کورونا اداروں کی بندش کے باوجود تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں گے: وائس چانسلر کے آئی یو

g5-3.jpg

تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لیے طلبا کے لیے سوفٹ وہارڑ شکل میں تعلیمی مواد تیار کرلیاجلد گروپس کی شکل میں طلبا کو دیاجائے گا
کلاس ٹیچرز سے بہترین رابطہ اور تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے کلاسز کے وٹس ایپ گروپس بھی بنانے کا فیصلہ کرلیا
گلگت (بادشمال نیوز) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تعلیمی ادروں میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسز کے باعث تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے اعلان کے بعد قراقرم یونیورسٹی کو بند کرنے اور تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے حوالے سے حکمت عملی اپنانے سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ طلبہ وطالبات کے لیے درکار تما م ضروری تعلیم موار کو سافٹ وہارڈ شکل میں تیار کرکے طلبا تک پہنچائینگے ۔تاکہ جن طلبا کی رسائی آن لائن کلاسز تک ممکن نہیں وہ ہارڈ و سوفٹ شکل میں موجود تعلیمی مواد کے ذریعے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھ سکیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ طلبہ وطالبات کو چھوٹے چھوٹے گروپس میں مدعو کرکے تعلیمی مواد جن میں سمسٹر لیکچر،اسائمنٹ سمیت دیگر تمام ضروری مواد حوالہ کیاجائے گا۔تاکہ بہترین انداز میں تعلیم وتعلم کا سلسلہ جاری رہنے سمیت طلبا تعلیم حاصل کرنے میں مصروف بھی رہ سکیں۔وائس چانسلر نے صحافیوں کو بتایاکہ طلبا کے لیے آن لائن لیکچرز کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے تاکہ طلبا کو تعلیم وتعلم کا سلسلہ جاری رکھنے میں آسانی ہوسکے ۔یونیورسٹی آن لائن سمیت طلبا کو فیلش میموری کے ذریعہ سوفٹ موادسمیت ہارٹ شکل میں تعلیمی مواد بھی مہیا کریگی ۔ وائس چانسلر نے بتایاکہ تمام شعبہ جاتی سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ طلبہ وطالبات کو ہرممکن آسانی مہیا کرے تاکہ کرونا وباء کی وجہ سے جو مشکلات درپیش ہیں ان چیلنجز میں تعلیم وتعلم کے سلسلے کو جاری رکھ سکیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ طلبا کا اپنے کلاس ٹیچرز سے بہترین رابطہ اور تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے کلاسز کے وٹس ایپ گروپس بھی بنانے کا فیصلہ کیاہے تاکہ طلبا کو گھروں میںتعلیم حاصل کرنے کے دوران کوئی مشکل درپیش نہ ہوسکے ۔اگر درپیش ہونے کی صورت میں وٹس ایپ گروپ میں اپنے متعلقہ ٹیچرز سے رابطہ کرسکیںاور طلبا کے ساتھ بہترین رابطہ جاری رہ سکے ۔وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ پہلے پیکچ جو ہارٹ شکل میں طلبا کو تعلیمی مواد فراہم کیاجائے گا وہ دو ماہ کے لیے ہوگا۔جس سے طلبا استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیمی سلسلے کو جاری رکھ سکینگے ۔اگر موجودہ صورت حال میں بہتری آنے کی صورت میں یونیورسٹی کو کھلینگے ۔حالات بہتر نہ ہوئے تو مزید تعلیمی مواد طلبا تک پہچایا جائے گا۔وائس چانسلر نے کہاکہ طلبا کا آن لائن کوئیزز کے سلسلے کو روکا گیاہے اس دوران طلبا سے ہوم ٹیسٹ ،اسائمنٹس،ٹرم پراجیکٹس ،ٹرم پیپرزاور اوپن بک ایگزام لے جائینگے ۔تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پڑھنے کا موقع مل سکے ۔وائس چانسلر نے طلبہ وطالبا ت سے بھی گزارش کیاہے کہ موجودہ چیلنجز میں اور اس موزی وباء سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کویقینی بناتے ہوئے اپنی تعلیم وتعلیم کے سلسلے کو جاری رکھیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ جوں ہی حالات بہتری کی جانب گامزں ہونگے ۔یونیورسٹی کو دوبارہ طلبا کے لیے کھولینگے ۔تاکہ تعلیم وتعلم کے سلسلے کو جاری رکھ سکیں۔وائس چانسلر نے کہاکہ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی ،ایم ایس اور ریسرچ کے طلبا سمیت فائنل سمسٹر کے طلبا کے لیے یونیورسٹی کھلی رہے گی تاکہ وہ اپنی تحقیقی امور پر کام کر سکینگے ۔وائس چانسلر نے صحافیوں کے جانب سے حالیہ یونیورسٹی میں پیش آنے والے ہراسگی کے واقع کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی اس واقع کے حوالے سے سنجیدیگی کے ساتھ کام کررہی ہے ۔کمیٹی کی کاروائی مکمل ہونے کے بعد بہت جلد اصل حقائق پبلک کے سامنے لایاجائے گا۔وائس چانسلر نے بتایاکہ ہراسمنٹ کیس کے معاملے پر قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انصاف فراہم کیاجائے گا۔کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کرینگے ۔وائس چانسلر نے کہاکہ یونیورسٹی کی تما م طالبات کو اپنی بچیاںسمجھتاہوں ۔جسے میری اپنی بچیاں ہیں اسی طرح یونیورسٹی کی تمام طالبات میری بچیوں کی طرح ہیں ۔کسی سے کوئی ناانصافی ہونے نہیں دونگا۔ پریس کانفرنس میں وائس چانسلر کے ہمراہ ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز میرتعظیم اختر،ڈاکٹر منظور علی ،ڈاکٹر تصور رحیم بیگ،ڈاکٹر آصف خان اور ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمنسٹریشن شاہد احمد شگری بھی موجود تھے ۔پریس کانفرنس کے دوران وائس چانسلر سے صحافیوں نے یونیورسٹی کو بند کرنے ،یونیورسٹی کی تعمیروترقی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات،تعلیمی وتحقیق سمیت دیگر امور پر سوالات بھی پوچھے جن کے وائس چانسلر نے تسلی بخش جوابات دئیے ۔
عطاء اللہ شاہ

شیئر کریں

Top