ نواز لیگ سے مفاہمت کی کوئی گنجائش نہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی مشترکہ کمیٹی بنانے کا اعلان بے بنیاد ہے اس سے قبل بھی ن لیگ کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے سکردو میں سابق وزیراعلیٰ مہدی شاہ سے خصوصی
ملاقات کے دوران انتخابی اتحاد کے حوالے سے طویل مشاورت کی تھی جس کے بعد محسوس ہو رہا تھا کہ مہدی شاہ اس اتحاد کے کافی حد تک حامی ہیں جب اس حوالے سے خبریں اخبارات میں شائع ہونے لگی تو پیپلز پارٹی کے دیگر صوبائی رہنماؤں خاص طور پر پیپلز پارٹی کے اہم رہنما جمیل احمد نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اتحاد ن لیگ کے ساتھ کسی صورت ممکن نہیں اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے اپنی جماعت کے مرکزی رہنماؤں کو بھی آگاہ کر دیا تھا جس کے بعد انتخابی ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ ختم ہو کر رہ گیا اس کے علاوہ وفاق میں پی ڈی ایم کے قیام کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں خاصی ہم آہنگی دیکھنے میں آرہی ہے جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ن لیگ کے کسی بھی رہنما نے پیپلز پارٹی کے خلاف اپنے جلسوں میں کوئی بات نہیں کی دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے روایتی حریف ن لیگ پر الزام تراشیوں کے بجائے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آئے اس ساری صورتحال میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ پیپلز پارٹی اگر اسمبلی کی 6 سے 7 سیٹیں اور ن لیگ چند سیٹیں حاصل کر لیتی ہے تو ان دونوں کا حکومت بنانے کیلئے اتحاد یقینی ہو گا دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اپنے نامزد امیدواروں کو کامیاب کروانے کیلئے تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ وہ گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے موقع پر واضح اکثریت کے ساتھ نہ صرف الیکشن میں کامیابی حاصل کریں گے بلکہ آسانی سے حکومت بھی بنائیں گے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کئی بار اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ گلگت بلتستان میں نہ صرف پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کامیاب ہوں گے بلکہ تحریک انصاف ہی آئندہ گلگت بلتستان میں حکومت بنا کر رہے گی بہرحال انتخابی صورتحال اور جوڑ توڑ کے بعد عوام کا فرض بنتا ہے کہ وہ کورونا کی بڑھتی ہوئی تشویشناک صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتی ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں ووٹ پول کرنے کے دوران اور خاص طور پر پولنگ کیمپ میں ماسک کا استعمال، سینی ٹائزر کی موجودگی اور سماجی فاصلوں کے اصول کو بھی اپنائیں اس کے علاوہ انتخابات کے دوران امن قائم رکھنے کیلئے جہاں پولیس، انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں عوام کو بھی اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے پرامن انتخابات کی راہ ہموار کرنی ہو گی کیونکہ گلگت بلتستان پوری دنیا میں ایک پرامن خطے کے طور پر پہچانا جاتا ہے اور حالیہ انتخابات پر پوری دنیا کے میڈیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں ایسے میں علاقے کا امیج اور مزید بہتر بنانے کیلئے امن و امان کے قیام کیلئے ایک قدم بڑھ کر سب کو اس موقع پر کام کرنا ہو گا ۔

شیئر کریں

Top