آتما کی آنکھ: الیاس محمد حسین

کہتے ہیںایک سادھو سلطان الہندحضرت خواجہ معین اؒلدین چشتی المعروف خواجہ غریب نواز کے پاس آیا اسے اپنی ریاضت،علم اور تپسیا پر بڑا ناز تھا سادھو گیان دھیان سے اس مقام پر پہنچ گیا تھا جہاں نظر آئینہ ہوجاتی ہے مقابل آدمی ایسا نظر آتا ہے . جیسے ٹیلی ویڑن کی سکرین پر تصویر نظر آتی ہے
سادھو نے مراقبہ کیا . اس نے دیکھا کہ خواجہ صاحب کا سارا جسم بقعئہ نور ہے لیکن دل میں ایک سیاہ دھبہ ہے سادھو نے جب خواجہ ؒصاحب سے مراقبہ کی کیفیت بیان کی تو خواجہ غریبؒ نواز نے فرمایا تو سچ کہتا ہے ایسا ہی ہے
سادھو یہ سن کر حیرت کے دریا میں ڈوب گیا اور کہا چاند کی طرح روشن آتما پر یہ دھبہ اچھا نہیں لگتا کیا میں اپنی شکتی سے یہ دھبہ دور کرسکتا ہوں حضرت خواجہ معین اؒلدین چشتی نے فرمایا “ہاں” تو چاہے تو یہ سیاہی دھل سکتی ہے ۔اس نے جواباً کہا وہ کیسے آپ نے فرمایا میری آنکھوںمیں دیکھو تجھے خودسمجھ آجائے گی۔سادھو نے حضرت خواجہ معین اؒلدین چشتی کی آنکھوںمیں دیکھناشروع کیاتو علم و معرفت کا ایک روحانی سمندر ٹھاٹیں مارتا دکھائی دیا اس کے دل کی کایا ہی پلٹ گئی
سادھو نے بھیگی آنکھوں اور کپکپاتے ہونٹوں سے عرض کیا “میری زندگی آپ کی نذر ہے”
حضرت خواجہ معین اؒلدین چشتی نے فرمایا :
اگر تو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تو یہ دھبہ ختم ہوجائے گا سادھو کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی لیکن چونکہ وہ اپنے اندر سے مٹی کی کثافت دھو چکا تھا اس لئے وہ اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آیا خواجہ صاحب نے فرمایا ” آتما کی آنکھ سے دوبارہ مراقبہ کرکے دیکھو “. سادھو نے دیکھا تو روشن دل سیاہ دھبے سے پاک ہوچکاتھا
سادھو نے حضرت خواجہ معین اؒلدین چشتی کے آگے ہاتھ جوڑ کر بنتی کی . مہاراج “اس انہونی بات پر سے پردہ تو اٹھائیں” آپ نے فرمایا ” وہ روشن آدمی جس کے دل پر تو نے سیاہ دھبہ دیکھا تھا تو خود تھا
اتنی شکتی کے بعد بھی تجھے روحانی علم حاصل نہ ہوا ” وہ علم یہ ہے کہ آدمی کا دل آئینہ ہے اور ہر اور ہر دوسرے آدمی کے آئینے میں اسے اپنا عکس نظر آتا ہے تو نے جب اپنی روش آتما میرے اندر دیکھی تو تجھے اپنا عکس نظر آیا، تیرا ایمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر نہیں تھا اس لئے تیرے دل پر سیاہ دھبہ تھا اور جب تو نے کلمہ پڑھ لیا تو تجھے اپنا عکس روشن نظر آیا اس کے بعد سادھو نے کچھ عرصہ آپ سے فیض پایاپھر زندگی رشد و ہدایت کے لئے وقف کردی
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مشائخ چشت کی خانقاہیں اسلامی جدوجہد کا مرکز بنی رہیں . یہ خانقاہیں تقویٰ ,دین , خدمت خلق، توکل اور روحانی علوم حاصل کرنے کی یونیورسٹیاں تھیں. ان خانقاہوں میں طالبعلم کو ایسی فضا اور ایسا ماحول میسر آ جاتا کہ وہاں تزکیہ باطن اور تہذیب نفس کے لیے خود بخود انسانی ذہن متوجہ ہو جاتا تھا حضرت خواجہ معین اؒلدین چشتی نے برصغیرمیں دلوںکی کثافت دورکرکے اسلام کی شمع جو دلوںمیں روشن کی تھی خواجہ قطب الدین بختیارکاکیؒ سے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ، امیرخسروؒ، حضرت بابا فرید گنج شکر ،حضرت علاؤالدین کلیر شریف کی کوششں سے اس کی تابانی میں اضافہ ہوا انہی کی بدولت پورا ہندوستان اسلام کے نور سے جگمگ جگمگ روشن روشن ہے پاک بنی ﷺ کی ان تعلیمات کو حسن و خوبی اور منظم جدوجہد کے تحت حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء نے معراج کمال تک پہنچا دیا . صدیوں تک یہ خانقاہیں ارشاد و تلقین کا مرکز بنی رہیں آج بھی ملک ملک سے لوگ پروانہ وار آتے تھے . اور ان کی خدمت میں حاضر باش رہ کر عشق الہی اور دین اسلام کو لوگوں تک پہنچانے کا جزبہ لیکر رخصت ہوتے ہیں . ان خانقاہوں کا دروازہ امیر و غریب شہری دیہاتی بوڑھے جوان اور بچوں کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا. کہا جاتاہے حضرت نظام الدین اولیاء نے بیعت کو عام کردیا تھا . جو متلاشیان حق ان کے ہاتھ پر توبہ کرتے تھے تو ان کو خرقہ پہناتے اور ان کی تعظیم کرتے تھے حضرت نظام الدین اولیاء نے اپنے جلیل القدر خلیفہ برہان الدین کو چار سو ساتھیوں کے ساتھ تعلیم کے لئے دکن راوانہ کیا خلیفہ برہان الدینؒ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر دکن کو اسلامی، دینی اور روحانی علوم سے فیضیاب کیا حضرت بابا فرید گنج شکرنے پاک پتن آکررشدو ہدایت کے جو چراغ روشن کئے ان کی ضوفشانی سے آج بھی دلوںکا زنگ اتررہاہے جو لوگ اولیاء کرام کی تعلیمات کے مخالف ہیں وہ ایک لحظے کیلئے غورکریں حضرت خواجہ معین اؒلدین چشتی کفرکے گڑھ ہندوستان میں آکراسلام کی ترویج کیلئے کوششیں نہ کرتے تو نہ جانے کتنے لوگ آج بھی گائے کا پیشاپ پی رہے ہوتے۔

شیئر کریں

Top