بڑاڈشیٹ کیس ،ریٹائرڈ جج کی زیر نگرانی تحقیقات کرائیں گے:وفاقی کابینہ

Cabinet.jpg

کابینہ کی یورو اورپانڈا بانڈز سے حاصل شدہ منافع پر ٹیکس چھوٹ ، علی مہد ی کی بطور سی ای اوپاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ،کراچی ڈوک لیبر بورڈ کے ممبران کی نامزدگی، بی او ڈی این ٹی ڈی سی کی تشکیل کی منظوری
ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کے بھیانک نتائج مرتب ہوسکتے تھے، حکومت سنبھالتے ہی معیشت کے حوالے سے کٹھن فیصلے کرناپڑے ،اس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی پر اثر پڑا ،وزیراعظم
اسلام آباد(آئی ا ین پی)وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ کیس کی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کی زیر نگرانی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کابینہ نے یورو اورپانڈا بانڈز سے حاصل شدہ منافع پر ٹیکس چھوٹ ، علی مہد ی کی بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ لمیٹڈ ،کراچی ڈوک لیبر بورڈ کے ممبران کی نامزدگی،این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل کی منظوری دیدی۔وزیراعظم عمران خان نے کورونا وباء کی صورتحال میں این سی او سی،وزارت خزانہ اور احساس پروگرام کے تحت مستحقین میں کیش گرانٹس کی بروقت اور شفاف طریقے سے تقسیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا جاتا تو اس کے بھیانک نتائج مرتب ہوسکتے تھے، حکومت سنبھالتے ہی معیشت کے حوالے سے کٹھن فیصلے کرنے پڑے جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی پر اثر پڑا، دنیا میں پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس میں کورونا وباء کی وجہ سے غریب عوام پر کورونا کے منفی اثرات کے بارے میں سوچااور بروقت فیصلہ سازی کی۔منگل کووزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔وزیر منصوبہ بندی نے کابینہ کو وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے حال ہی میں کیے جانے والے سروے کی بنیاد پر کورونا وباء کے اثرات کے نتائج پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ اپریل میں تقریباً 2کروڑ آبادی کی آمدنی تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ حکومت کی دانشمندانہ حکمت عملی، مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اور تعمیرات و مینوفیچرنگ سیکٹر میں فیصلہ سازی کی بدولت 2کروڑ آبادی کی آمدنی بحال ہوئی۔ وزیرمنصوبہ بندی نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کے بروقت فیصلے کی بدولت چندماہ کے عرصے میں تقریباً 95فیصد افراد جن کا روزگار ختم ہوچکا تھا بحال ہوا۔ بعدازاں ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی کھول دیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران تقریباً 80فیصد افراد کا روزگار کنسٹرکشن، 72فیصد کا مینو فیکچرنگ جبکہ 67فیصد افراد کا روز گار ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ تھا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا کی وجہ سے 47فیصد آبادی کی بچت استعمال ہوچکی تھی جبکہ 30فیصد افراد نے قرضے لینے شروع کردیئے تھے۔ ان افراد کی تکالیف کا فوری ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے نہ صرف متوازن حکمت عملی اپنائی بلکہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا Economic Stimulusپیکیج دیا۔ اسی طرح احساس پروگرام کے تحت کیش گرانٹس کی بروقت اور شفاف طریقے سے مستحقین میں تقسیم، تعلیمی اداروں کے حوالے سے بروقت فیصلہ سازی اور این سی او سی کی بہترین کوآرڈینشن کی بدولت نہ صرف صورتحال جلد ہی یکسر تبدیل ہوگئی بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مبصرین نے پاکستان کی کورونا وباء پر کامیاب حکمت عملی کو قابل ستائش قرار دیا۔وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ نومبر 2020ء میں Large Scale Manufacturingمیں 14.5فیصد اضافہ ہوا جوگذشتہ 12سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ادارہ شماریات کی جانب سے حاصل کردہ اس ڈیٹا سے کہیں پہلے وزیراعظم نے کمزور اور غریب طبقے کا احساس کرتے ہوئے بروقت فیصلہ سازی کی جس کے مثبت سماجی اور معاشی نتائج حاصل ہورہے ہیں۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کورونا وباء کے پاکستان اور دوسرے ممالک کی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی ا ثرات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ گذشتہ مالی سال میں پاکستان کے جی ڈی پی میں منفی اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی جبکہ امریکہ کے جی ڈی پی میں 4.3فیصد کمی، سری لنکا کے جی ڈی پی میں منفی 4.6فیصد، ایران کے جی ڈی پی میں منفی پانچ فیصد،بھارت کے جی ڈی پی میں منفی دس اعشاریہ دو فیصد جبکہ ترکی کے جی ڈی پی میں منفی پانچ اعشاریہ پانچ فیصد کمی ہوئی۔وزیراعظم نے کورونا وباء کی صورتحال میں این سی او سی،وزارت خزانہ اور احساس پروگرام کے تحت مستحقین میں کیش گرانٹس کی بروقت اور شفاف طریقے سے تقسیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کمزور اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کو مد نظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن کے حوالے سے ایک متوازن حکمت عملی اپنائی جس کا محور غریب او ر دیہاڑی دار طبقہ تھا۔ اگر ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا جاتا تو اس کے بھیانک نتائج مرتب ہوسکتے تھے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت سنبھالتے ہی معیشت کے حوالے سے کٹھن فیصلے کرنے پڑے جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی پر اثر پڑا۔ عوام نے ہمار ا ساتھ دیا اور ادارہ شماریات کی جانب سے سروے بیس ڈیٹا اس امر کا مظہر ہے کہ کورونا وباء کے حوالے سے ہماری حکمت عملی نہ صرف کامیاب رہی بلکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہا۔ اللہ کا شکر ہے کہ کورونا کیسز میں کمی آنا شروع ہوئی اور ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہوا۔ وزیراعظم نے کہاکہ این سی او سی کا ماڈل انتہائی کامیاب رہا اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے موثر حکمت عملی کا نفاذ ممکن ہوا۔
وفاقی کابینہ

شیئر کریں

Top