یارقند شگر روٹ اور معاشی انقلاب:وزیر جعفر

بلتورو گلیشیر پر ہر سال ہونے والی جغرافیائی تبدیلیوں اور مشکلات کے بارے میں مجھے جانکاری ہے کیونکہ 20 سال تک گائیڈ کی حیثیت سے گلیشیرز کے انہی بھول بھلیوں میں ہر سال کئی بار گھومنے کا موقع ملا ہے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشیر کا حجم سالانہ کم ہو رہی ہے اور خشک ریتیلی زمین نکل رہی ہے گلیشیر اور پہاڑ کے درمیان ریتیلی زمین کا فاصلہ بڑھ رہا ہے ا ور جھاڑیاں نکل رہی ہیں اسکولی سے جھولا تک سڑک مکمل ہو کر گاڑیاں گزر رہی ہیں بیافو اور پنما کے دریاں پر پل بھی بن چکی ہے جھولا سے پایو تک رواں سال سڑک کی تعمیر مکمل ہو جاے گی جس کے بعد مشتاق پاس تک کا نصف حصہ سڑک اس سال تکمیل کو پہنچے گی اور اک اندازے کے مطابق مزید صرف 20 سے25 کلومیٹر رہتی ہے بلتورو گلیشیر سے کے ٹو کی طرف جاتے ہوئے بائیں ہاتھ مشتاق پاس تک تین سے چار گلیشیر اتے ہیں پہاڑوں کے درمیان ا ہر گلیشیر کا پاٹ یعنی چوڑائی نصف کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے پاکستانی انجینئرز کے لیے ان پر لوہے کے مضبوط پلوں کی تعمیر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے باقی راستہ پہاڑ کے ساتھ ساتھ بنانے کے لیے کشادہ جگہ موجود ہے لہذا مشتاق پاس تک سڑک کی تعمیر مشکل نہیں ہے صرف پختہ ارادہ اور عزم کی ضرورت ہے اس روٹ کی تعمیر سے یارقند چین اور پاکستان میں سالہا سال قبل کا سیاحتی اور تجارتی رشتہ بحال ہو گآ اور دفاعی پہلو سے بھی پاکستان اور چین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل روٹ ثابت ہو گی اس روٹ کی تکمیل کے بعد بلتستان تجارتی اور کاروباری مرکز بنے گا چونکہ اس روٹ سے گزرنے والوں کو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور اہم گلیشئرز کو دیکھنے کا موقع ملے گا کے ٹو دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے صرف اک دن کے فاصلے پر ہو گا جس کی وجہ سے لاکھوں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد و رفت ممکن ہے جس سے بلتستان میں تاریخی معاشی انقلاب آنے کی توقع کی جاتی ہے[اس تاریخی اہمیت کی روٹ کو دنیا The Apricot Road to Yarkand کے نام سے بھی جانتی ہے ملک کے تمام لکھاریوں، مفکرین، جرنلٹس، سیاستدانوں اور خصوصا عسکری قیادت سے اپیل ہے کہ دور جدید کی دفاعی ،سیاحتی اور تجارتی اہمیت و ضرورتوں کے حصولِ کی خاطر جلدی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور اس کی تکمیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے۔

شیئر کریں

Top