نیشنل ہمالین دنیا کا واحد پارک جہاں انسانوں کو بھی جنگلی حیات کا حصہ بنا دیا گیا

g5-6.jpg

ہمالیہ اور نانگاپربت نیشنل پارک کی لاکھوں کنال ملکیتی زمین پر نیشنل پارک کس قانون کے تحت بنائے جارہے ہیں ،حکومت نے ناسمجھی میں نوٹیفکیشن کیا

ضلع استور میں ایک انچ زمین بھی خالصہ سرکار نہیں،ملکیتی زمینوں پرڈاکہ ڈالاجارہاہے،عوام کوچوکنارہناہوگا،مولاناعبدالسمیع،عباس موسوی ودیگرکی پریس کانفرنس
گلگت(سپیشل رپورٹر)عمادین استور و سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں مولانا عبدالسمیع ، عباس موسوی، مظفر ریلے ، عبدالرحمن ثاقب، قاسم شہزاد، کاشف بونجوی و دیگر نے سنٹرل پریس کلب گلگت میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ننگا پربت اور ہمالیہ نیشنل پارک دنیا کا واحد پارک بنانے کا نوٹیفکیشن کیا گیا ہے جس میں انسانوں کو جنگلی حیات کے طور پر نیشنل پارک کا حصہ بنایا گیا ہے اور عوام کی لاکھوں کنال عوام کی ملکیتی اراضی کو نیشنل پارک کا حصہ بنایا گیا ۔ جس کا شدید ردعمل سامنے آئیگاصوبائی حکومت نے ناسمجھی میں نیشنل پارک کے قیام کا نوٹیفکیشن کیا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں ھمالیہ اور ننگاپربت نیشنل پارک میں لاکھوں کنال عوامی ملکیتی زمینوں میں نیشنل پارک کس قانون کے تحت بنائے جارہے آینی و قانونی طور پر نیشنل پارک کے قوانین عوامی ملکیتی حقوق سلب کرتے ہے استور کے عوام کا مطالبہ ہے کہ کنزرویشن کے لیے کمیونٹی کنزرویشن ایریا کا ماڈل اپنایا جائے تاکہ عوامی ملکیتی حقوق کا تحفظ یقینی ہوسکے ننگاہ پربت نیشنل پارک اور ہمالیہ نیشنل پارک عوام کی ملکیتی زمین ملکیتی جنگل اور آبادی میں بنایا جارہا ہے گلگت بلتستان میں پہلے جو تین نیشنل پارک بنائے یہ مکمل بنجر اراضی ہے ان میں نہ آبادی ہے اور نہ جنگل موجود ہے نیشنل پارک ڈکلیر کرنے سے پہلے ضلع استور کی عوام بلکل بھی اعتماد میں نہیں لیا ہیں استور میں پہلے سے کنزرویشن کمیٹیاں موجود ہے اور جو کنزرویشن کمیٹی کا دستخط دیکھا رہے ہیں وہ بھی جعلی ہے قمری اور منی مرگ میں بسنے والے بارڈر ایریا میں رہائش پزیر لوگوں نے اس نوٹیفیکیشن کو مکمل مسترد کردیا ہے بین الاقوامی سطح پر رائج پانچ قسم کے کنزرویشن پالیسی موجود ہے اس پالیسی کے تحت کسی بھی علاقے میں جہاں پر عوامی ملکیتی زمین پر کوئی نیشنل پارک نہیں بنایا جاسکتا ہے پاکستان میں جتنے بھی نیشنل پارک بنائے ہیں وہ ریاست کی زمین پر بنے ہیں نیشنل پارک کا ماڈل گلگت بلتستان میں اپنا کر یہاں کی ملکیتی زمینوں پر ڈاکہ ڈالنا چاہتے ہیں گلگت بلتستان کے خلاف بہت بڑی سازش ہونے جارہا ہے پورے گلگت بلتستان کو نیشنل پارک بنانے کیلئے پہلا قدم ہے اپنے حقوق کیلئے چوکس رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے بند کمرے میں بیٹھ کر نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اور عوام کو سرسبز باغ دیکھا رہے ہیں ضلع استور میں ایک انچ زمین بھی خالصہ سرکار نہیں اپنے حقوق کو کسی بھی صورت میں سلب کرنے نہیں دینگے گلگت بلتستان میں موجود تمام وزرا عوامی مسائل سے نابلد ہے انکو عوامی مسائل سے کوئی سروئیکار نہیں ہم اپنے آباو جداد کی ملکیتی زمینوں کو کسی صورت کوڑی داموں میں فروخت کرنے نہیں دینگے انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد استور گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور قوی حقوق کے لیے جدوجہد کی جائے گی ہماری ملکیتی زمینیوں پر قبضہ کیا گیا ہے کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کے ساتھ سڑکوں پر آینگے۔

شیئر کریں

Top