مہنگائی سے تنگ عوام کہہ رہے ہیں پرانے چوروں کو وآپس لائیں: فضل الرحمن

Fazlur-Rehman.jpg

یہاں عوام کی بالادستی ہوگی، آج فیصلہ کن وقت آگیا ہے،پاکستان کے مالک اس کے عوام ہیں یا کچھ طاقت ادارے ہیں،پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سربراہ
بلوچستان کے عوام دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں،اس ملک میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم ہو کر رہے گی، یاد رکھیں عمران خان کو جانا ہی ہے، جلسے سے خطاب
لورالائی (آئی این پی ) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عوام کہہ رہے ہیں پرانے چوروں کو واپس لاو تاکہ روٹی تو ملے ،اب ہم اس ملک میں اداروں کی بالادستی کو تسلیم نہیں کریں گے اور یہاں عوام کی بالادستی ہوگی، آج فیصلہ کن وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے مالک اس کے عوام ہیں یا کچھ طاقت ادارے ہیں، بلوچستان کے عوام دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں، اس ملک میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم ہو کر رہے گی، یاد رکھیں عمران خان کو جانا ہی ہے، یہ ایک غیر متعلقہ شخص ہے، جعلی حکومت اورجعلی وزیراعظم کو عقل نہیں ہے، اس کا تو کوئی نظریہ ہی نہیں ہے ، ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا ،پاکستان کو دنیا میں آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر متعارف کروانا ہے، ہمارا اپنا ملک ہے اور ہمیں اپنے ملک کے حوالے سے سے سوچنا ہے، ہمارے حکمرانوں میں خود اعتمادی نام کی کوئی چیز نہیں، اگر انہیں پاکستان کالونی نظر نہ آتا تو یہ اوٹ پٹانگ باتیں نہ کرتا، کبھی امریکا کے نظام کی بات کرے اورکبھی چین کے نظام کی بات کرے۔ بدھ کو سربراہ پاکستان ڈیمو کریٹک کے سربراہ فضل الرحمان نے لورالائی میں جلسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان اجتماع اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچستان کے عوام دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں، ووٹ چوری کر کے آنے والی حکومت کو قوم پر مزید مسلط ہونے کا حق حاصل ن ہیں ہے اور ہم یہ غصب کیا ہوا حق واپس لے کر رہیں گے اور اس ملک میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم ہو کر رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جنگ جمہوری فضاؤں کی بحالی کیلئے ہیں، ہماری جنگ آئین کی پاسدار، پارلیمان کی بحالی اور قانون کی عملداری کیلئے ہے، اس مقصد کیلئے تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم میں ہیں اور پوری قوم ساتھ ہے، ہم نے پورے ملک میں جلسے کئے ہیں، جلسوں میں عوام کا سمندر امڈ آتا ہے اور یاد رکھیے کہ عمران خان نے جانا ہی جانا ہے، عمران خان کسی کھاتے کا بھی انسان نہیں ہے، یہ ایک غیر متعلقہ شخص ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کے مالک عوام ہیں یا ملک کے کچھ طاقتور ادارے ہیں، آج فیصلے کا وقت آ گیا ہے اور فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے کہ جعلی حکومت، جعلی وزیراعظم جس کا کوئی عقل نہیں ہے، نظریہ ہی ہے اس کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہو گا، وزیراعظم کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ بناؤں گا پھر کہتا ہے کہ چین کا نظام چاہتا ہوں، پھر کہا کہ ایران جیسا نظام ہونا چاہیے، اب کہتا ہے کہ امریکہ جیسا نظام ہونا چاہیے، بس اب تو اس کے منہ سے ایک بات رہ گئی کہ کہے کہ میں تو اسرائیل جیسا نظام چاہتا ہوں، عمران خان ایسا نمونہ ہے کہ دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا ہو گا، دنیا میں تین ہی نمونے ہیں ایک ڈونلڈ ٹرمپ ہے، دوسرا مودی ہے اور تیسرا ہمارا عمران خان ہے، یہ سارے خاص خاص دانے ہیں جوپوری دنیا ایک طرف یہ دوسری طرف ہیں، جن کو نہ سرکا پتہ ہے نہ پاؤں کا معلوم ہے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ مودی وزیراعظم بن جاتے تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا لیکن واقعی میں مودی وزیراعظم بن گیا اور کشمیر ہم سے چلا گیا، عمران خان مسئلہ حل ہو گیا، تو اب یہ کس منہ سے کشمیر کی بات کرتا ہے، پہلے حکومت 85ہزار مربع کلو میٹر کشمیر کی بات کرتی تھی اور صرف پانچ ہزار مربع کلو میٹر کشمیر پر بات ہوتی ہے، گلگت بلتستان کو بھی کشمیر سے الگ کر دیا ہے، جی بی کی آبادی 13لاکھ ہے اور صوبہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قبائل کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے لیکن صوبہ نہیں دیا جا رہا ہے، یہ حکومت جس طرح کے فلسفے بنا رہی ہے وہ اس طرح گلی کوچے کا احمق بھی نہیں بولتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، انگریز سے آزادی حاصل کی ہے لیکن پاکستان آج بھی کالونی کی حیثیت ہے اور ہم نے امریکی قانونی بنانے نہیں دیں گے، عمران خان اپنا منہ دیکھیں اور ریاست مدینہ کی بات کرنے کو دیکھیں کیونکہ جب عمران خان کے منہ میں ریاست مدینہ کا نام آتا ہے، ریاست مدینہ کا نام شرما دیا جاتا ہے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ زور و جہد سے حکومت کرنا اس حکمرانوں کا اور ریاست کا فلسفہ ہے اور قوم کو ہمیشہ بے وقوف بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج افغانستان پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتا ہے۔
فضل الرحمان

شیئر کریں

Top