گلگت بلتستان،ریاضِ پاکستان:عمران عاکف خان

کے ٹو اور ہمالیہ کے ایک طرف نیپال کے اساطیری خطے ،بلند وبالا منادر،سحر خیز زمین واقع ہے تو دوسری طرف پاکستان کا خطہ،گلگت بلتستان آبادہے جسے ماضی میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ زمین ،پستی،خاک کے آنگن اور صف میں اللہ تعالیٰ نے حسن ورعنائی اور زیبائی ایسی سموئی کہ نگاہیں پھر پھر کر نہ پھریں ،ہر بار ایسا لگے کہ پلٹ پلٹ کر دیکھو ،دیکھ دیکھ کر پلٹو،وہاں کے پہاڑ،جھیلیں،پہاڑوں سے کل کل چھل چھل کر کے شفاف جھرنے،ان ہی کے آس پاس کہیں پھدکتی چرتی بکریاں ،ہرنیاںاور ان کی نگرانی کرتی ہوئی سموری ٹوپیاں پہنے ہوئی کشمیری دوشیزائیں،نیلم اور جھیلم کی موجیں اور موجوں کی رَودگی میں کسی نار کاسا الہڑپن۔’پیکر غزل‘کی سی نزاکت، کہیں کہیں غزالوں کی وحشت،آس پاس کے کناروں پر ترتیب سے ایستادہ صنوبر اور ان کے گھنے سائے ۔ وہاں کی19کے قریب جھیلوں کے شفاف و خنک پانی میں پریاں نہانے آتی ہیں۔اسکردو ضلع میں واقع Kachura Lake Upper اور کندور کی Lower Kachura Lake ، ایسے ہیShangrila Lake،یہ سب جھیلیں وہ ہیں جو سیاحوں کی پسند تو ہی ہیں،قدسیاں بھی اُن کی بلائیں لیتی ہیں۔ان میں چلنے والے شکارے،زرق برق کشتیاں، درمیان میں اُگے صنوبر ،آبنوس ،شنگرف کے درختوں سے ٹکرا کر آتی ہوئی ہوائیں پر کیف ترانے سناتی ہیں ،معاًخوش بودار ہواؤں کے جھونکے سِحر طاری کردیتے ہیں،اس وقت تو عالم اور ہی ہوتا ہے جب کشتی بان ملہار گاتا ہے یا کسی پاس کے گھر سے کشمیری راک اسٹار لڑکیوں کی فوک سانگ گاتی آوازیں سماعتوں سے ٹکراتی ہے تو دو آتشہ کا عالم ہوتا ہے۔وہاں کی نہریں ایسی کہ چاند کی تنویر میں اضافہ ہوجائے۔مکانوں اور صحن وآنگن کی صنعت وبُنت اس طرح کی کہ جدت طرز کی مثالیں پیش کرے۔ وہاں شاعروں کو طرز غزل سوجھتا ہے اور فکشن نگاروں کو خیال وکردار ملتے ہیں۔رومانیت کے خوگروں کو وہاںمنظرپس منظر نصیب ہوتے ہیں۔
یہاں کے بالائی پہاڑی، نشیبی اور زرعی علاقوں میں زعفران،سیب،تیس اقسام کی خوبانیاں،چیریز دنیا کی بہترین اور نعمتیں ہیں،جن پر وہاں کے باشندوں کی مہمان نوازیاں ،نرم ومثبت رویے، ایمان داریاں سونے پر سہاگہ کا کام کرتی ہیں۔یہاں جب سیاح جاتے ہیں تو میزبان سب سے پہلے قہوے کے ساتھ ’’چپ شرو‘‘پیش کرتے ہیں۔کوئی کوئی ’’پیچو ‘‘اور’’ڈاؤڈو/ڈاڈو ‘‘سے ضیافت کرتا ہے۔اسی طرح جس کے یہاں جو میسر ہوتا ہے وہ اسی کو مہمان کے سامنے ماحضر کردیتا ہے۔اس مہمان نوازی سے سیاحوں اور مہمانوں کے دِل بڑے ہوجاتے ہیں اور آنکھوں میں اعتبارویقین کی چمک سِوا ہوجاتی ہے۔
وہی گلگت بلتستان ،یعنی ریاض کشمیر ،گزشتہ دنوں دوبڑے معاملات اور ہنگاموں کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا اور بین الاقوامی اخبارات،نیوز میگزین،میڈیا اور ذرائع ابلاغ نے اسے کَوریج دی۔اول : ایک بڑے ہم سایہ ملک نے شررانگیزی کی،وہاں کے جمہوری نظام میں مداخت کرتے ہوئے گِدھوں کی سی نظریں گڑائیں،مگر وہاں کی صائب حکومت اور شجاع ودلیر انتظامیہ و افواج کی کمپنیوں نے اُسے منہ توڑ جواب دیا اور دشمن کی مذموم و غیر مناسب حرکتیں کامیاب نہ ہونے دیں۔دوم: گلگت بلتستان الیکشنس۔2020 کے زیر اہتمام24 اسمبلی نشستوں پرالیکشنس وہاں ہوئے اور پاکستان کی حکمران جماعت سمیت اپوزیشن کی دوبڑی جماعتوں نے وہاں کے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا اور ان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا۔بڑے بڑے وعدے کیے گئے ،پاورشوز ہوئے،رائے دہندگان کو لبھایاگیا،مقامی لباس،ٹوپیاں،انگرکھے وغیرہ پہن کرگلگت کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔]کیا اندر سے بھی وہ باوفا تھے،یہ تو ان کا ضمیر جانے[ حسب توقع متعدد بار ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیاں ہوئیں،جس کا اظہار متعدد بارسی ای او گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے پریس کانفرنسز میں کیا،ایک بار تو گلگت ہائی کورٹ نے ان لیڈران کے انخلا کے احکامات بھی جاری کردیے مگر پھر سپریم کورٹ آف پاکستان سے عبوری اجازت نامہ حاصل ہوگیا۔اس مرتبہ الیکشن کمپینرز میں مرکز سے سب سے زیادہ ’مریم صفدر]مریم نواز[بلاول بھٹو زرداری،علی امین گنڈا پوری،مراد سعید،ذوالفقار بخاری]زلفی بخاری[نے ’اسکردو‘۔’ہنزہ‘’نگر‘وغیرہ علاقوں میں تقاریر کیں اور گلگت کے عوام و رائے دہندگان سے سب سے ایک سُر میں خطے کو مستقبل صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔جس کے بعد وہاں کے عوام اور عالمی مبصرین کو یقین ہوچلا ہے کہ اب جلد یا بد یر گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ بنے گا،مگر یہاں کے عوام کہتے ہیں کہ پہلے جنوبی پنجاب کے صوبہ بننے کا اعلان عملی طور پر پورا کیا جائے تب ہم مانیں گے،خیر یہ تو سیاسی بات ہے،تاہم اتنا ضرورہے کہ اس مرتبہ نئی حکومت گلگت کا بھلا ضرور کرے گی۔آمین!تاہم گلگت کے عوام نے یخ بستہ سردی ،بارش اور برف باری کے باوجود7,45361 رجسٹرڈ رائے دہندگان نے اپنی حمایت اور رائے دہندگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔
واضح رہے کہ یہ تیسرا الیکشن ہے جس کی ابتدا 2009سے’’گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر۔2009‘‘کے ضابطے کے تحت ہوئی،اس وقت وفاق میں پاکستان پیپلس پارٹی[PPP] کی حکومت تھی ،چنانچہ اس نے 24میں سے 22نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے پورا الیکشن لوٹ لیا اور ’’سید مہدی شاہ ‘‘کو وزیر اعلا منتخب کیا گیا۔پھر جب 2014میں وفاق میں ’پاکستان مسلم لیگ]ن[کی حکومت بنی تو یہی صورت حال اس کی بھی تھی اور حافظ حفیظ الرحمان کو وزارت اعلا کی کرسی پر براجمان کیا گیا۔اب کی بار حسبِ توقع ’پاکستان تحریک انصاف‘بازی مارے گی،عبوری سروے بھی یہی کہتا ہے ،تو اب یہ دیکھنا دل چسپ ہوگا کہ سابقہ جماعتیں کہاں کھڑی نظر آئیں گی۔تاہم ابھی جماعت کی عاملہ نے وزیر اعلا کے چہرے کا اعلان نہیں کیا۔یہ پاکستانی انتخابی سیاست کی ایک خوبی بھی ہے،
اس الیکشن میں کئی حیرت ناک اور دل چسپ مراحل آئے،اول: یہ کہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ]پی ڈی ایم[کے پہلے اجلاس گوجرانولہ میں نوازشریف کے خطاب اور اس میں براہ راست افواج پاکستان اور دیگر انتظامی ادارو ںکو ہدف تنقید بنانے،بعدازاں سردار ایاز صادق]سابق اسپیکر قومی اسمبلی[کے متنازع بیانیے نیز پی ڈی ایم کے مختلف ممبران کے ذریعے کی جانے والی غیر جمہوری حرکات نے گلگت کی حکمران جماعت کو مع وزیر اعلا حافظ حفیظ الرحمان،پارٹی سے برگشتہ کردیا،انھیں محسنین پاکستان کی شان میں گستاخیاں اور تحفظ پاکستان کو کمزور کرنے والی کوششیں بالکل پسند نہ آئیں]یہی ایک محب وطن کا فرض بھی ہوتا ہے[نتیجتاً وہ جماعت کی ابتدائی رُکنیت اور دیگر عہدوں سے استعفیٰ دے کر چلے گئے ،مریم نواز نے انھیں ’’لوٹے‘‘کہہ کر مطعون کیا۔دوم: بلاول بھٹو نے اپنے کئی انٹرویوز میں کچھ اس قسم کی باتیں کیں جن سے ان کی گلگت کے عوام کے تئیں وفاداری مشکوک ہوگئی ،ان باتوں نے ان کی پارٹی پوزیشن اور ووٹنگ ورجحان کا رُخ واضح طور پر موڑ دیا۔سوم :پی ٹی آئی کے رہ نماؤں نے دفاعی اورجارحانہ دونوں انداز خطابت اپناتے ہوئے خطے کے عوام کے تئیں اپنی وفاداریوں اور ہم نوائیت کا اظہار کیا،ہاں!سیاسی حملے تو سب ہی ایک دوسرے پر کرتے رہے۔اس طرح وہاں کا سیاسی منظرنامہ بہت حد تک صاف ہوگیا اور رائے دہندگان کی ہمدردیاں بھی واضح ہوگئیں۔اس مرتبہ الیکشن سے قبل ہی دھاندلی کا شور مچا دیا گیا ،جس کی سی ای او گلگت نے سخت الفاظ میں مذمت کی اور ثبوت فراہم کرنے کا اوپن چیلنج پیش کیا۔
آنے والے ایام یہ تو دکھا ہی دیںگے کہ گلگت بلتستان کی کرسیٔ وزارت اعلا پر کون براجمان ہوگا، اور یہاں کے عوام نے کسے پسند کیا ہے؟! مگر یہ بات ہمیشہ دیکھتے رہنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطے میں اپنی نعمتوں کی برسات کردی۔یہی خوبیاں وہاں کے باشندوں میں بھی رکھ دیں جس کا اظہار وہ سیاح برملا کرتے ہیں جو یہاں آتے ہیں اور اس جنت کی سیر سے ذہن قلب میں امنگیں بھرتے ہیں۔
جب گلگت بلتستان کا جغرافیائی جائزہ لیا جاتا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں چار ملکوں سے ملتی ہیں نیز پاکستان نے ہم سایہ ملک سے تین جنگیں] 48 کی جنگ ،کارگل جنگ اور سیاچین جنگ[ اسی خطے میں لڑی ہیں جبکہ سن 1971کی جنگ میں میں اس کے کچھ سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جس میں کئی دیہات بھارتی قبضے میں چلے گئے ۔چنانچہ یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ بن گیا نیز یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم بھی گزرتی ہے۔شمالی علاقہ جات کی آبادی 81لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا کل رقبہ 72971مربع کلومیٹر ہے۔ بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں۔ گلگت و بلتستان تین ڈویژنز ’ بلتستان‘ ، ’دیا میر‘اور’ گلگت‘ پر مشتمل ہے۔ بلتستان ڈویژن ،سکردوشگر،کھرمنگ ،روندو اور گانچھے کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ گلگت ڈویژن گلگت، غذر، ہنزہ اورنگر کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ جب کہ دیا میر ڈویژن داریل،تانگیر،استورکے اضلاع پر مشتمل ہے۔۔ گلگت بلتستان کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی ہے جو گلگت بلتستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں جموں وکشمیر ، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں پاکستانی صوبہ خیبر پختونخواہ واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی یہیں ہیں۔اس طرح سے یہ خطہ ریاض ارضی اور ریاض پاکستان بن جاتا ہے۔

شیئر کریں

Top