خالد خورشید وزیر اعلیٰ بن گئے

g18.jpg

سابق لیگی حکومت چھب ارکا قرضہ چھوڑ کر چلی گئی اس خسارے کو پورا کو کرنے کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں کمی کر دی جائے گی : خالد خورشید
گلگت بلتستان کو خودمختار بنانے کیلئے اخرجات خود پورے کرنے کیساتھ اپنا بجٹ تیار کر نے اور وفاق کو مالی مدد دینے کی حکمت عملی اور جذبے کے تحت کام شروع کر دیا جائیگا
ماضی میں اساتذہ کی آسامیاں فروخت ہوتی رہی، نظام تعلیم کو شفاف اور حصول تعلیم کا ذریعہ بنا دینگے، وزیراعظم جلد آ ئینی حیثیت دینے کا فیصلہ کرکے دیرینہ مسئلے کو حل کر لینگے
گلگت( بیورو رپورٹ)تحریک انصاف کے امیدوار خالد خورشید بھاری اکثریت کے ساتھ گلگت بلتستان کے پانچویں وزیراعلی منتخب ہو گئے۔اسمبلی اجلاس میں 33 میں سے 31 ارکان نے رائے شماری میں حصہ لیا اور وزیر اعلی کا انتخاب عمل میں لایا اور ضلع استور سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے 40 سالہ خالد خورشید ایڈووکیٹ کو گلگت بلتستان کا پانچواں وزیر منتخب کر لیا جنہوں نے تحریک انصاف کے 23 میں سے 22 ارکان کی تائید حاصل کر لی جبکہ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اور متحدہ اپوزیشن کے امیدوار امجد ایڈووکیٹ کو نو ممبران کی حمایت ملی۔سپیکر اسمبلی نے اپوزیشن کی متفقہ ریکوزیش پر امجد ایڈووکیٹ منتخب ہونے کا اعلان کر دیا۔تحریک انصاف کے مطابق نو منتخب وزیر اعلی 2 دسمبر کو گورنر گلگت بلتستان سے حلف لینگے۔وزیر اعظم عمران خان بھی حلف وفاداری کی تقریب میں شریک ہونگے۔قابل زکر ہے کہ گلگت بلتستان کو انتظامی صوبے کی حیثیت 2009 کو ملی جس سے پہلی مرتبہ وزیر اعلی اور گورنر کے عہدے ملے اور پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ پہلے وزیر اعلی گلگت بلتستان منتخب ہونے اعزاز حاصل ہوا جس کے بعد 2015 میں نگران وزیر اعلی کی تقرری عمل میں لائی گئی 2015 کے انتخابات پر مسلم لیگ نواز کو اکثریت حاصل ہوئی اور حفیظ الرحمان وزیر اعلی بن گئے اس کے بعد جون 2020 کو نگران وزیر اعلی کی تقرری عمل میں لائی گئی اب پندرہ نومبر 2020 کے انتخابات میں خالد خورشید تحریک انصاف کے پانچویں وزیراعلی بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
وزیر اعلیٰ
گلگت( بیورو رپورٹ)گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیر اعلی خالد خورشید نے الیکشن کی شفافیت اور غیر جانبداری پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کے خلاف مختلف حربے استعمال کیے گئے ہم نے سیاسی وابستگی رکھنے والے پولنگ عملے کی تعیناتی پر شکایات بھی کیں مگر ازالہ نہیں کیا گیا اپنے انتخاب کے بعد پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن میں مبینہ دھاندلی سے متعلق اپوزیشن کی شکایات دور کرنے کے لیے وہ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ دیدیا اس لیے وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی ہرممکن کوشش کرینگے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کیساتھ مقابلہ نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی کے آزاد اور ٹکٹ ہولڈرز کا مقابلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ آزاد ارکان کی حمایت نہ ملنے پر ناراض ہونا اپوزیشن لیڈر کا نامناسب شکوہ ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ سابق لیگی حکومت چھ ارب کا قرضہ چھوڑ کر چلی گئی ہے۔اس لیے اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ میں کمی کر دی جائے گی اور آ غا ز وزیر اعلی سیکرٹریٹ سے شروع کر دیا جائے گا۔گلگت بلتستان کو خودمختار بنانے کے لیے اپنے اخرجات خود پورے کرنے کے ساتھ اپنا بجٹ تیار کر نے اور وفاق کو مالی مدد دینے کی حکمت عملی اور جزبے کے تحت کام شروع کر دیا جائے گا۔ حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحت بجٹ بڑھا دیا جائے گا اور ہسپتالوں کو سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی اس کے علاہ معیاری اور پائیدار تعلیم کے لیے بھی اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ماضی میں اساتذہ کی آسامیاں فروخت ہوتی رہی اب ہم نظام تعلیم کو شفاف اور حصول تعلیم کا ذریعہ بنا دینگے۔معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کے لیے بنجر زمینوں کا آباد کرینگے گلہ بانی اور فروٹ کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔جنگلات بڑھانے کے لیے بلین ٹری کے وزیر اعظم کے ویژن پر عمل کیا جائے گا۔عدالتی خود مختاری کے لیے بنج بار سے مشاورت کر کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ہمارے ساتھ بھی زیادتیاں ہوئی ہیں مگر ہم نے املاک کو نقصان پہنچایا اور نہ کسی کی گاڑی جلائی ہے اپوزیشن لیڈر جن افراد کو تحریک انصاف کو حمایت ملنے کی بات کررہے ہیں وہاں اپنے حلقے کی بات بھی کر لیتے تاکہ قورم ہی مکمل ہوتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جلد گلگت بلتستان کو آ ئینی حیثیت دینے کا فیصلہ کرکے یہاں کے دیرینہ مسلے کو حل کر لینگے۔
خالد خورشید

شیئر کریں

Top