سانحہ اسیران ہنزہ کے سر کردہ رہنما کامریڈ بابا جان و ساتھی 9سال بعد رہا

g23.jpg

11اگست 2011 کو سانحہ عطاآباد متاثرین کی امداد کیلئے دھرنے میں پولیس کی فائرنگ کیخلاف مبینہ جلا ؤگھیرا ؤکیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے
ڈپٹی کمشنر غذر و سپرٹینڈنٹ داماس جیل کی ہدایت پر کامریڈ باباجان اور قراقرم نیشنل موومنٹ کے مرکزی رہنما افتخار کربلائی کو بھی رہا کردیا گیا،ہنزہ آمد پر والہانہ استقبال
گلگت(مہتاب الر حمن)سانحہ ہنزہ کے اسیران کے سرکردہ رکن و عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنما باباجان و ساتھی بالآخر داماس جیل گاہکوچ ضلع غذر سے رہا ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق باباجان و ساتھی مورخہ 11 اگست 2011 کو سانحہ ہنزہ عطااباد کے متاثرین کی امداد کے لئے دیے جانے والے دھرنے میں پولیس کی فائرنگ کے خلاف مبینہ جلا گھیرا کیس میں گلگت بلتستان کی انسداد دہشتگری کی عدالت سے اور بعد ازاں سپریم اپیلیٹ کورٹ کی جانب سے عمر قید کی سزا کی پاداش میں گاہکوچ جیل میں زندان اسیری کی سزا کاٹ رہے تھے۔ اس سزا کے خلاف نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بابا جان و ساتھیوں کو انصاف دلانے کیلئے احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور حالیہ دنوں بالآخر ہنزہ علی آباد کے مقام ایک پرہجوم دھرنا دیا گیا جس دوران حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے ایک وفد نے یکم دسمبر سے قبل تمام اسیران کی بلا مشروط رہائی کی یقین دھانی پر دھرنا موخر کردیا گیا تھا۔ جس کے کچھ عرصہ بعد سانحہ ہنزہ کے چودہ اسیران کی مرحلہ وار رہائی کا سلسلہ شروع ہوا اور آخر کار جمعہ کی شام سانحہ عطا آباد کے مرکزی مجرم و عوامی ورکرز پارٹی کے سرکردہ رہنما کامریڈ باباجان کو بھی رہا کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ ڈپٹی کمشنر غذر و سپرٹینڈنٹ داماس جیل کی ہدایت پر کامریڈ باباجان اور قراقرم نیشنل موومنٹ کے مرکزی رہنما افتخار کربلائی کو بھی رہا کردیا گیا۔ گاہکوچ سے قوم پرست رہنما محبوب عالم نے بتایا کہ بابا جان و ساتھی گاہکوچ جیل سے رہائی کے بعد ایک مقامی ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ چائے کی نشست کے بعد اپنے آبائی گاں ہنزہ کی جانب روانہ ہوگئے ہیں وہاں پر عوام ہنزہ کی جانب سے ان کا پر تپاک استقبال کیا گیا
رہا
غذر (جاویداقبال)باباجان اور ان کے تمام ساتھی ڈسڑک جیل داماس رہا ہوگئے رہائی کے بعد کامریڈ باباجان نے بادشمال سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2011 میں ایک پر امن مظاہرے میں پولیس کی فائرنگ سے باب بیٹا جانبحق ہوئے تھے جس پر عوام نے پورے ہنزہ میں احتجاجی مظاہرے کئے اور اسی دوران ایک تھانہ جلایا احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ایک عوامی میٹنگ میں رکاپوشی نگر میں موجود تھا لیکن اس کے باوجود بھی تو پولیس نے ہمیں گرفتار کرلیا انہوں نے کہا ہماری رہائی جی بی اور پورے ملک کے عوام ، میڈیا اور انسانی حقوق کے تنظیموں کی دبا کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے اور ہماری رہائی کے لیے جی بی اور پورے ملک میں آواز اٹھانے والوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں
بابا جان

شیئر کریں

Top