پیپلزپارٹی نے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کیلئے 31 جنوری کی ڈیڈلائن دیدی

images-67-1.jpeg


پی پی پی کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی نے اسمبلیوں سے استعفوں اور حکومت کو مستعفی ہونے کیلئے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن کی توثیق کردی
حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے ، جب تک مردم شماری درست نہیں ہوگی عوام کو ان کا حق نہیں ملے گا، بلاول بھٹو
کراچی(آئی این پی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 31 جنوری تک اپنے تمام ارکان اسمبلی کے استعفے پارٹی قائدین کے پاس جمع کرانے اور سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان اور ساتھ ہی قومی و پنجاب اسمبلی میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ پی پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی نے اسمبلیوں سے استعفے جمع کرانے اور حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن کی توثیق کردی ہے،خواجہ آصف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں ، ایسی کسی بھی گرفتاری کے سخت خلاف ہیں۔ منگل کو اس بات کا اعلان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 جنوری تک تمام ارکان اسمبلی کے استعفے پارٹی قائدین کے پاس جمع ہوجائیں گے، ہم حکومت گرانے کے لیے 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے طے کیا ہے کہ پی ڈی ایم کی آل پارٹیز کانفرنس کے لائحہ عمل پر چلتے ہوئے اے، بی اور سی ایکشن پلانز پر عمل کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی کو حکومت کو ہر فورم پر چیلنج کرنا چاہیے، پورے پی ڈی ایم اور اپوزیشن جماعتوں کو ہر فورم پر ہر ہتھیار کے ساتھ لڑنا چاہیے، کمیٹی سمجھتی ہے کہ ناجائز حکومت کو عدالتوں اور پارلیمان میں بھی چیلنج کرنا چاہیے جس کے لیے پنجاب اور نیشنل اسمبلی میں چیلنج کرنا چاہیے اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ہم مل کر سینیٹ الیکشن میں بھی حکومت کا مقابلہ ڈٹ کر کریں گے، جب بھی پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا ہم اپنی کمیٹی کی تجاویز ان کے سامنے پیش کریں گے، کمیٹی صاف و شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتی ہے یعنی 2018 میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے ذریعے کی گئی دھاندلی دہرائی نہ جائے۔بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہماری کمیٹی سمجھتی ہے کہ ملک بھر میں کئی جگہ مردم شماری درست ظاہر نہیں کی گئی، اس پر فاٹا میں بھی اعتراضات اٹھائے گئے، ہم نے صرف جمہوری عمل چلنے اور مردم شماری نتائج ری چیک کے لیے حکومت کو وقت دیا، ہم کل بھی اس کے خلاف تھے اور آج بھی اس کے خلاف ہیں، ہم باقاعدہ حکومتی اتحادی سے رابطہ کریں گے جنہوں نے مردم شماری پر اعتراض کیا، مردم شماری پورے پاکستان کا ایشو ہے جب تک مردم شماری درست نہیں ہوگی عوام کو ان کا حق نہیں ملے گا، دھاندلی بھی اسی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئی۔چیئرمین پی پی نے کہا کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اب خود مختلف جماعتوں اور طبقات سے رابطہ کریں گے جنہیں اس حکومت کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے جیسا کہ اسٹیل مل، پی آئی اے ملازمین، کسان، مزدور کے ساتھ اور کراچی کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے یہ عوامی ایشوز ہمارے ایشوز ہیں۔خواجہ آصف کی گرفتاری پر بلاول نے کہا کہ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ہم ایسی کسی بھی گرفتاری کے سخت خلاف ہیں۔
بلاول بھٹو

شیئر کریں

Top