مذاکرات کامیاب مچھ شہداء سپرد خاک نماز جنازہ میں وفاقی و صوبائی وزراء کی شرکت

03.jpg

QUETTA: Relatives’, Hazara community and others offering funeral prayer. A gunmen killed coal miners near the Machh coal field in Quetta, Pakistan, Saturday, Jan. 9, 2021. Hundreds of Pakistani Shiites gathered to bury 11 coal miners from the minority Hazara community who were killed by the Islamic State group, ending over a week of protests that sought to highlight the minority community's plight. INP PHOTO by Ahmed Bhatti

مچھ میں تیز دھار آلے سے قتل کئے جا نے والے 10کانکنوں نماز جنازہ کر نے کے بعد ہزارہ قبرستان میں تدفین کردی گئی
نما ز جنا زہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سمیت بڑی تعدادمیں لوگوں کی شرکت
کوئٹہ ( آئی این پی )بلو چستان حکومت اور دھر نا کمیٹی کے ما بین کا میاب مذاکرات کے بعد بلو چستان کے ضلع کچھی کے علا قے مچھ میں تیز دھار آلے سے قتل کئے جا نے والے 10کارکنوں نماز جنازہ کر نے کے بعد ہزارہ قبرستان میں تدفین کردی گئی ہے نما ز جنا زہ علامہ ناصر عباس نے پڑھائی۔ نما ز جنا زہ میں لو گوں کی بہت بڑی تعدادنے شر کت کی ۔تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ شب حکومت بلو چستان اور دھر نا کمیٹی کے درمیان ہو نے والے کا میاب مذاکرات کے بعدمچھ میں تیز دھا ر آلے سے قتل کئے جا نے والے 10مقتولین کی نعشیں امام بارگاہ ولی عصر منتقل کر دی گئیں تھی نعشوں کو ہفتے کے روز نماز جنازہ کیلئے ہزارہ قبرستان منتقل کر نے کے بعد نما ز جنا زہ ادا کر دی گئی اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو، پا رلیمانی سیکرٹری برا ئے اربن پلا ننگ و کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے)مبین خان خلجی ، سلیم احمد کھوسہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، وفاقی وزیر علی زیدی اور ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت لو گوں کی بڑی تعداد مو جو د تھی۔ واضح رہے افغان حکومت کی جانب سے قتل کئے جانے والے 10افراد میں سے 7کے افغانی باشندے ہونے کی تصدیق کی گئی تھی بلکہ ان میں سے 3کی لاشیں افغان حکام کے حوالے کرنے کا بھی بذریعہ تحریری مراسلہ مطالبہ کیا گیا تھا تاہم تمام شہداء کی تدفین ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ میں کردی گئیں ، تدفین کے موقع پر مقتولین کے ورثاء کا کہنا تھا کہ چونکہ تمام شہداء کے وارثین یہاں موجود ہیں اور وہ اپنی مرضی سے یہاں میتوں کی تدفین چاہتے ہیں اس لئے تمام 10افراد کی تدفین کوئٹہ میں ہی کردی گئیں ۔یاد رہے کہ بلو چستان کے ضلع کچھی کے علا قے مچھ گیشتری میں 10افراد کے قتل اور اس کے بعد ان کے لواحقین اور ہزادرہ برا دری کے افراد کی جا نب سے دھر نا شروع کر دیا گیا تھا اور دیگر مطا لبا ت سمیت یہ مطا لبہ بھی پیش کیا گیا تھا کہ جب تک وزیر اعظم عمران خان کو ئٹہ آ کر دھر نے کے شرکا ء کو ملوث عناصر کے خلا ف کا رروائی کی خود یقین دہا نی نہیں کرا تے اس وقت تک میتوں کی تدفین نہیں کی جا ئے گی جس کے بعد کراچی و لاہور، ملتان سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی دھرنوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا مذاکرات کی کامیابی کے اعلان کے بعد شہدا ایکشن کمیٹی کے رہنما آغا رضا کا کہنا تھا کہ ہم نے شہدا کے لواحقین کے لیے دھرنا دیا اور ان کے مطمئن ہونے پر ہی دھرنا ختم کر رہے ہیں۔ اپنے شہدا کی تدفین پورے تقدس کے ساتھ کریں گے۔ آغا رضا نے ملک بھر میں دھرنا دینے والوں سے اپیل کی کہ ہمارے تمام مطالبات تسلیم کرلیے گئے ہیں جس کے بعد تمام دھرنے پر امن طور پر ختم کردیئے گئے جبکہ وفا قی وزیر علی زیدی کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان شہدا کے شرعی وارث کو سرکاری ملازمت اور زیر تعلیم کسی بھی بچے کو اسکالرشپ دیگی۔ واقعہ میں غفلت کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہوچکی ہے جب کہ سانحہ مچھ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی سربراہی میں 2ارکان اسمبلی، 2سنیئر سرکاری افسران، ایک ڈی آئی جی پولیس اور 2ممبران شہدا کمیٹی پر مشتمل اعلیٰ سطح کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے جو ہر ماہ تحقیقات میں پیش رفت کا جائزہ لے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبے میں سیکیورٹی اداروں کے ذریعے سیکیورٹی صورت حال پر از سر نو جائزہ لیکر حکمت عملی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نادرا اور پاسپورٹ آفس کے مسائل کے حوالے سے کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں شہدا کمیٹی کے 2ارکان شامل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بیان پر عوام نے تنقید کی یہ بیان شہدا کے لواحقین کیلئے نہیں بلکہ ان کے لئے تھا جو مذہب کے نام پر سیاست کر تے ہیں اورملک کو غلط سمت میں لیکر جانا چا ہتے ہیں وہ یہاں بھی آئے ۔کامیاب مذاکرات کے بعد مقتولین کے ورثا بھی اطمینان اور اظہار یکجہتی کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھینا صرف پولیس اور سیکورٹی فورسز کے اہلکا روں کی بڑی تعداد کو تعینا ت کیا گیا تھا بلکہ ہزارہ ٹاؤن کے گرد و نواح میں موبائل جیمرز بھی لگائے گئے تھے۔
سپردخاک

شیئر کریں

Top