سانحہ مچھ سیاست نہیں ہزارہ برادری کا دکھ بانٹنے آئے ہیں :بلاول بھٹو،مریم نواز

10.jpg

QUETTA: PML-N vice-president Maryam Nawaz, PPP chairman Bilawal Bhutto Zardari and other offering fateha for departed soul of coal miners’ workers during arrived at sit-in against killing on 11 innocent coal miners’ workers. INP

ہزارہ بھائی بہنوں سے کیا کہہ سکتا ہوں، کیا بتا سکتا ہوں، پاکستان ایسا ملک ہے، ایسی دھرتی ہے جہاں شہیدوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے
عمران خان اپنی انا چھوڑ کر کوئٹہ جائیں اور لواحقین کا غم بانٹیں ، یہ لوگ بھی ریاست کے شہری ان کو تحفظ دیا جائے،لواحقین سے بات چیت
کوئٹہ (صباح نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا جو مچھ میں 11 کان کنوں کے قتل کے خلاف پانچ روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سانحہ مچھ بہت گہرازخم ہے،سیاست کرنے نہیں ہزارہ برادری کا دکھ بانٹنے آئے ہیں پاکستان میں سب کچھ مہنگا،خون سستا ہوگیا ،بیرون ملک حملے ریاست کی ناکامی ہے جب تک ریاست زندگی کا تحفظ نہیں دلا سکتی وہ ریاست نہیں کہلا سکتی ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ ایک بار پھر ہزارہ ٹاون میں آپ کے درمیان ہوں، جب بھی ہم بلوچستان اور کوئٹہ آتے ہیں ہم اپنی خوشی یا سیاست کے لیے نہیں آتے ہیں بلکہ آپ کے دکھ میں شریک ہونے اور دہشت گردی کے واقعے کی وجہ سے آتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں ہزارہ بھائی بہنوں سے کیا کہہ سکتا ہوں، کیا بتا سکتا ہوں، پاکستان ایسا ملک ہے، ایسی دھرتی ہے جہاں شہیدوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے، ایسے پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے لیکن عوام کا خون سستا ہے، 1999 سے 2 ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں لیکن ایک شہید کو بھی انصاف نہیں ملا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے بزرگوں کی حکومت میں بھی اسی ہزارہ تاون میں 100 شہیدوں کی لاشوں کے ساتھ احتجاج ہوا تھا، آپ نے اس وقت بھی اپنے مطالبات رکھے تھے، ہم نے صوبائی حکومت برطرف کردی، ہماری وفاقی حکومت چلی گئی، دوسری حکومت آگئی اور آپ نے پھر سے شہیدوں کے ساتھ احتجاج کیا، اب خان صاحب کی حکومت ہے اور آپ پھر سے شہیدوں کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں اور آپ کا مطالبہ ایک ہی ہے آپ کو جینے دیا جائے’۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘میں بھی شہیدوں کے خاندان سے ہوں لیکن ہم بھی آج تک اپنے شہیدوں کو انصاف نہیں دلوا سکے، یہ کس قسم کا انصاف اور ملک ہے جہاں آئی ڈی کارڈ دیکھ دیکھ کر قتل عام ہوتا ہے، یہ کیسا انصاف ہے جہاں ہمارے شہیدوں کے لواحقین کو بھی لاشوں کے ساتھ مسلسل احتجاج کرنا پڑتا ہے لیکن ہم انہیں ایک شہید کا انصاف نہیں دلوا سکتے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم کیسے پوری دنیا کو جواب دیں گے
بلاول

شیئر کریں

Top