ایران یو رینیم کی زیادہ افزودگی کا قانون منظور

107551697_mediaitem107551415.jpg

اب ایرانی جوہری ادارہ سالانہ ایک سو بیس کلوگرام یورینیم پیدا کر سکے گا اور اس کی افزودگی کی شرح بیس فیصد ہو گی۔ ابھی تک ایران پانچ فیصد افزودہ یورینیم پیدا کر رہا ہے
تہران(آئی این پی)ایرانی پارلیمان میں یورینیم کی زیادہ افزودگی کی حوالے سے ایک نیا قانون منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ قانون اس معاہدے کے خلاف ہے، جو تہران حکومت نے سن دو ہزار پندرہ میں بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ کیا تھا۔ نئے قانون کے مطابق اب ایرانی جوہری ادارہ سالانہ ایک سو بیس کلوگرام یورینیم پیدا کر سکے گا اور اس کی افزودگی کی شرح بیس فیصد ہو گی۔ ابھی تک ایران پانچ فیصد افزودہ یورینیم پیدا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ایران اب بہتر معیار کے سینٹری فیوجز بھی تیار کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ نیا قانون عالمی جوہری ادارے، امریکا اور ایران کے مابین مزید کشیدگی کا باعث بنے گا نیا قانون منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ قانون اس معاہدے کے خلاف ہے، جو تہران حکومت نے سن دو ہزار پندرہ میں بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ کیا تھا۔ نئے قانون کے مطابق اب ایرانی جوہری ادارہ سالانہ ایک سو بیس کلوگرام یورینیم پیدا کر سکے گا اور اس کی افزودگی کی شرح بیس فیصد ہو گی۔ ابھی تک ایران پانچ فیصد افزودہ یورینیم پیدا کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ایران اب بہتر معیار کے سینٹری فیوجز بھی تیار کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ نیا قانون عالمی جوہری ادارے، امریکا اور ایران کے مابین مزید کشیدگی کا باعث بنے گا۔

شیئر کریں

Top