شام کے 30لاکھ لوگوں کو موسم سرما میں امداد کی ضرورت ہے : اقوام متحدہ

images-74.jpeg

شام میں 67لاکھ افراد اندرون طور پر بے گھر ہیں، جن میں سے ایک تہائی مناسب پناہ گاہوں سے محروم ہیں اور تباہ شدہ عمارتوں، یاعوامی مقامات میں رہائش پذیر ہیں
اقوام متحدہ (شِنہوا)اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے قائم مقام نائب کو آرڈینیٹر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شام بھر کے 30 لاکھ سے زائد افراد کو انتہائی شدید موسم سرما کے دوران امداد کی ضرورت ہے۔انسانی حقوق کے امور کے قائم مقائم اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل رمیش راجا سنگھم نے پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کو کونسل کے ارکان کو آن لائن بتایا کہ اس صورتحال کے باوجود کہ شام میں 67 لاکھ افراد اندرون طور پر بے گھر ہیں، جن میں سے ایک تہائی مناسب پناہ گاہوں سے محروم ہیں اور تباہ شدہ عمارتوں، یاعوامی مقامات جیسا کہ اسکولوں یا خیموں میں رہائش پذیر ہیں،موسم سرما ان لوگوں کے لئے ناقابل یقین حد تک سخت ثابت ہورہا ہے جو مناسب پناہ گاہوں سے محروم ہیں یا ان کے پاس گرمائش کا سامان، کمبل ، گرم کپڑوں اور جوتوں جیسا بنیادی سامان میسر نہیں ہے۔معاشی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے، راجاسنگھم نے واضح کیا کہ شام کی کرنسی کی قدر میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث، لوگ اپنے اہل خانہ کو کھانا کھلانے کے قابل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج شام میں ایک اندازے کے مطابق 93 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 14 لاکھ زیادہ ہے اور بحران کے دوران کسی بھی وقت سے زیادہ ہیں۔ان میں سے 10 لاکھ شدید غذائی قلت سے دوچار ہیں – جو پچھلے سال سے دوگنا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔عام شہریوں کے تحفظ کے بارے میں اقوام متحدہ کے عہدیدار نے واضح کیا کہ ملک کے کچھ ایسے علاقوں میں جو عارضی طور پر تازہ تشدد سے بچ گئے ہے، اب خطرات کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو ان کے انسانی حقوق اور فلاح و بہبود کے حوالے سے اہم نتائج برآمد ہورہے ہیں۔

شیئر کریں

Top