جنوبی سوڈان میں قحط سالی کا انتباہ

DTc4uSkXkAULRsu.jpg

برسوں کی کشمکش ، سیلاب اور کمزور معیشت کے مجموعی اثرات نیمعیشت کو تباہ ، اشیائے خوردونوش کی پیداوار اور منڈیوں کو درہم برہم اور 40 لاکھ افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا
جوبا(شِنہوا)بین الاقوامی خیراتی ادارے “سیو دی چلڈرن” نے متنبہ کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں طویل تنازعہ ، سیلاب اور خراب معیشت کے اثرات کی وجہ سے قحط کے امکانی خطرے کا سامنا ہے۔غیر سرکاری تنظیم نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ برسوں کی کشمکش ، سیلاب اور کمزور معیشت کے مجموعی اثرات نے معاش کو تباہ ، اشیائے خوردونوش کی پیداوار اور منڈیوں کو درہم برہم اور 40 لاکھ افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جو جنوبی سوڈان میں فوڈ سیکورٹی کی نازک صورتحال کو مزید خراب کردے گی ۔اس میں کہا گیا کہ جنوبی سوڈان میں بھوک سے بچوں کے متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے کیونکہ 5 سال سے کم عمر تقریبا 10 لاکھ بچوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سیو دی چلڈرن نے کہا کہ تقریبا 3 لاکھ بچے غذائیت کی شدید کمی کا شکار ہیں جو انتہائی بھوک کی سب سے خطرناک اور مہلک شکل ہے۔اقوام متحدہ میں انسانی امور کی رابطہ کاری کے دفتر کے اعداد وشمارکے مطابق صرف رواں سال کم ازکم 65 لاکھ افراد یا جنوبی سوڈان کی نصف سے زائد آبادی کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حالیہ سیلاب نے مشرقی افریقی ملک میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے اور وہاں کی پہلے سے سنگین انسانی صورتحال کو بدتر بنا دیا ہے۔

شیئر کریں

Top