بزدار جیسی حکومت بنا کر بدامنی کی سازش کی جا رہی ہے:حفیظ الرحمن

images-69.jpeg

ہم نے مجبوراً ضاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ ہم دوبارہ سیٹ جیت سکتے ہیں لیکن امن ہاتھ سے گیا تو تلافی ممکن نہیں یوٹرن سرکار جان بوجھ کر ماحول کشیدہ کررہی ہے
گلگت بلتستان کو جان بوجھ کر آگ میں دھکیلا جارہا ہے ،انتظامی سربراہان بھنگ پی کر سوگئے ہیں، گلگت میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی دونوں نے مل کر ن لیگ کے خلاف سازشیں کیںیہاں کوئی پی ڈی ایم نہیں
نیازی سرکار کی دھاندلی کا ثبوت اورکیاہوگا کہ گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ کا گنڈا پور اور اسکے ساتھی مذاق اڑاتے رہے اورلوگوں کوبتایاگیاکہ جج میرے اپنے لگائے ہوئے ہیں کون بے دخل کرے گا،سابق وزیراعلی کی گفتگو
اسلام آباد )عارف سحاب (گلگت بلتستان کو جان بوجھ کر آگ میں دھکیلا جارہا ہے لیکن انتظامی سربراہان بھنگ پی کر سوئے ہوئے ہیں ۔یہاں بزدار جیسے بوٹ پالش حکومت بناکر اس خطے کو واپس اس بد امنی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے جس بدامنی سے ہم نے خطے کو بڑی مشکل سے نکالا تھا ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے بادشمال سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا حافظ حفیظ الرحمن کا کہنا تھا کہ گلگت میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی دونوں نے مل کر ن لیگ کے خلاف سازشوں کا محاذ کھولا یہاں کوئی پی ڈی ایم نہیں حلقے کی سیاست میں ہمارے خلاف جس حد تک جاسکتے تھے اس حد پر تحریک انصاف کے ساتھ پیپلز پارٹی بھی نظر آتی ہے الیکشن میں نیازی سرکار کی اس سے زیادہ واضح دھاندلی کا ثبوت کیاہوگا کہ گلگت بلتستان کی اعلی عدلیہ کا گنڈا پور اور اس کے ساتھی مذاق اڑاتے رہے لیکن ادارے بے بسی کی تصویر بنے رہے سپریم اپیلیٹ کورٹ کی جانب سے واضح حکم کے باوجود الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑائی گئیں الیکشن کی رات چار وفاقی وزرا ور دو معاونین خصوصی میرے حلقے کے ایک گاؤں میں سودا بازی کے لئے کھلم کھلا گھومتے رہے جس کی ویڈیو اورفوٹیج بھی موجود ہے معزز عدلیہ کے ججز سے گزارش ہے کہ وہ عدلیہ کی توہین کے خلاف ان وزرا کو نہ صرف طلب کریں بلکہ ایک عدالتی کمیشن بناکر قبل از انتخابات اور دوران انتخابات ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کرائیں ۔ثبوت دلائل کے ساتھ ہم خود دیں گے ۔ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیاگیا تو منصف یا عدل کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز ہی نہیں رہے گا ۔ہمارا کام عدالتوں سے انصاف مانگنا ہے جی بی کی اعلی عدلیہ نے وفاقی وزراء کو الیکشن میں مہم سے روکا اور انتظامیہ کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا مگر گنڈاپور یہ کہہ کر عدلیہ کی کھلم کھلا توہین کرتا ہے کہ ججز میرے اپنے لگائے ہوئے ہیں وہ مجھے گلگت بلتستان بدر کرنے والے کون ہوتے ہیں حالیہ الیکشن دوہزار اٹھارہ کا پارٹ ٹو اور دوہزار چار کے گلگت بلتستان کے الیکشن کا دوسرا روپ ہے تب بھی آزاد امیدواروں پر منحصر ایک کمزور حکومت بنی تھی جس کے وجود میں آنے کے بعد سید ضیاالدین شہید کی شہادت سمیت گلگت میں دو ہزار نو تک ساڑھے تین سو لاشیں گریں ۔ آج حلقہ نمبر دو میں ایک بار پھر منصوبہ بندی سے یہ ماحول بنایا جارہا ہے جس گلگت کو میں نے ہاتھوں سے سجایا تھا وہاں جگہ جگہ آگ لگی ہوئی ہے ۔اس موقع پر ہم نے مجبوراً خاموشی اختیارکررکھی ہے کیونکہ ہم سیٹ دوبارہ جیت سکتے ہیں لیکن امن ہاتھ سے گیا تو ایسا نقصان ہوگا جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی ۔یوٹرن والوں نے جان بوجھ کر یہ ماحول بنایا انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن سے چھ ماہ قبل ہماری حکومت کے اختیارات سلب کرنا، الیکشن کی ڈیٹ لوٹے الیکٹیبلز کے ملنے تک موخر کرنا ، گندم کی دولاکھ بوریوں کی کٹوتی اور پھر یکم نومبر کو ان تھیلیوں پر شکریہ عمران خان لکھ کر ایک لاکھ بوریاں بحال کرنا ،ووٹ دو نوٹ لو کے نعرے ضلع ضلع میں جاکرلگانا قبل انتخاب دھاندلی کی مثالیں ہیں جبکہ پوسٹل بیلٹ کے نام پر واپڈا جیسے اداروں کے ملازمین کو بیلٹ پیپر جانا،انتخابی عمل کے دوران جان بوجھ کر ہمارے سٹیشنوں پر کم عملہ رکھنا جبکہ حزب مخالف کے سٹیشنوں پر تین تین اسسٹنٹ پریذائڈنگ آفیسر کی تعیناتی،ووٹر کو خریدنے کے لئے جعلی اعلانات دوران الیکشن دھاندلی کا عام ثبوت ہیں نئے پاکستان نے پہلا تحفہ دو لاشوں کی صورت میں دیا ہے اب آگے کے حالات کا اللہ ہی مالک ہے ۔
سابق وزیراعلی

شیئر کریں

Top