ملک کی ترقی کیلئے سلیکٹڈ حکومت کو گھرجانا ہوگا: اپوزیشن اتحاد

21-1.jpg

پی ڈی ایم جلسوں سے حکمران بوکھلا گئے عمران خان کو این آراو نہیں دینگے تبدیلی کا خمیازہ عوام مہنگائی بیروزگاری کی صورت میں بھگت رہے ہیں : فضل الرحمن
سلیکٹڈ حکومت میں دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں،حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے چینی آٹے کا بحران آیا،نیب کوپشاور میٹرو نظر نہیں آتی جس کی بسیں خود بخود جل جاتی ہیں ،بلاول بھٹو
آٹا، بجلی اور پیٹرول مہنگا کر کے ثابت کر دیا گیا ہے حکومت کرپٹ ہے،حکومت کو ہم پر مسلط کر دیاگیا ، سردار اختر مینگل ، امیر حیدر ہوتی، عبدالمالک بلوچ کا پشاور میں جلسے سے خطاب
پشاور(آئی این پی )پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم وزیراعظم عمران خان کو این آر او نہیں دیں گے ۔این آر او ہم نہیں بلکہ حکومت مانگ رہی ہے لیکن ہم ان کا حساب کریں گے ۔حکومت کیخلاف تحریک کو اعلان جنگ قرار دیتے ہیںاس سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہو گا۔ادارے آئین کے اندر رہ کر اپنا کام کریں ۔سیکورٹی ادارے اپنے فرائض انجام دیں تو ہمارے سر کے تاج اور بھائی ہیں اور اگر سیاسی امور میں مداخلت کریں گے تو پھر برداشت کرنا پڑے گا ۔پھر ناراض نہیں ہونا ۔سیاست سیاستدانوں کا کام ہے اور سرحدوں کی حفاظت سیکورٹی اداروں کا کام ہے ۔اس ملک کا معاشی نظام دن بدن کمزورہورہا ہے اور اگر معیشت کمز ور ہو تو اس ملک کو ترقی نہیں دی جا سکتی ہے لہذا مضبوط معاشی نظام کے لئے موجودہ حکومت کو جانا پڑے گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاورمیں رنگ رنگ روڈ چوک پر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسے میں پی ڈی ایم کے تمام پارٹیوں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان اور دیگر نے شرکت کی۔امیر جمعیت علماء سلام اور سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج پشاور جلسے میں عوام کی بھر پور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ 2018ء کے الیکشن میں آنے والی حکومت دھاندلی کی پیداوار تھی ۔ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا تھا اور آج وہ آواز ہر آدمی کی آواز بن گئی ہے ۔آج وہ پوری قوم کی متفقہ آواز ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے حکمران بوکھلا گئے ہیں جبکہ ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ان کے اقتدار کے قلعے کو فتح کرنا ہے ۔ان کو ذلت و رسوائی سے نکالنا ہے ۔اب میدان جنگ ہے اور اس سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرا ہے ۔ہم نے چیلنج کر دیا ہے اور واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کرے وہ جرم نہیں ۔ہم دھاندلی کے خلاف احتجاج کریں تو آپ ہم سے خفاہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دو سال کے عرصے میں موجودہ حکومت نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا ۔ جب کسی ملک کی معیشت گرتی ہے تو پھر وہ ریاست باقی نہیں رہ سکتی ۔ریاست کی بقاء کا دارومدار مستحکم معیشت پر ہوا کرتا ہے ۔جب ہم حکومت چھوڑ رہے تھے اور نئے الیکشن کی طرف جارہے تھے تو ہم نے بجٹ میں کہا تھا کہ آئندہ سال اس ملک کی ترقی کا تخمینہ ساڑھے پانچ فیصد ہو گا اور اس سے اگلے سال ترقی کا تخمینہ ساڑھے چھ فیصد ہو گا آپ کو حکومت ملی اور آپ کی حکومت میں پہلے سال تخمینہ 1.8پر آیا اور جب دوسرے سال بجٹ پیش کیا تو صفر اعشاریہ چار پر آگیا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تین روز پہلے اپنا بیان جاری کیا ہے کہ 1951-52ء کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پاکستان کا سالانہ بجٹ 0.4پر آیا ہے یعنی اگلے سال آپ کی ترقی ہی نہیں اور اس سے اگلے سال بھی کسی قسم کی کوئی ترقی نہیں ۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیاگیا ہے آج ہم اس قابل نہیں ہے کہ دنیا کا کوئی ملک ہمارے ساتھ تعلق قائم رکھے ۔جب واجپائی ہندوستان کا وزیراعظم تھا وہ لاہور آیا مینار پاکستان پر کھڑا ہوا اور پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر اس نے تسلیم کیا اس وقت پاکستانی معیشت مستحکم تھی اور وہ پاکستان کے ساتھ تجارت کرنا چاہتا تھا ۔افغانستان پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہتا تھا لیکن آج افغانستان بھی آپ سے مایوس ہے اور وہ آپ کے ساتھ کوئی رابطہ کرنے کو تیار نہیں ۔چین ہمارا دوست تھا لیکن آج ہم نے ان کے ستر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو تباہ و برباد کر دیا ۔جس طرح امریکیوں نے وہاں کے ٹرمپ کو مسترد کیا ہے اسی طرح پاکستان کے عوام پاکستانی ٹرمپ کو بھی مستر د کردیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سوویت یونین دفاعی لحاظ سے طاقتور تھا لیکن معاشی لحاظ سے کمزور ہوا تو اپنا وجود کھو بیٹھا ۔آج پاکستان کا یہ حشر کر دیاگیا ہے ۔سیاستدانوں کو عمران خان کہتے ہیں کہ یہ مجھ سے این آر آو چاہتے ہیں ۔این آر او تو وہ ہم سے مانگ رہے ہیں اور ہم ان کو این آر او نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج کوئی بھی ملک اس حکومت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور یہ حکومت دوسروں کو کرپٹ کہتی ہے ۔جب یہ حکومت اقتددار میں آئی تو سعودی عرب سے دوستی نبھاتے ہوئے اس کو دو ارب ڈالر دیئے آج دو سالوں میں وہ آپ سے ناراض ہوگئے ۔موجودہ حکومت نے چین کے پیسے کو ضائع کیا۔امارات نے اپنے دو ارب ڈالر واپس مانگ لئے ہیں ۔موجودہ حکومت پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے ۔موجودہ حکومت نے پاکستان کو تنہا کر دیا ہے ۔جو کہتے تھے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی دودھ اور شہد کی نہریں تو نہیں خون اور زہر کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔موجودہ حکومت میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں ۔کشمیر کو موجودہ حکومت نے بیچ دیا اور کشمیر کے سوداگرر بنے اور پھر کشمیر کے لئے مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں ۔کیا اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولہ پیش نہیں کیا تھا ۔ہم نے ستر سال تک کشمیریوں سے ایک ہی بات کہی کہ آپ نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے ۔عمر ان خان نے کہا تھا کہ خدا مودی کو کامیاب کرے جب وہ کامیاب ہو جائے گا کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کو ہم پر مسلط کیا گیاہے۔ آج پی ڈی ایم جلسے میں پشاور کے عوام نے ریفرنڈم ثابت کر دیا۔ حکمران جماعت آج کے جلسے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ آٹا، بجلی اور پیٹرول مہنگا کر کے ثابت کر دیا گیا ہے کہ حکومت کرپٹ ہے۔ یہ سلیکٹڈ حکومت ہے اب موجودہ سلیکٹیڈ حکومت کے جانے کا وقت آ گیا ہے اور عوام موجودہ حکومت سے تنگ آچکے ہیں ۔ہر طرف سے جانے کے جانے کی صدائیں بلند ہورہی ہیں اور آج پشاورکے عوام نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوری طورپرملک میں انتخابی اصلاحات کرناہوں گی۔ اب ملک میں صرف اورصرف آئین کی حکمرانی ہوگی۔ ملک میں پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کی بالادستی ہوگی۔سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اس جلسے نے سلیکٹڈ کو پیغام بھیجا ہے کہ عوام پی ڈی ایم کے ساتھ ہے۔ 2018 میں الیکشن نہیں ہوئے بلکہ تاریخی دھاندلی کی گئی ۔ہمیں اپنی جدوجہد کو مزید آگے بڑھانا ہے تاکہ ملک میں خوشحالی آئے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اس جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں جہاں بلوچ و پختون کا نام و ناموس محفوظ ہو۔ ہم نے ساری زندگی سیاسی جماعت بنانے میں لگادی اور ہمارے سامنے راتوں رات پارٹیاں بنادی گئیں اورحکومت کو ہم پر مسلط کر دیاگیا ۔مسلم لیگ(ن)کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ جس نواز شریف نے ملک و قوم کی خدمت کی ۔ملک کو ایٹمی قوت بنایا ۔موٹرویز بنائیں ۔اس کو جیل میں ڈال دیاگیا تاہم اب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا وقت آگیا ہے اور عوام اس حکومت کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے ۔قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جلسہ سے خطاب کے دوران کہا کہ عوام موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں ۔جو تبدیلی 2018ء کے الیکشن میں ہم پر مسلط ہوئی اس نے ملک کو تاریکیوں میں ڈبو دیا اور اس تبدیلی کاخمیازہ عوام مہنگائی ،بیروزگاری کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔آج ملک میں تاریخی مہنگائی ہے اور غریب دو وقت کی روٹی کیلئے بھی دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے ۔ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے کئے گئے لیکن لاکھوں افراد کو بیروزگار کر دیاگیا ۔پچاس لاکھ گھردینے کا وعدہ بھی جھوٹا ثابت ہوا تاہم اب عوام ان کو پہچان چکے ہیں اور پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں اور جلد اس حکومت کا خاتمہ ہو گا ۔پاکستان مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز شریف دادی کی وفات کے باعث پی ڈی ایم جلسہ سے خطاب کئے بغیر واپس چلی گئیں ۔بلاول بھٹو زرداری جب تقریر کر رہے تھے اس دوران مریم نواز کو محمد نواز شریف کی والدہ اوراپنی دادی کے لندن سے انتقال کی اطلاع موصول ہوئی ۔مریم نواز نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ پشاور کے عوام سے بات کرنے کیلئے آئی تھیں تاہم انہیں اطلاع ملی ہے کہ محمد نواز شریف کی والدہ اور ان کی دادی کا لندن میں انتقال ہو گیا ہے اس لئے وہ خطاب نہیں کر سکیں گی ۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی درخواست پر جے یو آئی (ف)کے رہنماء عطاء الرحمان نے مریم نواز کی دادی کیلئے دعائے مغفرت فرمائی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئندہ کسی کو ان کی مرضی مسلط نہیں کرنے دیں گے ۔عوام کے حق رائے دہی کی ہی بنیاد پر حکومتیں بنیں گی ۔اداروں کی خواہش پر بننے والی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔عمران خان کی سلیکٹیڈ حکومت کو گھر جانا ہو گا ورنہ ملک ترقی نہیں کرے گا ۔ابھی تک قبائل کو ان کا حق نہیں دیاگیا اور آپریشن میں فوج کا ساتھ دینے والے قبائلی دربدر پھر رہے ہیں ۔پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا بہادروں کی سرزمین ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ملک اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور ریاست کا ساتھ دیا۔ سوات اور وزیرستان میں پاکستان کا پرچم جمہوریت کی وجہ سے لہرا رہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پختونخوا کے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ سلیکٹڈ حکومت میں دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں ۔ یہ اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں۔ ہم دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ باقی صوبوں کی طرح پختونخوا کو بھی این ایف سی ایوارڈ میں پورا حصہ نہیں دیا جارہا۔ قبائلی اضلاع تو خیبرپختونخوامیں ضم ہوگئے لیکن وہاں کے لوگوں کو ابھی تک حقوق نہیں ملے۔ ملک میں تاریخی مہنگائی اور غربت ہے۔ سلیکٹڈ کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے۔ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے پہلے چینی اور پھر آٹے کا بحران آیا۔ ہم پر طنز کرتے ہیں اور ہمیں کورونا سے ڈرانا چاہتے ہیں۔ ان کوصرف پی ڈی ایم جلسوں کے وقت کورونا یاد آجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی فاٹا کے بجٹ میں کٹوتی کی جارہی ہے ۔ان کو مراعات نہیں دی جارہیں ۔یہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کا وعدہ ہے کہ پختونخوا کے عوام کو لاوارث اور اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔موجودہ حکومت نے اب تک آپریشن میں بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کا خیال نہیں رکھا ۔یہ کس قسم کا سلوک ہے کہ جب جنگ لڑنے کا وقت ہوتا ہے تو یہاں کے عوام جان دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں اور جب یہاں کے عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتے ہیں۔آج بھی لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ہم مرحوم چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کو سلام پیش کرتے ہیں کہ اس ملک میں اس قسم کے غیرت مند اور بہادر ججز بھی تھے جن کی قلم سے انصاف لکھا جاتا تھا ۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ آج ملک میں تاریخی مہنگائی ہے ۔تاریخی غربت اور تاریخی بیروزگاری ہے ۔سلیکٹیڈ کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے ۔ان کی نا لائقی کی وجہ سے پہلے چینی،آٹے کا بحران ہوا اور اب گیس کا بھی بحران ہو گا ۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں عوام اس نا اہل کی حکومت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں ۔ان کا ظلم یہاں نہیں رکتا ۔این ایف سی ایوارڈ میں پختونخوا کو اس کا حصہ نہیں دیا جارہا ہے ۔باقی صوبوں کی طرح نا اہل حکومت آپ کے وسائل پر بھی ڈاکہ ڈال رہی ہے ۔سوئی گیس میں بھی خیبرپختونخوا کو اس کا حصہ نہیں دیا جارہا۔یہ ظالم حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے ۔اگر یہ حکومت آپ کی نمائندہ ہے تو آپ کو گیس کی رائلٹی کیوں نہیں دیتی اس لئے کہ یہ پختونخوا کے عوام کے نمائندے نہیں ہیں ۔عوام کو کچھ نہیں دیاجارہا ۔عوام کی کچھ مدد نہیں کی جارہی ۔انہوں نے نجکاری کے نام پر پختونخوا میں بحران پیدا کئے ہیں ۔یہاں کے ادارے اونے پونے داموں فروخت کئے جارہے ہیں ۔ہم ان کو اس کی اجازت نہیں دیں گے ۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت ہمارے جلسے روکنے کے لئے کورونا کورونا کرتی ہے ۔جب یہاں کے ڈاکٹروں اور نرسوں کی تنخواہوں کی بات ہوتی ہے تو ان کوخاموشی لگ جاتی ہے او ر کورونا بھول جاتے ہیں ۔ہمیں نا صرف اس وباء کا مقابلہ کرنا پڑے گا بلکہ اس غیر جمہوری نظام کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گاجو یہاں کے عوام پر ظلم کر رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں ۔اس ظالم حکومت کی وجہ سے آٹا بھی مہنگا،چینی مہنگی،گھی مہنگا،آلو مہنگے ،پٹرول مہنگا،گیس مہنگی،بجلی مہنگی ہو گئی ہے ۔غریب عوام تو انڈا بھی نہیں خرید سکتے ہیں ۔اب ادویات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ جینا بھی مہنگا اور مرنا بھی مہنگا ہو گیا ہے ۔یہ عمران اور عمران کے سہولت کاروں کا نیا پاکستان ہے ۔یہ تو کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ شور مچاتے تھے مگر اب سب کو پتہ لگ گیا ہے کہ یہ توسب سے کرپٹ ترین حکومت نکلی ہے ۔عمران خان کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے ۔کرپشن تو حکومت کر رہی ہے لیکن نیب کے نشانے پر صرف اپوزیشن ہے ۔سیاسی انتقام ہو تو اپوزیشن نیب کے جھوٹے کیس نمٹ رہی ہے ۔نیب کو نظر نہیں آتا کہ پشاور میں ملک کا سب سے مہنگا ترین میٹرو ہے جس کی بسیں خود بخود جل جاتی ہیں ۔جن کے مسافروں کو بس کو دھکا دے کر چلانا پڑتا ہے مگر یہ نیب کو نظر نہیں آتا ۔نیب کو نظر نہیں آتا کہ کیسے سلائی مشین سے امریکانیویارک میں جائیدادیں کھڑی ہورہی ہیں ۔نیب کو نظر نہیں آتا ہے کہ مالم جبہ میں کیسے کرپشن کی گئی ہے ۔نیب کو نظر نہیں آتا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں کہاں سے فنڈنگ ہوئی ہے ۔اب ان کے جانے کا وقت آگیا ہے ۔یہ جنوری تک کے مہمان ہیں ۔جنوری ان کا آخری مہینہ ہے ۔پھر ان سب کو گھر جانا پڑے گا اور حساب لینے کا وقت آئے گا تو عوام ان سے حساب لیں گے ۔پختونخوا کے عوام ان سے حساب لیں گے ۔حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود پی ڈی ایم جلسے میں پشاورسمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں پارٹی رہنماؤں نے کارکنان کے ہمراہ شرکت کی او ر قافلے اتوار کی صبح سے ہی پشاور کی طرف گامزن ہو گئے ۔ پی ڈی ایم جلسے کے لئے چارسدہ سے بڑے قافلے روانہ ہوئے۔ چارسدہ سے روانہ ہونے والے قافلوں کی قیادت قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور پارٹی رہنماء کر رہے تھے ۔بونیر سے پی ڈی ایم پشاور جلسہ کے لیے سینکڑوں گاڑیوں کا قافلہ روانہ ہوا۔ قافلے میں اے این پی،جے یو آئی اور (ن) لیگ کے کارکنان شریک تھے۔ پی کے 24 شانگلہ کے کارکنان بھی براستہ بونیر پشاور پہنچے۔ اسی طرح کوہاٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن پی ڈی ایم جلسے میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے۔ مقامی قائدین کا کہنا تھا کہ راستے بند کرنا اور روکاوٹیں کھڑی کرنا حکومت کو مہنگا پڑے گا۔ اپنے مقصد کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ موجودہ حکومت نے عوام کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ بنوں اور گرد و نواح سے پی ڈی ایم جلسہ میں شرکت کیلئے کارکن چھوٹے بڑے سینکڑوں گاڑیوں کے قافلے کی شکل میں لنک روڈ سے روانہ ہوئے۔اے این پی کے کارکن سرخ کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے۔جے یو آئی کی قیادت ایم این اے زاہد اکرم درانی ، اے این پی کی قیادت تیمور باز خان ایڈوکیٹ اور پی پی پی کے سابق ایم پی اے فخر اعظم ایڈووکیٹ کر رہے تھے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے حکومت نے خود جلسے کئے ہیں۔ کورونا صرف اپوزیشن کو ٹارگٹ کر رہی ہے۔ ہم آئین پاکستان کے دائرے میں رہ کر احتجاج ریکارڈ کر رہے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے نکلے ہیں۔ کویڈ 19 سے پہلے کویڈ 18 کو ختم کرنا ہے۔
پی ڈی ایم

شیئر کریں

Top