وزیر اعلیٰ کی مصروفیت کو سلفیون کا نام دینا کم ظرفی خالی خزانہ ورثے میں ملا، حفیظ کی بوکھلاہٹ کی وجہ اقتدار سے محرومی ہے:وزیر اطلاعات

g11-1.jpg

خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈال کر جانے والی مسافر لیگ کی حکومت نے ذاتی مفاد کو عوامی مفادات پر مقدم رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 90 ارب روپے کا بوجھ پڑ گیا
خالد خورشیدنے اسلام آبادمیںقیام کے دوران جوکام کئے سابق وزیراعلی پانچ سالوں میں نہ کرسکے،آنے والے وقت میں عوا م کوتبدیلی نظرآئے گی،فتح اللہ خان
اسلام آباد(نمائندہ بادشمال )وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے کہا ہے کہ غیر سنجیدہ ٹولہ وہ ہے جس نے مستقبل کی منصوبہ مندی کئے بغیر حکومت کے باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں رکھی اور خالی خزانہ ہمیںورثے دیا اب گرانٹ ان ایڈ سے چلنے والے صوبے کو چلانے کیلئے فنڈز درکار تھے جس کیلئے وزیر اعلی نے وفاقی حکومت سے تواترسے ملاقاتیں کیں اور وفاقی حکومت نے خاطر خواہ فنڈز دے دئے سابق وزیر اعلی کے اخبارات کو جاری ایک بیان کے ردعمل میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق وزیر اعلی عوام کی جانب سے رد کئے جانے کے بعد جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کرعوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ بھول گئے کہ خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈال کر جانے والی مسافر لیگ کی حکومت نے ذاتی مفاد کو عوامی مفادات پر مقدم رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 90 ارب روپے کا بوجھ پڑ گیا۔ غیر ضروری منصوبے جن سے براہ راست عوام کو فائدہ نہ پہنچتا ہو بلکہ مخصوص طبقہ کا فائدہ ہو ھر گز عوامی خزانے پہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔وزیر اطلاعات گلگت بلتستان نے کہا کہ صحت کے میدان میں انقلابی تبدیلیوں کے دعویدار ، تعلیم کے شعبے میں کام کرنے کا ڈھونگ رچانے والے سابق وزیر اعلی اپنے ضمیر سے پوچھ لیں کہ انہوں نے کس طرح ان دونوں شعبوں کا تباہی کے دہانے پہ پہنچا کر رکھ دیا ۔ آج گلگت بلتستان کی قوم جان لے کہ اس تباہ شدہ نظام کو درست کرنے کیلئے وزیر اعلی نے قیام اسلام آباد کے دوران ان تھک محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں بہترین تبدیلیاں جلد آئنگی اور اس کامیابی کا سہرا وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید خان کے سر جاتا ہے جنھوں نے رات دن ایک کر کے مختلف وزارتوں سمیت وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو گلگت بلتستان کے مسائل سے آگاہ کیا اور انھیں ان تمام مسائل کے حل پہ آمادہ کیا ۔سرکاری کوریج وزیر اعلی کے پروٹوکول کا حصہ ہے تاکہ عوام جان سکیں کہ ان کے نمائندے ان کیلئے کیا کر رہے ہیں اور اس کو سیلفیوں کا نام دینا کم ظرفی کی ایک علامت ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے اسلام آباد میں جو کام اس دوران کئے سابق وزیر اعلی پانچ سالوں میں نہیں کر سکے۔ بہت جلد عوام دیکھے گی کہ ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ میں اضافے کے علاوہ اضافی فنڈز بھی مل جائنگے جس سیعوام خو ریلیف مل جائے گا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلی عوام کو روزگار دینے کیلئے نت نئے منصوبوں پہ کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ان دنوں میں ہی سیاحت پہ جامع پالیسی اور کئے منصوبوں پہ کام کیا جن کا نتائج جلد ہی عوام کے سامنے ہونگے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلی کو صوبے میں بجلی کی کمی کا احساس ہے جس کے بارے انہوں نے کئی فورم پہ بات کی اور پالیسی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
وزیراطلاعات

شیئر کریں

Top