آئینی حقوق اپوزیشن کو بھاگنے نہیں دینگے ،ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس یکم فروری کو طلب

g5-4.jpg

گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں ترقیاتی پروگرام دے رہے ہیں اور یہ سو دنوں کا پلان ہے،پوزیشن اور عوام حکومت کو
ایک سا ل کا موقع دے ہم عوام کو ڈیلور کرکے دکھائیں گے،وزیراطلاعات

اپوزیشن نیشنل پارکس کے قیام پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش مت کرے، عوام کے حقوق کا دفاع نہ کرسکے تو وزارت کو لات ماردیں گے،فتح اللہ،راجہ زکریامقپون اورجاویدمنوا کی مشتر کہ پریس کانفرنس
گلگت(سپیشل رپورٹر)صوبائی وزیراطلاعات فتح اللہ خان نے سینئر صوبائی وزیرراجہ ذکریا مقپون، وزیر خزانہ جاوید منوا،مشیر قانون سہیل عباس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے محرومیوں کے ازالے اورگلگت بلتستان کی تعمیروترقی کے لئے میگا ترقیاتی پروگرام دے رہی ہے وزیراعلی کی قیادت میں ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس یکم فروری کو ہوگااستور ویلی روڈ ،شونٹرٹنل کی تعمیر ،سکردو روڈ کی خپلو تک تعمیر،ایک سو 75آرسی سی پل اور دوسو سسپنشن پلوں کی تعمیر، شغرتھنگ روڈ کی تعمیر، پچاس میگاواٹ عطا آباد پراجیکٹ کی تعمیرسمیت دیگر اہم منصوبے ایپکس کمیٹی میں منظوری کیلئے پیش کئے جائیں گے گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں ترقیاتی پروگرام دے رہے ہیں اور یہ سو دنوں کا پلان ہے اپوزیشن اور عوام حکومت کو ایک سا ل کا موقع دیں ہم عوام کو ڈیلور کرکے دکھائیں گے اپوزیشن تنقید برائے تنقید کی روش چھوڑ کر علاقے کی ترقی کے لئے سوچے مثبت تجاویز پر عمل کریں گے صوبائی وزرا نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو گلگت بلتستان میں اپوزیشن کو دعوت دے رہی ہے کہ آئے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے لئے ہمارا ساتھ دیں مگر اپوزیشن اس مسلئے سے پیچھے بھاگ رہی ہے ہم اپوزیشن کو آئینی حقوق سے پیچھے بھاگنے نہیں دیں گے صوبائی وزرا نے کہا کہ حکومتی وفد اپوزیشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے آئینی حقوق کی ڈیمانڈ تمام جماعتوں کا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہم کسی جماعت کو چھوڑ کرقراداد پاس کریں صوبائی وزیر فتح اللہ خان نے کہا کہ اپوزیشن گلگت بلتستان میں نیشنل پارکس کے قیام پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش مت کریں اپوزیشن لیڈر کی جماعت کو حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد ان کے دماغ میں غصہ ہے اس لئے وہ حکومت کے اچھے کام پر بھی تنقید کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سب سے پہلے خنجراب نیشنل پارک کی منظوری ذوالفقار علی بٹھو نے 1975کو دی ہے جس کے فوائد سے آج عوام مستفید ہورہے ہیں یقینا ذوالفقار علی بھٹو ایک لیڈر تھے جس نے عوام کے فلاح کے لئے ایک اچھا قدم اٹھا یا اسی طرح دوسرے نیشنل پارک کی منظوری 1993میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں دی گئی ہے ہمیں افسوس ہوتا ہے پیپلزپارٹی کے ان وفاقی لیڈر ز کی سوچ کی نفی کرنے والے گلگت بلتستان میں موجود ہیں جو اپنی سیاست کے لئے ویژنری قیادت کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور منفی سیاست پر اترآتے ہیں صوبائی وزرا نے کہا کہ نیشنل پارکس کے قیام کا مقصد عوام کو ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے گلگت بلتستان کی حکومت عوام کی اپنی حکومت ہے جہاں عوام کے حقوق کا دفاع نہ ہوسکے ہم وزارت کو لات ماریں گے ہم سے بڑا علاقے سے مخلص کون ہوسکتا ہے جو اپنے علاقے کی زمینیں ایسے ہی کسی کے حوالے کریں ہم عوام کے ایک ایک انچ مفادات کا تحفظ کریں گے صوبائی وزرا نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حق ملکیت کی تحریک چلانے والے قوم کو جواب دیں کہ کیا بھٹو نے گلگت بلتستان میں نیشنل پارک بناکر عوام کے زمینوں پر ڈاکہ ڈالاتھا؟کیا 1993میں پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت نے دوسرے نیشنل پارک کی منظوری دیکر گلگت بلتستان کے زمینوں پر ڈاکہ ڈالاتھا؟یہ قوم سب جانتی ہے اپوزیشن لیڈر گمراہ کن پروپگینڈے کی پرچار اب نہیں چلے گی صوبائی وزرا نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ایف سی کے کوئی نئے پلاٹون نہیں لائے گئے ہیں پہلے سے موجود پلاٹون کو جنگلات کی حفاظت پر لگایاگیا ہے گلگت بلتستان کی حکومت علاقے سیاحت کے لئے اہم اقدامات کرنے جارہی ہے اور سیاحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں صوبائی وزرا نے کہا کہ حکومت پہلی دفعہ کلین لوگ آئے ہیں جو علاقے کی ترقی کا سوچ رہے ہیں عوام مطعن رہے کہ حکومت فلاح وبہبود کے لئے اقدامات کررہی ہے صوبائی وزرا نے کہا کہ تکیمل شدہ عمارات کے پی سی فورز کی جلد منظوری کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اوربے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقع فراہم کئے جائیں گے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ جاوید منوا نے کہا کہ پہلی دفعہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے دواراب روپے کی ایڈیشنل گرانٹ دی ہے جس کی خرچ کے لئے صوبائی حکومت اپنی مرضی کی ترقیاتی ترجیحات طے کریگی انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لئے ترقیاتی بجٹ کا ہجم بڑھایا جارہاہے اور 30ارب تک بڑھایا جارہاہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لئے سا ت ارب روپے کا گرانٹ منظور ہواہے جس کی پہلی قسط دوارب روپے مل چلے ہیں اور تین ارب روپے کی دوسری قسط مارچ کو ریلیز ہوگی اور تیسری قسط جون کے بجٹ کے ساتھ ملے گی وزیرخزانہ نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے وفاق میں اچھے ریلیشن شب قائم کیا ہے جس نتیجہ یہ ہے کہ وزیراعظم نے مختصر عرصے میں وزیراعلی سے دودفعہ اجلاس کیا اور گلگت بلتستان کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ وفاق کے ساتھ گلگت بلتستان ایک مستقل گرانٹ کے لئے طریقہ کار ترتیب دینے کے لئے کوشش کی جارہی ہے تاکہ آئندہ کے لئے گرانٹ کے لئے وفاق کے ساتھ لابنگ کرنے سے چھٹکارا مل سکے کشمیر طرز پر طریقہ کار ترتیب دینے کے لئے کوشیشیشں کررہے ہیں انشا اللہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
فتح اللہ

شیئر کریں

Top