بھارتی یوم جمہوریہ پر کشمیر یوں اور کسانوں کے مظاہرے ،لال قلعہ پر خالصتان کا پرچم لہرادیا

farmer.jpg

پولیس سے جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہو گئے،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال، بھارت کے یوم آزادی پر مقبوضہ کشمیر خاص طور پر سری نگر میں سخت کرفیو نافذ کیا گیا
دلی(آئی ا ین پی ) بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ پر کسان رکاوٹیں توڑ کر دارالحکومت میں داخل ہو گئے اور بھارتی فوج کے مقابل ٹریکٹر پریڈ شروع کر دی، پولیس سے جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت 26 جنوری کو 1950 سے ہر سال یوم جمہوریہ کے طور پر مناتا چلا آرہا ہے، اس روز دلی میں جہاں نام نہاد جمہوریت کا بگل بجایا جاتا ہے اس پر مودی سرکار کیلئے نام نہاد یومِ جمہوریہ منانا مشکل ہو گیا، کسان رکاوٹیں توڑ کرٹریکٹرز کے ساتھ دلی میں داخل ہو گئے اور بھارتی فوج کی پریڈ سے پہلے ہی پریڈ شروع کر دی۔ ہریانہ ،راجستھان ،پنجاب ، یوپی سمیت کئی ریاستوں سے قافلوں کی دارالحکومت آمد جاری ہے، حکومت نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں لیکن کاشتکار وں نے کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لا یا ، مظاہرین نے مودی سرکار کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ کسان زرعی قوانین واپس لینے کا مطالبہ پر قائم ہیں۔بھارتی یوم جمہوریہ پر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا ، حریت رہنماوں کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی ، عالمی برادری کا مردہ ضمیر جھنجوڑنے کیلئے مظفر آباد، میر پور اور کوٹلی سمیت کئی شہروں میں ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ۔ بھارت 26 جنوری کو 1950 سے ہر سال یوم جمہوریہ کے طور پر مناتا چلا آرہا ہے، اس روز دلی میں جہاں نام نہاد جمہوریت کا بگل بجایا جاتا ہے تو غیر قانونی طور پر قبضہ کئے گئے جموں و کشمیر میں سات دہائیوں سے جمہوری حقوق پر قدغن کے خلاف اس روز کو کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ کشمیری عوام نے کہا ہے کہ خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہلانے والا بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں فوجی قبضے کو دوام بخشنے کی خاطر سنگین غیر جمہوری اقدامات میں ملوث ہے

شیئر کریں

Top