مفاد عامہ کے منصوبے روکنا سازش، پلاننگ کے دفتر کا گھیراؤ کرینگے: سابق وزیراعلیٰ

images-69.jpeg

جس دن سے جعلی حکومت قائم کی گئی ہے صوبے کا نظام منجمد کرکے رکھ دیا گیاہے،نوازشریف نے آرسی سی پلوں کیلئے چارارب گرانٹ دی تھی
قراقرم یونیورسٹی انجینئرنگ کالج کی زیر تعمیر بلڈنگ کو نذر آتش کرنے والوں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے،حفیظ الرحمان
گلگت(بادشمال نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کا ایک ہنگامی اجلاس مرکزی سیکرٹریٹ گلگت میں زیرصدارت سابق وزیراعلی و صوبائی صدر مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان منعقد ہوا۔اجلاس سے صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان میں سیاسی,معاشی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان میں جس دن سے جعلی حکومت قائم کی گئی ہے صوبے کا نظام منجمد کرکے رکھ دیا گیا ہے۔علاقہ سیاسی عدم استحکام,معاشی بدحالی,بیروزگاری,مہنگائی اور غربت میں اضافہ سے معاشی مایوسی سے دوچار ہے۔ترقیاتی عمل کے رک جانے سے مزدور اور مارکیٹ کی روزی روٹی کا عمل بھی رک چکا ہے۔اجلاس نے درجہ زیل قرار داد منظور کی ہے۔قرار داد میں کہاگیاہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کی سابق صوبائی حکومت کے مفاد عامہ کے منظور شدہ اور جاری منصوبوں پر کام روک دینا گلگت بلتستان کی عوام کے ترقیاتی خوشحالی کے خلاف سازش ہے۔آئندہ نسلوں کی امانت کو سبوتاژ کرنا ہے اور ترقی کے عمل کو روکنا ہے۔جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔لہزا سابق صوبائی حکومت کے منظور شدہ فنڈڈ جاری منصوبوں کو فوری مکمل کیا جائے۔قرارداد میں کہاگیاہیکہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان میں آر سی سی پلوں کی تعمیر کیلئے 4 ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کئے تھے جس سے دیگر اضلاع میں درجنوں آر۔سی۔سی پلوں کے منصوبے بھی باقاعدہ منظور ہوئے لیکن ایک سازش کے تحت ان 4 پلوں کی تعمیر کو روکا گیا جبکہ سیکرٹری پلاننگ نے سازش کا باقاعدہ حصہ بنتے ہوئے پلوں کے ایڈمنسٹریٹیو منظوری کو منسوخ کرکے جہاں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا وہاں مفاد عامہ,سیاحت اور بڑی شاہراہوں کی تعمیر و ترقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔لہزا سیکرٹری پلاننگ کے خلاف مسلم لیگ(ن)مفاد عامہ کے خلاف سازش کرنے پر جہاں جلد نیب میں ریفرنس دائر کرے گی وہاں سیکرٹری پلاننگ کے خلاف اس کے آفس کا گھیرا بھی گلگت کی عوام کرے گی۔قرارداد میں واضع کیا گیا ہیکہ سیکرٹری پلاننگ 4 پلوں کی تعمیر کے منصوبے 30 جنوری تک تعمیراتی عمل کا حصہ بنائے بصورت دیگر گلگت کے عوام غیض و غضب کو بھگتنے کیلئے تیار رہے۔قرارداد میں کہاگیاہیکہ قراقرم یونیورسٹی انجینئرنگ کالج کی زیر تعمیر بلڈنگ کو دہشتگردی کے ذریعے نزر آتش کرنے والوں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے بصورت دیگر گلگت بلتستان کی عوام موجودہ جعلی نظام میں اپنے قومی اثاثوں اور گلگت بلتستان کی شناخت کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے کسی گرینڈ لائحہ عمل پر سوچنے کیلئے مجبور ہوگی۔قرارداد میں گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2020 میں وفاقی حکومت اور سہولت کاروں کی گھنانی بدترین دھاندلی سے پیدا کئے گئے نتائج اور جعلی صوبائی حکومت مسترد کردیا گیا ہے۔اور کہاگہا ہے کہ 15 جنوری 2021 کو مسلم لیگ (ن) دھاندلی کے خلاف وائٹ پیپر جاری کرے گی۔قرارداد میں کہاگیاہیکہ گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات,ترقیاتی منصوبوں کے عمل کو جاری رکھنے اور 4 پلوں کی تعمیر کے منصوبے کو یقینی بنانے کی گارنٹی مقتدر اداروں اور چیف سیکرٹری نے دی تھی۔لیکن مسلم لیگ (ن) سے عناد میں مقتدر اداروں اور چیف سیکرٹری نے گلگت بلتستان کی عوام کے مفاد کو نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے یہاں کی عوام کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔لہزا آئندہ کا لائحہ عمل جلد وضع کیا جائے گا۔اجلاس کے آخر میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
حفیظ الرحمن

شیئر کریں

Top