ضیاء الدین شہید کی 16 ویں برسی پر عوام کی بڑی تعداد میں شرکت

g16-1.jpg

شہید نے مارشل لا دور میں عوام کو شعور دینے کیساتھ ہر مکتب کے عوام کو ایک لڑی میں پرونے کی بھر پور کوشش کی
گروہ بندیاں ختم کر کے امن و اتفاق سے مسائل کے حل کیلئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،شیخ شرافت،راحت حسین الحسینی کا خطاب
گلگت(سپیشل رپورٹر)شہید علامہ سید ضیا الدین رضوی اور رفقا کے 16ویں برسی کی مناسبت سے تعزیتی اجتماع رہائشگاہ شہید رضوی امپھری میں منعقد ہوا _ اجتماع میں علاقہ بھر کے علما کرام _زعما _سیاسی اکابرین اور ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی _ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شیخ شرافت ولایتی نے کہا کہ شہید علامہ سید ضیا الدین رضوی نے مارشل لا دور میں جہاں عوام کو ان کے حقوق کا شعور دیا وہاں ہر مکتب کے عوام کو اتحاد و وحدت اور ہم آہنگی کا درس دیاعملی طور پر اتحاد بین المسلمین کے لیے خدمات انجام دے کر گلگت بلتستان کے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرونے کی بھرپور کو شش کی۔ شہید ضیا الدین رضوی نے پاکستان کی اساس اور بنیاد یعنی اسلام اور جمہوریت کے نفاذ کے لئے روشن رہنمائی فراہم کی اور بین الاقوامی مسائل میں اپنا سنجیدہ اور مدلل موقف پیش کیا جو رہبر انقلاب اسلامی حضرت اور قائد ملت جعفریہ کے موقف کی روشنی میں اور اس کے مطابق تھا۔اجتماع سے شیخ قیصر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہہ میں فکر شہید سے الہام لیتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن رہتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل اور اتحاد بین المسلمین کے عملی فروغ کے لیے جدوجہد کرنی ہوگیااتحاد و وحدت کا فروغ اور اس جدوجہد میں اعلامیہ وحدت، ،ملی یکجہتی کونسل اور اس جیسے فورمز درحقیقت وہ سنگ میل ہیں جو شہید ضیا الدین رضوی کے خوابوں کی تعبیرہیں۔ شھید اپنی زندگی میں ایسے اقدامات کے لئے کوشاں رہے اور عوام کو باہمی وحدت کے لئے عملی جدوجہد کا درس دیتے رہے آج یقینا ان کی روح شادمان ہوگی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ شہید رضوی نے اپنے اہداف کے حصول کے لئے ایک واضح راستے کا تعین کیا اور اسی راستے کو مدنظر رکھ کر جدوجہد کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے موجودہ دور میں اس راستے پر چل کر ان اہداف کے حصول کے لئے جدوجہد کی جائیں، اپنی داخلی گروہ بندیاں ختم کی جائیں اور شہید کی طرح اعلی فکر اور بلند کردار کے ساتھ آگے بڑھاجائے تو ہم یہ اہداف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور عالم اسلام میں منفرد کردار ادا کرسکتے ہیں۔شہید نے اپنی تمام زندگی عالمی استعمار کی سازشوں اور طاغوتی چیرہ دستیوں کے خلاف اور محروم و مظلوم طبقات کے حقوق کے لئے جدوجہد میں صرف کردی اور بالخصوص گلگت بلتستان میں بیرونی سازشوں کا بروقت ادراک کر کے ان کے خلاف عملی جدوجہد کر نے کی طرح ڈالی۔بیرونی سارشوں کے علاوہ گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش اندرونی سارشوں کو بے نقاب کرنے اور عوامی مشکلات کے حل کے لیے مخلصانہ کاوش بھی شہید کا خاصہ ہے۔دور حاضر میں شہید کے پیروکاروں کو چاہئے کہ وہ شہید کی شخصیت کا روشن فکری کے ساتھ مطالعہ کریں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گلگت بلتستان میں محروم و مظلوم طبقات کو درپیش مسائل کے حل، فرقہ واریت کے خاتمہ، طبقاتی تقسیم، بدعنوانی، بے راہ روی اورمعاشرتی مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کریں۔اور اس کے علاوہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑے بحران یعنی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مکمل عزم اور جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا چاہئے اس راستے میں شہید کی طرح شہادت ہی کیوں نہ ہماری منزل قرار پائے_انہوں نے سانحہ مچھ کوئٹہ کیمذمت کرتے ہوئے دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
برسی

شیئر کریں

Top