بڑے ترقیاتی پیکج کی تیاریاں کمیٹی تشکیل

g10-4.jpg

ترقیاتی پیکج میں ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن، کلین انرجی ، معدنیات، کامرس، ہیلتھ، ایجوکیشن، فنی مہارت، سیاحت، ماحولیات، موسمی تغیرات، اور زراعت سمیت دیگر منصوبے شامل ہونگے
پسماندہ علاقوں کی ترقی تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، چالیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ،وزیر اعلیٰ کا اجلاس سے خطاب
اسلام آباد(بادشمال نیوز)ملک کی تاریخ میں پہلی بار گلگت بلتستان کیلئے ایک عظیم الشان ترقیاتی پیکج کی تیاری کیلئے وفاق میں وزیر اسد عمر کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اسے حتمی شکل دینے کیلئے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کی سربراہی میں بین الوزارتی کمیٹی کی تشکیل دی گئی جو 15 دن کے اندر گلگت بلتستان کے تمام شعبوں کی ترقی کیلئے منصوبوں کی نشاندہی کرے گی اور مئی سے پہلے ان پر کام شروع کر دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیا گیا ، مگر اب وقت آیا ہے کہ گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ قبل ازیں وزیر اعلی خالد خورشید نے اجلاس کو بتایا کہ گلگت بلتستان پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے ضرورت اس امرکی ہے کہ اس صلاحیت کو اجاگر کر کے اسے استعمال میں لایا جائے، وزیر اعلی نے کہا کہ ان منصوبوں کی اجراء اور تکمیل کیلئے باقاعدہ وقت مقرر کرتے ہوئے وہاں کے ھر شعبے کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں 40 ہزار میگا واٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور پورے ملک کی ضروریات پوری کر سکتا ہے اسے استعمال میں لایا جائے۔ وزیر اعلی نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی توجہ کے باعث گلگت بلتستان میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ قبل ازیں وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے اجلاس کو بتایا کہ عوام اور عوام کی منتخب حکومت کا وفاقی حکومت پہ بے انتہا اعتماد ہیکہ وہ علاقے کی پسماندگی دور کر دے گی۔۔ گلگت بلتستان ترقیاتی پیکیج میں ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن، کلین انرجی آف گرڈ سولوشن، جیمز، مینرل، ٹریڈ، کامرس،ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، ہیلتھ، ایجوکیشن، فنی مہارت، سیاحت اور الائیڈ سہولیات، ماحولیات اور موسمی تغیرات، اور زرعی ترقیاتی تجارت کے منصوبوں سمیت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بہت سارے منصوبے شامل ہونگے۔
پیکج

شیئر کریں

Top